آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لیجئے ایک اور بم دھماکہ چھٹی مردم شماری نے ظاہر کر دیا۔ جی ہاں! یہ بم دھماکہ سب سے مہلک ہے: زمین کیلئے، قدرتی ذرائع کیلئے، ملکی خوشحالی کیلئے، وطن کی سلامتی کیلئے اور سب سے بڑھ کر انسانوں کی بھلائی کیلئے۔ اور یہ ہے آبادی کا دھماکہ۔ 19 برس میں ہم تیرہ کروڑ سے تقریباً 21 کروڑ (20 کروڑ 78 لاکھ) ہو گئے ہیں۔ پہلے ہی کیا ہماری بھاری اکثریت کیلئے زندگی کرنے کا عذاب کیا کم تھا کہ اب مزید آٹھ کروڑ لوگوں کا بوجھ آن پڑا ہے۔ البتہ لڑکیوں کی پیدائش کو عذاب سمجھنے والے حضرات کی دُختر کُشی یا پھر پدر شاہی نظام میں عورتوں سے کی جانے والی زیادتیوں کے باعث اب عورتوں کی تعداد کم ہو چلی ہے۔ اکثر بچیوں کا قتل شکمِ مادر میں ہی کر دیا جاتا ہے۔ اب اگر 105 مرد ہیں تو عورتیں فقط 100۔ ایک طرف بچیوں کی پیدائش پہ نوحہ خواں اور دوسری جانب کثیر الزوجگی پہ اصرار۔ کوئی ہے جو اس منافقت کو فاش کرے؟ پہلے ہی پاکستان کے پاس قدرتی وسیلے محدود ہیں اور علاقہ بھی متعین۔ آخر آبادی میں اسی رفتار سے اضافہ ہوتا رہا تو ان حشرات الارض کا کیا ہوگا۔ فقط اللہ پر چھوڑنے سے مملکت اور حکومتوں کی آبادی اور خاندان کی منصوبہ بندی سے مجرمانہ غفلت پہ پردہ نہیں ڈالا جا سکتا۔ بچے زیادہ سے زیادہ پیدا کرنے کی جہالت میں کیا ہم بھول گئے ہیں کہ اِس مملکت خداداد میں دو

تہائی سے زیادہ لوگ غربت کی لکیر کے اُوپر نیچے ہیں۔ 84 فیصد کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں، ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ آدھی سے زیادہ آبادی ناخواندہ اور تقریباً 99 فیصد جاہل ہیں۔ 44 فیصد بچے ذہنی و جسمانی طور پر لاغر ہیں، 55فیصد بچے غیرصحت مند ہیں اور بیروزگاروں، بیکاروں، لاغروں، جاہلوں، کنگالوں اور غریبوں کا ایک جمِ غفیر ہے جو ہم سے زندگی کی بنیادی سہولتوں، صحت و تعلیم، پانی، ایندھن، مناسب خوراک، اچھا ماحول اور چھوٹی موٹی خوشیوں کا تقاضا کر رہا ہے۔ لیکن اُن کی آہ و بُکا سننے والا کوئی نہیں، نہ جمہوریت پسند، نہ آمریت پسند، نہ سرکار، نہ عدالتیں، نہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور نہ سلامتی کے محافظ۔ ایک طرف امیروں کی عالیشان نجی اور ڈیفنس کی بستیاں ہیں جہاں جدید زمانے کی ہر سہولت اور آسائش موجود ہے اور دوسری طرف کروڑوں گھروندے ہیں جہاں غلاظت ہے، تاریکی ہے، بھوک و افلاس ہے، جہالت ہے، بیماری ہے، آہیں ہیں اور اُمید کی کوئی کرن بھی نہیں۔ آخر ایسا کیوں ہے؟ اور ہم کب تک اپنے مقدروں کو کوستے رہیں گے؟
اگر کسی بستی میں آبادی کی انسانی سلامتی و خوشحالی نہیں تو وہ بستی کیسے آباد رہ سکتی ہے؟ اس کی نہ حکمران جماعتوں کو فکر ہے، نہ مقتدر اداروں کو۔ امرا کی ترقی اور ریاستی طاقت کے فروغ کے پاکستان کے سیاسی و معاشی ترقی کے ماڈل میں عوام الناس کی کوئی گنجائش ہے نہ کوئی مواقع۔ استحصالی اشرافیہ اور مقتدر اداروں کو بس اگر فکر ہے تو اپنی، بھاڑ میں جائے عوام کی سلامتی۔ اگر ترقی و معاشی نمو کا تصور ہے تو بس اتنا کہ امیر امیر تر ہوتے جائیں اور سول و ملٹری بیوروکریسی اَور بھاری بھر کم ہوتی جائے۔ اوّل تو امیر لوگ ٹیکس دینے کو تیار نہیں (آدھی سے زیادہ کارپوریٹ کمپنیاں ٹیکس ریٹرنز ہی جمع نہیں کراتیں، تاجر دمڑی دینے کو تیار نہیں اور زمیندار اشرافیہ کو ٹیکس معاف ہے) اور جو ریونیو اکٹھا بھی ہوتا ہے تو وہ یا تو بے ثمر قرضوں کی نذر ہو جاتا ہے، یا پھر فوجی سلامتی پر اور مانگے تانگے کے پیسوں سے کار سرکار کا دھندہ چلایا جاتا ہے۔ جو نام نہاد ترقیاتی بجٹ ہوتا ہے، اس کا بڑا حصہ بھی امرا کی جیبوں میں چلا جاتا ہے۔ سرمائے کا چند ہاتھوں میں ارتکاز اس بنیاد پر ہے کہ عوام کی عظیم اکثریت اسے پیدا کرنے کے باوجود اس سے محروم رکھی جائے۔ ہماری ترقی کا ماڈل بس دو بڑے مراکز تک محدود ہے اور وہ ہیں کراچی اور وسطی پنجاب۔ بھلا ایسے استحصالی نظام میں لوگ جئیں تو کیسے؟ نہ محنت کا صلہ اور نہ کسی کام کا گزارہ۔ زور اس بات پر ہے کہ ہم پانچویں بڑی نیوکلیئر اور فوجی طاقت ہیں جو ہر ہمسائے سے دست و گریباں ہے اور یہ بھلاتے ہوئے کہ ہم ایک مفلوک الحال قوم ہیں۔ ہم سلامتی کی جنگجو ریاست تو ضرور ہیں، لیکن اس میں عوام کی سلامتی اور بھلائی کی کوئی گنجائش نہیں۔ پھر بھلا کوئی آبادی کی منصوبہ بندی کیا خاک کرے اور خاندانی منصوبہ بندی تو ویسے ہی حرام قرار دی گئی ہے۔
کیا المیہ ہے کہ آبادی کا بم پھٹ پڑا ہے اور کسی پارٹی، کسی میڈیا، کسی عالم، کسی جج اور کسی جرنیل کو مجال ہے کہ فکر لاحق ہوئی ہو۔ اگر کوئی مباحثہ شروع بھی ہوا ہے تو وہ اس پر کہ ہماری آبادی کیوں نہیں بڑھی اور یہ بھولتے ہوئے کہ جو پہلے سے موجود ہیں اُن کے تن پر آپ نے کوئی کپڑا یا اُن کا کوئی نوالہ آپ نے چھوڑا ہے۔ مختلف قومیتوں اور لسانی گروہوں کے نمائندہ حضرات کو فکر ہے تو قابلِ تقسیم ٹیکسوں میں اپنی آبادی کی بنیاد پر اپنا حصہ بڑھانے کی۔ بھلا کسی کے جائز حصے پر کوئی کیوں اعتراض کرے گا، لیکن اس کے لئے آبادی کے بم کی تباہ کاری کی شرح میں اضافے کا مدعا مضحکہ خیز نہیں تو کیا ہے؟ میرے دوست سندھی قوم پرست اور پیپلز پارٹی کے رہنما نثار کھوڑو نے ’’سندھ کے خلاف سازش‘‘ کو خوب بھانپا ہے، اس کے باوجود کہ سندھ کی آبادی میں اضافہ قومی شرح سے تھوڑا زیادہ ہی ہے۔ (2.41 فیصد) اور سندھیوں کا پاکستان کی کل آبادی میں تناسب (23 فیصد) اتنا ہی ہے جتنا 1998ء میں تھا۔ اُن کے ساتھ دُہائی میں اگر شامل ہوئے بھی ہیں تو ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار لیکن سندھی مخالف بنیاد پر کہ شہری آبادی، خاص طور پر کراچی کی آبادی، جتنی زیادہ بڑھنی چاہیے تھی بڑھی نہیں۔ حالانکہ سندھ واحد صوبہ ہے جس کی اکثریت (52 فیصد) اب شہروں میں رہتی ہے۔ لیکن ہمارے مہاجر خلوت پسند شاید بھول بیٹھے ہیں کہ اب سندھی شہروں میں اُردو بولنے والے مہاجروں کی اکثریت نہیں رہی۔ جتنی کراچی کی آبادی بڑھے گی، اُتنی ہی مہاجروں کی تعداد نسبتاً کم ہوتی جائے گی۔ اُن کی حمایت میں اگر اُترے بھی ہیں تو ہمارے کراچی کے سماجیاتی دانشور جنہوں نے شہری علاقے کی انتظامی تعریف کا معاملہ اُٹھا کر کراچی کی آبادی میں کم اضافے کا رونا رویا ہے۔ رونا تو انہیں اس پہ چاہئے کہ گزشتہ بیس تیس سالوں میں کراچی کا جو حشر لسانی دہشت گردوں اور بعد ازاں فرقہ پرست دہشت گردوں نے کیا تو کراچی کی جانب انخلا کی بجائے۔ اُلٹا لوگ کراچی سے بھاگنے کے رستے تلاش کرنے لگے۔ پھر بھی کراچی کی آبادی میں 60 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ اس میں منگھوپیر اور مغربی کراچی شامل نہیں ہیں۔
فاٹا کے لُٹے پٹے لوگوں کا سوال اپنی جگہ، لیکن آبادی کے بم سے سب سے زیادہ فیضیاب ہمارے خیبرپختون خوا اور بلوچستان کے پشتون علاقے ہوئے ہیں۔ اس فیضیابی میں فاٹا سے لوگوں کا شہروں کی جانب انخلااور افغان مہاجرین کی بڑی بڑی تعداد کا مردم شماری سے فیض پانا ہے۔ خیبرپختون خواکی آبادی ہماری دُعاؤں کے طفیل 2.89 فیصد کی سالانہ رفتار سے بڑھی ہے، جبکہ کوئٹہ ڈویژن کی آبادی تقریباً تگنی ہو گئی ہے۔ (سترہ لاکھ بیس ہزار سے بیالیس لاکھ)۔ یوں پختونوں کو نیشنل فنانس کمیشن سے آبادی کی بنیاد پر مالی وسائل بھی زیادہ ملیں گے اور قومی اسمبلی میں پانچ چھ نشستیں اور مل جائیں گی۔ اگر کوئی آبادی کے تناسب میں اپنے ہی صوبے میں پیچھے رہ گیا ہے تو وہ غریب بلوچ ہیں۔ ژوب اور نصیر آباد میں یہ کمی 2.1 فیصد، قلات اور سبی میں 1.6 فیصد اور مکران میں 0.6 فیصد ہے۔ بلوچ قوم پرست رہنماؤں نے پہلے ہی جائز اعتراض کیا تھا کہ افغان مہاجر مردم شماری میں شامل کر لئے جائیں گے اور غالباً ایسا ہی ہوا ہے۔ اس سے بلوچوں میں پختونوں سے علیحدہ صوبے کی آس بڑھے گی۔ لیکن شاید پہلی بار پنجاب اچھے گھاٹے میں رہا ہے اور اس کی آبادی میں بڑھوتری کی شرح قومی اضافے کی شرح سے کم رہی ہے (2.13 فیصد)۔ اس طرح کل آبادی میں پنجاب کا تناسب 55.6 فیصد سے کم ہو کر 52.9 فیصد رہ گیا ہے۔ اسی تناسب سے پنجاب کا مالی حصہ کم ہوگا اور پانچ یا چھ قومی اسمبلی کی نشستیں بھی کم ہو جائیں گی۔ لیکن آبادی کا ایک بڑا ہجوم لاہور (اکیاون لاکھ سے ایک کروڑ گیارہ لاکھ) اور اس کے اردگرد کے اضلاع گوجرانوالہ، شیخوپورہ، فیصل آباد، سیالکوٹ اور اوکاڑہ میں جمع ہو گیا ہے۔ یوں وسطی پنجاب سیاست اور معیشت کا موثر ترین مرکز بن گیا ہے۔ ظاہر ہے سرائیکی وسیب میں اس پر ردّعمل آئے گا جو ترقی میں عدم شمولیت اور تختِ لاہور کے استحصال کا شاقی ہے۔ گو کہ ملتان، بہاولپور، ڈیرہ غازی خاں اور سرگودھا کی آبادی اب پنجاب کی آبادی کا 46.71 فیصد ہے، اس کی محرومی و پسماندگی پر سرائیکیوں کا غصہ وسطی پنجاب کی چمک دمک کے باعث کچھ زیادہ ہی بڑھتا نظر آتا ہے۔ نتیجتاً سرائیکی صوبے کی تحریک چلانے کے لئے لوگ بیتاب بیٹھے ہیں۔
طبقاتی محرومیوں کے ساتھ ساتھ یقیناًبہت وسیع علاقائی نابرابریاں بھی ہیں جنہیں دور کرنا ضروری ہے۔ لیکن محروم علاقوں کے وڈیرے اور سردار کونسا اپنے علاقوں کو اپنی غلامی سے آزاد دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ تو بس اپنے حصے کیلئے سرگرداں ہیں اور اُن کے ہاری، اُن کی رعایا اُن کی غلامی کا بھاڑ جھونکتی ہے۔ آبادی کے بم پر قابو پانا ہر جگہ ضروری ہے اور خاندانی منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ آبادی کی خوشحالی، روزگار، صحت و تعلیم اور خوشی کیلئے منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔ اگر ایسا نہ ہوا تو نوجوانوں اور غریبوں کا جمِ غفیر بپھر کر ایسے استحصالی نظام کی اینٹ سے اینٹ بجا سکتا ہے جس میں اس کی کوئی جگہ نہیں۔ لیکن کیا ریاست و سیاست و معیشت بدلنے کو تیار ہے؟ افسوس کہ آبادی کے بم سے نپٹنے کو سیاست و ریاست کے پاس دل نہیں!
(وضاحت: وجاہت مسعود نے اپنے کالم میں طالبان کے حوالے سے جو تشخیص مجھ سے منسوب کی ہے میں اس دروغ کی تردید کرتا ہوں۔)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں