آپ آف لائن ہیں
پیر9؍ذیقعدہ 1439ھ 23؍جولائی2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی ( اعجاز احمد،اسٹاف رپورٹر) کراچی میں عید کے تیسرے روز ہونے والی مون سون کی پہلی بار ش جہاں شہریوں کیلئے خوشی کا باعث بنی، وہیں شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی نے شہریوں کو شدید پریشانی میں بھی مبتلا کر دیا اور ہ رات گئے تک سڑکوں پر ٹرانسپورٹ کی تلاش میں سرگرداں نظر آئے۔ شہر میں اس وقت پبلک ٹرانسپورٹ کا کوئی باضابطہ اور منظم نظام موجود نہیں۔ سرکاری سطح پر شہر میں بڑی بسیں چلائی جارہی ہیں نہ کوچز اور منی بسیں چل رہی ہیں، البتہ بہت کم تعداد میں نجی شعبے کے تحت چلنے والی بسوں، کوچز، منی بسوں اور چنگ چی رکشہ نے شہریوں کو برائے نام سفری سہولت مہیا کی ہوئی ہے، جو بارش کے آغاز کے ساتھ ہی سڑکوں سے غائب ہونا شروع ہو گئیں اور رات تک پبلک ٹرانسپورٹ قریباً مکمل طور پر بند ہوچکی تھی، جس کے باعث پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے عید ملنے کے لیے اپنے رشتے داروں کے گھر جانے والوں یا تفریح گاہوں کا رخ کرنے والے شہریوں کو اپنے گھروں تک لوٹنے میں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا اور وہ بغیر میٹر شہر میں چلنےوالے رکشہ ڈرائیوروں کو منہ مانگا کرایہ ادا کر کے کافی تاخیر سے رات گئے تک اپنے اپنے گھر پہنچے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کراچی سے ٹیکسیاں تو ناپید ہوگئی ہیں اور ٹیکنا لوجی سے عدم واقفیت کی وجہ سے ہر شخص آن لائن ٹیکسی سروس سے

فائدہ نہیں اٹھا سکتا، جبکہ رکشہ مافیا اتنی مظبوط ہے کہ وہ نہ صرف میٹر کے بغیر شہر میں دندناتے پھرتے ہیں بلکہ منہ مانگا کرایہ وصول کئے بناء عوام کو ان کی منزل تک پہنچانے سے صاف انکار کردیتے ہیں۔ انہوں نے گورنر سندھ، وزیراعلیٰ، وزیر ٹرانسپورٹ، میئر کراچی اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ ماضی کی طرح کراچی ٹرانسپورٹ کارپوریشن(کے ٹی سی) کے تحت شہر میں بڑی اور جدید بسیں جلدازجلد چلائیں تاکہ شہریوں کو نسبتاً بہترا ور سستی سفری سہولتیں میسر آسکیں، نیز بغیر میٹر چلنے والے رکشہ، ٹیکسی کو قانون کے دائرے میں لائیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں