آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 7؍ربیع الثانی 1440ھ 15 ؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

23ستمبر، 2010ء امریکی تاریخ کا وہ بھیانک دن تھا جب انصاف کے تمام تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے متعصب جج رچرڈ برمن نے حکومت پاکستان کے مقرر کردہ وکلاء کی سازش کے تحت ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو 86برس کی سزا سنائی تھی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس کالم کی اشاعت کے ایک روز بعد 23 ستمبر کے دن عافیہ صدیقی کو امریکی قید میں چودہ سال پورے ہوجائیں گے۔ امریکی جج نے بھی اپنے فیصلے میں یہ تسلیم کیا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ جو کہ پاکستانی شہری ہے، اس کا کسی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے اور عافیہ کو صرف اس جرم کی سزا دی جارہی ہے کہ اس پر یہ الزام ہے کہ اس نے 6امریکی فوجیوں کو قتل کرنے کا ارادہ کیا اور بندوق اٹھائی، ان پر گولیاں چلائیں لیکن کسی امریکی فوجی کو نقصان نہیں پہنچا جبکہ ڈاکٹر عافیہ فوجیوں کی جوابی فائرنگ سے زخمی ہو گئیں۔ جج نے اپنے فیصلے میں یہ بات بھی لکھی تھی کہ باوجود اس کے کہ عافیہ کے خلاف کسی قسم کے ثبوت موجود نہیں ہیں لیکن پاکستانی وکلاء نے جو دلائل دئیے ہیں اس کی روشنی میں عافیہ کو 86برس کی سزا دی جا رہی ہے۔ سزا کے بعد ڈاکٹر عافیہ نے عدالت میں کہا کہ میں نے اپنا فیصلہ اللہ کی عدالت پر چھوڑ دیا ہے اب میں سب کو معاف کرتی ہوں۔ عدالت میں اس فیصلے کے بعد جج کے خلاف شیم شیم کے نعرے بلند ہوئے اور عدالت میں موجود عیسائی، یہودی اور

مسلمانوں نے عافیہ سے یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ آج امریکی عدالت میں امریکی انصاف کا قتل ہو گیا ہے۔ امریکی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ایک عدالت نے کسی جرم کے ثابت ہوئے بغیر 86برس کی سزا سنائی ہے۔ حقائق سے یہ پتا چلتا ہے کہ امریکی عدالت نے یہ سزا پاکستان میں موجود ان عناصر کے دبائو کی وجہ سے سنائی جو ڈاکٹر عافیہ کی واپسی سے خوف زدہ تھے۔ کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ ڈاکٹر عافیہ کی واپسی کے نتیجے میں سینکڑوں معصوم عورتوں اور بچوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا پردہ چاک ہو جائے گا اور یقیناً ہمارے آئین اور قانون میں ان مظالم کی سزا موت ہے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی جانتی ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف اس نام نہاد جنگ میں ہمارے ماضی کے ارباب اقتدار نے امریکی ایجنٹوں کے ساتھ مل کر بے انتہا مظالم ڈھائے ہیں۔ مشہور امریکی ریسرچ اسکالر اسٹیفن لینڈ مین نے عافیہ کی سزا پر یہ بیان دیا کہ ’’عافیہ کو صرف مسلمان ہونے کی سزا دی گئی ہے‘‘۔ متعصب امریکی وکیل و تجزیہ نگار اسٹیون ڈاؤنز جس نے ہمیشہ عافیہ کی مخالفت میں تحریر لکھی امریکی عدالت کی ناانصافی اور عافیہ کی جرم بے گناہی کی سزا دیکھ کر چیخ اٹھا۔
"I went to witness the sentencing of a Daughter of a dead nation but i came out paying my highest tribute to mother of humanity-DR.AAFIA SIDDIQIUI"
(میں ایک مردہ قوم کی ایک بیٹی کی سزا کا مشاہدہ کرنے (امریکی عدالت) چلا گیا تھا لیکن میں انسانیت کی ماں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو اپنا سب سے زیادہ خراج تحسین پیش کرکے باہر آیا ہوں)۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر جو مظالم ڈھائے گئے ہیں اس سے پوری دنیا واقف ہے۔ ایک عورت پر جو جو مظالم ڈھائے جاسکتے ہیں وہ تمام مظالم ایک اور اکیلی عافیہ نے سہے ہیں۔ ڈاکٹر عافیہ کو اذیت دینے کے لئے ان کے معصوم بچوں پر بھی تشدد کیا گیا ہے۔ ان کا ایک معصوم بچہ سلیمان ابھی تک لاپتہ ہے۔ ڈاکٹر عافیہ کی گرفتاری سے پہلے کی تصاویر اور پانچ سال بعد منظر عام پر آنے والی تصاویر اس بات کی گواہ ہیں کہ ان کو انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر ڈاکٹر عافیہ جیسے لوگوں سے امریکہ اتنا خوف زدہ کیوں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ڈاکٹر عافیہ جیسے قابل لوگ جو دنیا کے بہترین تعلیمی اداروں سے اعلیٰ ترین ڈگری حاصل کرچکے ہوں اور دنیاوی علوم کے لحاظ سے عروج پر ہونے کے باوجود اس سیکولر دنیا کو ٹھکرا کر اللہ کے لئے اپنے آپ کو خالص کرلیں اور اسلام کی حقیقی روح کو پھیلائیں تو بہترین اہل علم طبقہ ان سے متاثر ہوتا ہے۔ عافیہ جیسے لوگ تن تنہا اپنی ذات میں ادارے کا کام سر انجام دیتے ہیں اور مغرب اور امریکہ اب کسی اور ڈاکٹر عبدالقدیر کو برداشت نہیں کرسکتے۔ FBI ہمیشہ ایسے قابل مسلمانوں کو نشانہ بناتی ہے۔ اس ملک کے عوام قوم کی حافظہ قرآن بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو واپس لانا چاہتی ہے۔ یہ قوم حکمرانوں کی طرح بے حمیت اور بے حس نہیں ہے۔ ہزاروں غیرت مند بھائی اپنی بہن کے لئے جان قربان کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ اگر ملک کے چپے چپے میں عافیہ کو واپس لانے کے لئے مظاہرے کئے جائیں اور حکمرانوں کی بے حسی پر احتجاج کیا جائے تو اس کی بازگشت اسلام آباد اور واشنگٹن میں بھی محسوس کی جائے گی اور حکومت ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو واپس لانے کے لئے مجبور ہوجائے گی اور ان ہزاروں لاپتہ عورتوں، بچوں اور مردوں کو بازیاب کروانے میں بھی مدد ملے گی جنہیں جنرل مشرف نے پانچ پانچ ہزار ڈالر کے عوض فروخت کردیا تھا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں، ارباب اختیار اور سرکاری حکام کو قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی کا پوری امت مسلمہ پر عائد فریضہ ادا کرنے کا بار بار موقع عطا فرما رہا ہے۔ جب 2008ء میں ڈاکٹر عافیہ کی بگرام، افغانستان کے امریکی ٹارچرسیل میں موجودگی ظاہر ہوگئی تھی وہ ڈاکٹر عافیہ کو واپس لانے کا انتہائی نادر موقع تھا کیونکہ ڈاکٹر عافیہ کی افغانستان سے امریکہ منتقلی غیرقانونی عمل تھا اگر اس وقت زرداری حکومت اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرتی تو عافیہ کو بآسانی وطن واپس لایا جاسکتا تھا۔ 2011ء میں کئی پاکستانیوں کے قاتل امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کے بدلے بھی ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی یقینی تھی مگر یہ موقع بھی زرداری حکومت نے گنوا دیا تھا۔ عالمی برادری سے تعلق رکھنے والے ان گنت انصاف اور انسانیت کے علمبردارجن میں امریکی بھی شامل ہیں پاکستانی حکومت سے مسلسل مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ اپنی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کو امریکہ سے واپس مانگے کیونکہ وہ معصوم اور بے گناہ ہے۔2013ء میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے برسراقتدار آکر ڈاکٹر عافیہ کی والدہ عصمت صدیقی سے ملاقات کی اور عافیہ کو 100 دن میں وطن واپس لانے کا وعدہ کیا۔ چار سال تک پوری قوم نواز شریف سے اپنا وعدہ پورا کرنے کا مطالبہ کرتی رہی۔ عالمی برادری، 22کروڑ پاکستانی عوام اور ڈاکٹر عافیہ کے امریکی وکلاء کی جدوجہد اور کاوشوں کی بدولت سابق امریکی صدر باراک اوباما اپنی سبکدوشی سے قبل20جنوری،2017تک پاکستانی حکمرانوں کے ’’ایک خط‘‘ کے منتظر رہے تاکہ ڈاکٹر عافیہ کو صدارتی معافی دے کر رہا کر دیں مگر نواز حکومت نے خط نہ لکھ کر یہ سنہری اور نادر موقع بھی ضائع کردیا۔ اب اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں اور ارباب اختیار کو ایک موقع اور فراہم کررہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہر قیمت پر اور جلد سے جلد اپنے جاسوس اور ہمارے غدار ’’ڈاکٹر شکیل آفریدی‘‘ کو پاکستان سے اپنے ملک امریکہ میں لانا چاہتا ہے۔ ڈاکٹر عافیہ کی ذہنی اور جسمانی صحت کے بارے میں تشویشناک اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔ ان کی صحت کی صورتحال ایسی نہیں ہے کہ انہیں مزید جیل میں قید رکھا جاسکے۔ ڈاکٹر عافیہ کی واپسی اس لئے بھی ضروری ہے کہ تاریخ میں پاکستانی ریاست اور پاکستانی قوم کو ’’بیٹی فروش‘‘ کے نام سے یاد نہ کیا جائے ورنہ قیامت تک ہماری آنے والی نسلیں ہم پر لعن طعن کرتی رہیں گی کہ 22 کروڑ عوام مل کر بھی اپنی ’’معصوم اور بے گناہ بیٹی‘‘ کو رہا نہ کراسکے۔
غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں
پہناتی ہے درویش کو تاجِ سرِ دارا

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں