آپ آف لائن ہیں
منگل14؍ محرم الحرام 1440 ھ25؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سیاست جو کہتی ہے سو تو کہتی ہے اور جو نہیں کہتی پھر بھی کہتی ہے۔ برصغیر میں کیا کچھ ہو رہا ہے یا ہوتا رہا ہے اس کی ایک جھلک دکھانے کیلئے آپ کو سرحد پار لئے چلتا ہوں۔
جے پرکاش نرائن اپنے علم اور صلاحیت کے اعتبار سے بھارت کے چوٹی کے لیڈروں میں سے تھے۔ ان کو عام طور پر مخلص اور سنجیدہ انسان سمجھا جاتا تھا اور ہر طبقے کے لوگ ان کا احترام کرتے تھے۔ پٹنہ میں ان کی رہائش تھی۔ کہتے ہیں ان کے مکان کے سونے کے کمرے میں دیوار پر یہ شعر لگا ہوا تھا:
مالک تیری رضا رہے اور تو ہی تو رہے
باقی نہ میں رہوں نہ میری آرزو رہے
وہ اپنے دل میں سماجی اصلاح کا جذبہ رکھتے تھے اور اپنے الفاظ میں ’’مکمل انقلاب‘‘ کے علمبردار تھے۔ انہوں نے سمجھا کہ بھارت کے لوگ ان کا مطلوبہ مکمل انقلاب لانے کیلئے بے قرار ہیں۔ صرف اندرا گاندھی کی حکومت راستے کی رکاوٹ ہے۔ اندرا حکومت ختم ہو جائے تو اس کے بعد مطلوبہ سماجی نظام نہایت آسانی سے قائم ہو جائے گا۔ ان کو اپنے اس اندازے پر اتنا یقین تھا کہ وہ اس اعلیٰ مقصد کے حصول کی خاطر فوج اور پولیس کو بغاوت پر ابھارنے کو بھی جائز سمجھنے لگے۔ اندرا گاندھی کی بعض غلطیوں نے ان کو موقع فراہم کیا اور وہ 1977 میں اس حکومت کو ختم کرنے میں شاندار طور پر کامیاب ہو گئے۔ تاہم اس ’’کامیابی‘‘ کے معنی صرف یہ

تھے کہ اقتدار اندرا کے ہاتھ سے نکل کر مرار جی ڈیسائی کے ہاتھوں میں چلا گیا جیسے پاکستان کی 42سیاسی پارٹیوں کے ہاتھ میں آنے کی بجائے فوج کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے۔ جے پرکاش نرائن کے لئے مطلوبہ سماجی نظام کا قیام پھر بھی خیالی امید ہی بنا رہا۔ اقتدار کی تبدیلی کے بعد اگرچہ ذاتی طور پر جے پرکاش کا مقام اتنا بلند ہوا کہ ان کو کئی خطابوں سے نوازا گیا تاہم اپنی تمام تر کامیابی کے باوجود اکتوبر 1979کو وہ دنیا سے اس احساس کے ساتھ چلے گئے کہ ان کا ’’مکمل انقلاب‘‘ اپنی تمام تر دھوم کے باوجود جزو انقلاب بھی نہ بن سکا۔ مزید یہ کہ جنتا پارٹی میں بہت جلد پھوٹ پڑ گئی اور صرف 28مہینوں بعد جنتا حکومت ٹوٹ گئی۔ اپنی محبوب جنتا پارٹی کا یہ انجام جب ان کے علم میں آیا تو کہتے ہیں ان کی زبان سے نکلا ’’باغ اجڑ گیا۔‘‘ آخر میں وہ اتنے دل شکستہ ہو گئے تھے کہ موت سے ایک دن پہلے ایک دوست نے ان کی خیریت پوچھی تو انہوں نے کہا ’’میں کس طرح جی رہا ہوں، بس موت کا انتظار کر رہا ہوں۔‘‘ جے پرکاش نرائن کا یہ واقعہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ وہ عبرت کا آئینہ ہے جس میں آپ اسی قسم کی بہت سی تصاویر آج بھی دیکھ سکتے ہیں۔ ایک مصلح جب ’’ظالم حکومت‘‘ کو ہٹانے کا نعرہ لگاتے ہوئے زمام اقتدار اپنے ہاتھ میں لیتا ہے تو مشترک دشمنی کا جذبہ بہت سے مختلف الخیال اور بھانت بھانت کے عناصر کو اکٹھا کر دیتا ہے، اس طرح کوئی بھی جماعت یا پارٹی اقلیت میں ہونے کے باوجود متحدہ محاذ میں شامل ہو کر اکثریت حاصل کر لیتی ہے مگر جب ’’ظالم حکومت ہٹ جاتی ہے تو سب کا مفاد الگ الگ ہو جاتا ہے اور مصلح اگر طاقتور ہو تو وہ متحدہ محاذ کو گھانس نہیں ڈالتا اور لوگ ایک دوسرے کا ساتھ چھوڑنے لگتے ہیں۔ اب مصلح چونکہ مسلح بھی ہے اس لئے بلاشرکت غیرے اسے حکومت کرنے کا حق حاصل ہو جاتا ہے اور اگر وہ سیاسی جماعت ہے تو اکیلی ہو کر دوبارہ اسی اقلیت کے مقام پر چلی جاتی ہے جہاں وہ متحدہ محاذ بننے سے پہلے تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ’’ظالم‘‘ کو ہٹا کر بھی عادل کو اقتدار کی گدّی پر بیٹھا نہیں پاتی۔ جے پرکاش نرائن اور ان کی قسم کے دوسرےمصلح اور مسلح افراد کی شاندار کامیابی کے بعد عبرتناک ناکامی کا سبب یہی ہے۔ سوئی کے کارخانے میں لوہے کے ایک ٹکڑے کو تقریباً 20مراحل سے گزرنا ہوتا ہے تب وہ سوئی بن کر تیار ہوتی ہے جس کو ایک آدمی سلائی کے کام میں استعمال کرتا ہے، اب اگر ایک جلدباز آدمی ہتھوڑے کی پہلی ہی ضرب سے سوئی بنانا چاہے تو مطلوبہ سوئی تو نہ بنے گی البتہ لوہے کا ٹکڑا ٹوٹ پھوٹ کر بے کار ہو جائے گا، ایسا ہی کچھ معاملہ ملک عزیز میں تعمیر ملک و قوم کی کوششوں کا ہوا ہے۔ آدھی صدی سے بھی زیادہ مدّت کے پرشور ہنگاموں کے باوجود آج بھی ہمارا قافلہ اسی مقام پر ہے جہاں وہ آدھی صدی پہلے تھا بلکہ شاید کچھ اور پیچھے۔ اس کی وجہ ایک یہ بھی ہے کہ ہمارے مصلح یا مسلح لیڈر پہلی ہی ضرب میں ایک عمدہ چمکدار سوئی تیار کر لینا چاہتے ہیں۔ وہ ’’20 مراحل‘‘ کے صبر آزما دور سے گزرنا نہیں چاہتے۔ انیسویں صدی کی چوتھی دہائی میں برصغیر کے مسلمانوں نے دیکھا کہ مغربی قوم جو ہندوستان پر قابض ہو گئی ہے، سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔ انہوں نے سوچا کہ کسی بھی طرح اس غیرملکی اور اجنبی قوم کو نکال دو اور اپنے لئے الگ خطّہ زمین حاصل کر لو تو اس کے بعد ہماری عظمت کا دور دوبارہ شروع ہو جائے گا اور اچھے دن آجائیں گے۔ بے شمار جانی و مالی نقصان کے بعد یہ مہم کامیاب ہو گئی مگر جس مغلوبیت کی حالت میں پہلے تھے ویسی اب بھی برقرار ہے۔ پاکستان میں جس جدید دنیا کو پیدا کرنے کیلئے علمی و عملی تیاریوں کی ضرورت تھی اس کیلئے ہمارے لیڈروں نے کچھ نہیں کیا۔ پاکستان میں مذہبی اور سیاسی پارٹیوں کے قائدین نے دیکھا کہ جو شخصیت یا پارٹی ملک پر حکومت کر رہی ہے اس کے زیر حکومت بہت سی غیر مذہبی چیزیں رائج ہو رہی ہیں۔ انہوں نے سمجھا کہ بس اس شخص کو اتار پھینکو یا اس کی جماعت کو اقتدار کی گدّی سے نیچے کھینچ لو تو اس کے بعد ایسی چیزوں کا رائج ہونا ممکن نہیں ہوگا۔ مختلف اندرونی و بیرونی عناصر کے اشتراک سے یہ مہم کامیاب ہو گئی۔مگر اس کے بعد جونظام آیا وہ بھی پہلے ہی کی طرح کاتھا، اس کی وجہ یہ تھی کہ حکومت کو چلانے والے افراد ہمیشہ اپنے معاشرے اور سماج سے نکل کر آتے ہیں نہ کہ آسمان سے اور جب سماج اور معاشرہ بری طرح بگڑا ہوا ہو تو محض کسی فرد یا کسی سیاسی پارٹی کے بدلنے سے نظام نہیں بدل سکتا۔
ہر مصیبت میں جسے میں باخبر کرتا رہا
میری ہر اک بات کو وہ بے اثر کرتا رہا

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں