آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آخر کار وہ لمحہ آن پہنچا ہے جس کے بارے میں ٹیلی وژن کی اسکرینیں اور اخبارات کے صفحہ اول ہمیں بہت عرصے سے آگاہ کر رہے تھے کہ دس جولائی کو سپریم کورٹ کی جانب سے قائم کی جانے والی جے آئی ٹی کو اپنی حتمی رپورٹ جمع کروانے کے لئے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہو جائے گی۔ پچھلے دو ماہ کے عرصے میں وزیر اعظم پاکستان اور ان کے خاندان کے دیگر افراد سمیت مختلف سرکاری محکموں کے سربراہان بھی جے آئی ٹی کے سامنے تحقیقات کی غرض سے پیش ہوئے۔ان کے سامنے تیرہ سوال موجود تھے جن کا تعین سپریم کورٹ آف پاکستان نے کیا تھا ، کچھ لوگوں کے نزدیک تیرہ کا ہندسہ منحوس ہوتا ہے۔ تبھی سے کچھ لوگوں کو کھٹک گیا تھا کہ جو ہونے والا ہے وہ شاید شریف خاندان کے لئے اچھا نہ ہو۔ جے آئی ٹی کی تفتیش کو تمام عرصے کے دوران اگرچہ خفیہ رکھا گیا اور کیمرہ بند کیا گیالیکن اس کے باوجود بہت سی ایسی باتیں باہرزیر بحث آئیں جن کی بناپر بعض افراد نے جے آئی ٹی کی تشکیل پر سوالیہ نشان اٹھانے کی کوشش کی۔ میری معلومات کو لیک کرنے والی طاقتور قوتوں تک کچھ خاص رسائی بھی نہیں ہے اس لئے میں جے آئی ٹی کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات کے بارے میںزیادہ نہیں لکھوں گا۔ ابھی تک جے آئی ٹی کی جانب سے جن افراد کو تفتیش کے لئے بلایا گیا ان میں سے زیادہ تر کا تعلق کسی نہ کسی طرح

سے حدیبیہ کیس سے بھی رہا ہے۔ اس ساری تفتیش میں ایک شہزادے کا تذکرہ بہت آیا جس کے خط میں یہ تحریر کیا گیا تھا کہ ان کے اور نواز شریف کے والد نے مل کر کاروبار کیا اور اس کی تقسیم کی بنیاد پر ملنے والی رقم سے وہ فلیٹ شریف خاندان کی ملکیت بنے۔
جے آئی ٹی نے اس کیس کے حوالے سے تمام افراد کو طلب کر کے ان کے بیانات قلمبند کئے ، اب سب کچھ قطری شہزادے حماد بن جاسم بن جابر التھانی پر منحصر تھا کہ وہ اپنے خط کے حوالے سے جے آئی ٹی کے روبرو تفتیش کا سامنا کریں۔ جے آئی ٹی نے اس حوالے سے قطری شہزادے کو آخری خط لکھ دیا ہے اور کہا ہے کہ آپ پاکستانی دائرہ اختیار تسلیم کر چکے ہیں اور اب انکار نہیں کر سکتے ،آپ کے جے آئی ٹی کے سامنے بیان ریکارڈ نہ کروانے کی وجہ سے جو موقف آپ نے پانچ نومبر اور بائیس دسمبر کو خط کے ذریعے اختیار کیا تھا وہ کمزور ہو رہا ہے اور جواب میں تاخیر کی وجہ سے وقت بھی ضائع ہو رہا ہے۔ اسی دوران حسین نواز نے کوشش کی کہ وہ خود جا کر قطری شہزادے سے ملاقات کریں تاکہ کوئی ایسا راستہ نکل سکے جس سے ان کے موقف کی تائید ہو سکے لیکن یہ ملاقات نہ ہو سکی ممکن ہے کہ یہ ملا قات اب لندن میں ہوجائے۔ صورتحال یہ ہے کہ قطر میں پاکستانی سفیر بھی رخصت پرچلے گئے ہیں اور قطری شہزادے نے بھی یہ کہہ دیا ہے کہ وہ جے آئی ٹی کو جواب دینے کو تیار نہیں۔ حالانکہ جے آئی ٹی نے انہیں ای میل کے ذریعے بھی جواب دینے کی اجازت دے دی تھی تاکہ انصاف کے تمام تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔
اب کیا ہونے جا رہا ہے ؟ پچھلے دنوں وزیر اعظم نے اپنے ساتھ قازقستان جانے والے صحافیوں سے گفتگو میں اس بات کا کھل کر اظہار کیا تھا کہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے ،یہ سی پیک منصوبے کو ناکام کرنے کے لئے ایک بین الاقوامی سازش کا حصہ ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ میں ہر قیمت پر ڈٹ کر اس کا مقابلہ کروں گا خواہ نتائج کچھ بھی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے یہ بھی سوچا تھا کہ نئے انتخابات کروا دوں مگر میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ میرے اس فیصلہ سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کا فائدہ ان عناصر کو ہو گا جو ملک کو بد ترین اقتصادی بحران کا شکار کرنا چاہتے ہیں۔ ہم نے کاروبا رکیا ہے، ہم کاروباری لوگ ہیں اور ہر کاروباری شخص اپنی مرضی سے سرمایہ کاری کرتا ہے۔ گزشتہ روز انہوں نے ایک مرتبہ پھر اپنے ساتھ تاجکستان جانے والے صحافیوں کے وفد کو یہ بتایا کہ ایٹمی دھماکے کرنے کی ان کو سزا دی جا رہی ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف لڑنے کے لئے تیار ہیں۔ دوسری جانب ان کے سب سے بڑے مخالف عمران خان نے ایک نیا مطالبہ کر دیا ہے کہ وزیر اعظم نام لے کر بتائیں ان کے خلاف سازش فوج کر رہی ہے یا سپریم کورٹ۔ ۔۔ اس سوال کا جواب کون دے گا اور کیا دے گا اس سے موجودہ بحران اور گہرا تو ہو سکتا ہے ختم نہیں ہو سکتا۔
پاکستان میں ایک نیا بحران ایک اور شخص نے پیدا کر دیا ہے اور وہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا قائم مقام گورنر تھا،ان کے خیال میں روپے کی موجودہ قیمت مصنوعی تھی اور اس کی ویلیو میں کمی ناگزیر تھی۔ جبکہ اسحق ڈار نے اس عمل کو ملکی معیشت کے خلاف ایک بد ترین سازش قرار دیا ہے۔ اب آنے والے دنوں میں ایک طرف پاکستان معاشی دبائو کا شکار نظر آتا ہے دوسری طرف سیاسی طوفان تھمتا نظر نہیں آتا۔ ان حالات میں میں سمجھتا ہوں کہ کھیل ابھی جاری رہے گا۔۔۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد جرم میں ملوث افراد کے خلاف ریفرنس دائر ہونے کے امکانات موجود ہیں اور ان ریفرنسز کا فیصلہ شاید کئی سالوں میں ہو گا کیونکہ پاکستان کے عدالتی قوانین میں سقم ہے، تمام تفتیشی ادارے اپنی نا اہلی کا ثبوت بارہا دے چکے ہیں۔ پاناما لیکس کو ہی لیںاس میں تین سو ننانوے دیگر افراد کے نام بھی تھے مگر مجال ہے کہ ہمارے تفتیشی اداروں نے ان میں سے کسی ایک کے خلاف بھی تحقیقات کا آغاز کیا ہو اور پوچھا ہو کہ ان کے پاس مال و دولت کہاں سے آیا؟
جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد اہم بات یہ ہو گی کہ اگر ریفرنسز دائر ہوتے ہیں تو کیا ان ریفرنسز کے منطقی انجام تک پہنچنے سے پہلے ہی ملوث افراد کو رخصت کر دیا جائے گا یا فیصلہ آنے تک انہیں اپنا کام جاری رکھنے دیا جائے گا تاکہ نظام مملکت کسی دھچکے کا شکار نہ ہو۔لیکن ایک اور اہم بات بھی ہونے والی ہے جو عمران خان کے حوالے سے ہوسکتی ہے ۔الیکن کمیشن آف پاکستان ان کیخلاف فیصلہ دے سکتا ہےتو پھر کیا ہوگا کیا پھر وہی ہوگا جس کا اعلان عمران خان کئے جارہے ہیںکہ دس جولائی کے بعد عوام سڑکوں پر نکلیں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں