آپ آف لائن ہیں
جمعرات5؍ذوالقعدہ 1439ھ19؍جولائی 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لندن (پی اے)گزشتہ سال برطانیہ میں رہنے والے دس شہریوں میں سے ایک غیرملکی تھا۔ یہ انکشاف ایک بڑی بین الاقوامی رپورٹ سے ہوا۔ آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈویپلمنٹ کے مطابق 2015ء اور 2016ء کے درمیان تعداد 6اعشاریہ 4فی صد بڑھ کر 5اعشاریہ 95ملین ہوگئی جس کا مطلب ہے کہ آبادی کے 9اعشاریہ فی صد حصےکا تعلق سمندر پار سے تھا۔ تھنک ٹینک کے انٹرنیشنل مائیگریشن آئوٹ لک رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال اسائلم کی درخواستیں 7فی صد کمی کے ساتھ 30ہزار 6سو رہ گئی جو 2010ء کے بعد پہلی کمی ہے۔ مزید ایرانیوں نے 4780کی تعداد میں اسائلم کے دعوےٰ دائر کئے جس کے بعد پاکستانیوں نے 3701اور عراقیوں نے 3644دعوے داخل کئے۔ برطانیہ جرمنی کے ساتھ رومانیہ کے دو تہائی پناہ گزینوں کی منزل رہا۔ برطانیہ سے جانے والوں نے آسٹریلیا، سپین، جرمنی اور نیوزی لینڈ کا رخ کیا جب کہ نئے گھر کے لئے سفر کرنے والے اطالوی باشندوں نے جرمنی کا انتخاب کیا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں