آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ8؍ ربیع الثانی 1441ھ 6؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کشمیر ایک ایسا گلشن ہے جس کو ہزاروں کشمیریوں نے اپنا خون دے کر سینچا ہے ، وہاں لہو رنگ گلاب آزادی کے سورج کی کرنوں سے چٹخنے کے منتظر ہیں ،اس باغ کے احاطے میں کئی کلیاں کھلیں اور بہت سی کھلنے سے پہلے ہی مرجھا گئیں ،کچھ کلیوں کو مسل دیا گیا اور باقی کلیاں حیا کے پتوں میں اپنی رعنائیاں چھپائے بیٹھی ہیں ،اِس چنار وادی میں گولیوں کی تڑتڑاہٹ پرموت نوجوان لاشوں پر محو رقص ہے ،اور دُنیا میں امن کے ٹھیکیدار اِس رقص پر دادِعیش دے رہے ہیں ، گھروں میں ماتم اور والدین اپنی اولاد کی جدائی میں نوحہ کناں ،ایک ہُو کا عالم ہے اور سارا عالم یہ سب کچھ دیکھ رہا ہے ،خوشبوئوں کی اِس سر زمین کو بارُود کی بدبو سے گدلا کر دیا گیا ہے ،صحت مند فضاؤں کے باسیوں کو ذہنی اور جسمانی بیمار کر دیا گیا ہے ،آزاد ی سے سانس لینے کی حسرت لئے کتنے بے گناہ قیدی زندگی کی بازی ہار چکے ہیں ، جہاں حق مانگنا جرم اور آواز بلند کرنا بغاوت قرار دے دیا گیا ہو ،جی ہاں میں اُسی کشمیر کی بات کر رہا ہوں جہاں آزادی کے سورج کو انڈین آرمی اور بھارتی سرکار کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم ، بربریت اور تشدد سے لبریز کالی گھٹاؤں نے ڈھانپ رکھا ہے ،آزادی کے سویرے کا خواب دیکھنے والوں کو اندھا کیا جا رہا ہے ،بچوں ، نوجوانوں ، بوڑھوں اور خواتین کو بغیر کسی

جرم اور قصور کے قید کیا جا رہا ہے ، سینکڑوں ماں باپ بھارتی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے اپنے بیٹوں کی راہ میں آنکھیں بچھائے اُن کا انتظار کر رہے ہیں لیکن انہیں شاید معلوم نہیں کہ وہ بیٹے اپنی دھرتی ماں پر قربان ہوچکے ، وہ کبھی واپس نہیں آئیں گے ،یہ انسانیت سوز سلوک دیکھ کر نہ زمین پھٹ رہی ہے اور نہ ہی آسمان نے اپنا رنگ بدلا ہے ، لگتا ہے کہ زمین و آسمان پر بھی دنیا کی بڑی طاقتوں کا رنگ چڑھ گیا ہے ،وہ بھی خاموش ہو گئے ہیں ،لیکن کب تک ؟ ستم ظریفی یہ کہ پہلے کشمیر میں پیلٹ گن اور رائفلیں گولیاں اگلتی تھیں لیکن اب کشمیر کے دیہات’’ بامنو‘‘ اور ’’کاکہ پورہ ‘‘میں بھارتی افواج نے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے ،بھارتی افواج پہلے ہی جموں و کشمیر میں عام شہریوں کا ایک منصوبہ بند طریقے پر قتل عام کر رہی ہے اور اب کیمیکل ہتھیاروں کے ذریعے کشمیریوں کو مار کر اُن کی لاشوں تک کو جلانے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے ۔کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کرنے کی رپورٹوں نے صورتحال کو زیادہ دھماکا خیز بنا دیا ہے اور اِس سے کشمیریوں کے درمیان تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ، کشمیری اب اپنے گھروں میں بھی خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگے ہیں ڈر اور خوف کی وجہ سے وہ گھٹن کا شکار ہو گئے ہیں حالانکہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ’’ ویپنز کنونشن ‘‘اور دوسرے بین الاقوامی قوانین کی سراسر خلاف ورزی ہے ،جو نوجوان کیمیائی ہتھیاروں کی زد میں آ جاتے ہیں اُن کی لاشیں ناقابل شناخت ہو جاتی ہیں ، پھر بھی دُنیا کی بڑی طاقتیں اور اقوام متحدہ خاموش ہے چاہئے تو یہ کہ کیمیائی ہتھیاروں کو استعمال کرنے کے حوالے سے انڈیا سے باز پرس کی جائے کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے ؟ لیکن پوچھے گا کون ؟ کشمیری برادری دُنیا کے کسی بھی ملک میں مقیم ہے وہ کشمیر میں اپنے بہن بھائیوں پر ہونے والے مظالم سے بخوبی واقفیت رکھتی ہے ،کشمیری کمیونٹی اپنے اوپر ہونے والے مظالم کا ذکر دوسرے ممالک میں رہتے ہوئے وہاں کی کمیونٹی کے ساتھ کرتی رہتی ہے تاکہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی آواز دُنیا بھر کے ایوانوں میں گونجے اور یورپی ممالک ، امریکا ، کینیڈا ، جنوبی ایشیائی ممالک ، جی ٹونٹی ممالک، یورپین پارلیمنٹ اور اقوام متحدہ جیسی با اثر طاقتیں انڈین آرمی کو بربریت اور سفاکی سے روکیں۔آج کل صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان یورپی ممالک کے دورہ پر ہیں ، انہوں نے برطانیہ کا دورہ کیا ہے ، وہاں کشمیری کمیونٹی کو اکھٹا کیا اور انہیں کہا کہ وہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کی آواز مقامی اداروں تک پہنچائیں ،سابقہ ادوار میں دیکھا گیا ہے کہ کشمیر کے صدور اور وزراء اعظم یورپی ممالک کے دورے پر آئے تو انہوں نے کشمیری کمیونٹی کو ہی اپنا پیغام دینے کی کوشش کی ، یہ اچھی کوشش ہے کہ کشمیری کمیونٹی میں ولولہ پیدا کیا جائے ، لیکن میں صدر آزاد کشمیر کو کہنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنے دورہ جرمنی ، بلجیم (برسلز ) اور خاص کراسپین کے دورہ پر کشمیری کمیونٹی کے ساتھ ساتھ ہسپانوی بڑے اخبارات کے مالکان یا ایڈیٹرز ، حکومتی نمائندوں ، مقامی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں اور عہدیداران ، ہسپانوی تھنک ٹینکس ، سول سوسائٹی اور ہسپانوی اداروں میں اپنی میٹنگز یقینی بنائیں ، سفارت خانہ پاکستان میڈرڈ کے ساتھ مل کر کشمیر کاز کو مقامی کمیونٹی تک پہنچایا جائے تاکہ مقامی لوگ کشمیر کے مسئلے کو اپنے گھروں ، دفاتر ، دکانات اور اداروں میں زیر بحث لائیں ، ہسپانوی پارلیمنٹ کے ممبران سے ملاقاتیں کریں اور انہیں بتائیں کہ کس طرح انڈیا افواج کشمیر میں انسانیت کے تقدس کو پامال کر رہی ہیں ، کس طرح وہ معصوم لوگوں کو قتل کر رہی ہیں اور کس طرح بیٹیوں کی عصمت دری کی جا رہی ہے ۔ اِ س سے یہ ہو گا کہ مسئلہ کشمیر اور وہاں ہونے والے مظالم کا چرچا ہر زبان پر ہوگا ،یورپی ممالک کی پارلیمنٹ ،سرکاری اداروں تک اس مسئلے کو پہنچانا وقت کی اہم ضرورت ہے ،صدر آزاد کشمیر کو چاہئے کہ وہ وفود کی شکل میں یورپین سیاستدانوں سے ملاقاتیں کرکے انہیں کشمیر میںبھارتی فورسز کی جانب سےظلم و ستم سے کشمیریوں کی زندگیوں کو اجیرن بنانے کی سازش کے بارے میں بتائیں ۔تاکہ دُنیا کو معلوم ہو کہ انڈیا جھوٹا اور بے بنیاد واویلا کر تا ہے جس میں وہ کہتا ہے کہ کشمیر ی دہشت گرد ہیں ، کیاخالی ہاتھ دہشت گردی کی جا سکتی ہے ؟ غلیل اور پتھروں سے کون سی دہشت گردی کی جا سکتی ہے ؟ دُنیا بھر کے ممالک کو یہ سمجھانا انتہائی ضروری ہے کہ کشمیری دہشت گرد نہیں بلکہ وہ خود انڈین آرمی کی دہشت گردی کا شکار ہیں ۔
خدا تمہارا نہیں ، خدا ہمارا ہے
اُسے زمیں پہ یہ ظلم کب گوارا ہے
نشاں کہیں نہ رہے گا تمہارا شیطانو
ہمیں یقیں ہے انساں اُسے پیارا ہے