آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍شعبان المعظم1439ھ 26؍اپریل2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
x
اسلام آباد (نمائندہ جنگ)عدالت عظمیٰ نے سندھ میں شراب خانوں کی بندش سے متعلق ہائی کورٹ کے فیصلہ کو معطل کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب قانون موجود ہے تو ہائیکورٹ ایسا حکم جاری نہیں کرسکتی، خلاف ورزی پر پولیس کارروائی کرسکتی ہے،جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے سوموار کے روز کوہستان وائین شاپ اور رائل وائن شاپ وغیرہ کی درخواستوں کی سماعت کی توجسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ 1979 میں ملک میں شراب فروشی پر پابندی لگائی گئی تھی، لیکن جب اس حوالہ سے قانون موجود ہے تو ہائی کورٹ ایسا حکم جاری نہیں کرسکتی ہے، اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو متعلقہ پولیس اس کے خلاف کاروائی کرسکتی ہے اور اگر موجودہ حکم کے بعد بھی کوئی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی بھی کی جاسکتی ہے،دوران سماعت اقلیتی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ ہندو مذہب میں بھی شراب نوشی پر پابندی ہے جبکہ ایسے کئی شراب خانے ہیں جو مسجد، مندر اور گرجا گھروں کے قریب  واقع ہیں، انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ سندھ حکومت کا ہائی کورٹ میں جواب آنے تک اس پر سے پابندی نہ اٹھائی جائے، تاہم فاضل عدالت نے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو معطل کرتے ہوئے  اپیل کو

x
Advertisement

سماعت کے لیے منظور کر لیا اور متعلقہ آفس کو مقدمہ کو تین ہفتے کے اندر اندرسماعت کے لئے 3 رکنی بینچ میں لگانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ملتوی کردی۔  11مارچ کو سندھ ہائی کورٹ نے شراب کی 120 دکانوں کو بند کرنے کا حکم دیتے ہوئے یکم اپریل تک سندھ حکومت سے شراب کی دکانوں کے لائسنس سے متعلق رپورٹ طلب کی تھی،جس پر شراب خانوں کے مالکان نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

​​
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں