• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

این آر او کی ضرورت نہیں، سارے آپشنز نواز شریف کے پاس ہیں، مریم نواز

کراچی (ٹی وی رپورٹ) سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا ہے کہ نوازشریف کو این آر او کی ضرورت نہیں، میاں صاحب کے پاس سارے آپشن کھلے ہیں، کیا تنقید نہیں کرینگے تو انصاف مل جائے گا، والیم 10 دیکھا ہے اس میں کچھ نہیں، نااہلی کے بعد مائنس ون کی بات کرنے کا مقصد ہے اہداف پورے نہیں ہوئے، کیپٹن صفدر کی پارلیمنٹ میں تقریر ان کی ذاتی رائے تھی، اس پر ہم دونوں کو ڈانٹ پڑی، کوئی لندن پلان ہے نہ پارٹی میں کسی انکل سے کوئی مسئلہ ہے، اربوں کے اثاثے ڈکلیئر نہ کرنے والے کیلئے دس ہزار درہم ڈکلیئر کرنا کیا مشکل تھی؟ میاں صاحب کو کسی این آر او کی ضرورت نہیں ۔ ان خیالات کا اظہا رانہوں نے جیو نیوز کے پروگرام ’’آپس کی بات‘‘ میں میزبان منیب فاروق سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ نواز لیگ کی رہنما مریم نواز نے کہا ہے کہ لندن میں غیر رسمی ملاقات تھی ،لندن میں کوئی منصوبہ نہیں بنایا گیا ، والدہ کی طبیعت ناساز ہے، بہت دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ میاں صاحب سے بھی ملاقات ہوجاتی ہے اور ساتھ میری والدہ کی عیادت بھی ہوجاتی ہے اور یقینا جب ٹائم ہوتا ہے وہاں پر تو ایک نشست بھی ہوجاتی ہے اس میں سے اتنی زیادہ توقعات رکھنا کہ کوئی پلان تھا کوئی پلاننگ ہو رہی تھی ، ایسی کوئی بات نہیں تھی۔ لندن میں ملاقاتوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس وقت تک میاں صاحب کا پروگرام حتمی نہیں ہوا تھا اور انہوں نے پاکستان کو آنا ہی تھا۔وزیراعظم پاکستان کے لندن جانے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان کا خیال ہے خاقان عباسی صاحب بھی، شہباز شریف صاحب بھی عیادت کے لئے آئے تھے، میری اُن سے بات تو نہیں ہوئی لیکن گاہے بگاہے وہ آتے رہتے ہیں دو دن، ایک دن کے لئے آتے ہیں میری والدہ کی عیادت بھی کرتے ہیں اور سیاسی گفتگو بھی ہوتی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جیو ٹی وی کے پروگرام آپس کی بات میں میزبان منیب فاروق سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ پارٹی پالیسی پر بیان کے حوالے سے سوال پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ انہیں پالیسی پر بیان نہ دینے کے معاملے میں کوئی پیغام نہیں دیا گیا،انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے تو میرا خیال ہے پارٹی پالیسی پر مجھے بیان دینے کا یا کسی بھی اور کو بیان دینے کا پہلا حق جو ہے وہ پارٹی لیڈر شپ کا ہے اور پارٹی لیڈر شپ بیٹھ کر پالیسیز بناتی ہیں ، میں پارٹی لیڈر کی صاحبزادی ہوں لیکن صاحبزادی کے علاوہ میری اپنی پارٹی کے اندر جو سینارٹی کی لائن ہے وہ میں نے کبھی کراس نہیں کی، ارادی طور پر بھی نہیں کی، کرنی چاہیے بھی نہیں ، انہوں نے پارٹی میں انکل کے حوالے سے سوال پر کہا کہ مجھے تو کسی انکل سے کوئی مسئلہ نہیں ہے اور میرا خیال ہے جتنے بھی میرے انکلز ہیں میری اُن کے ساتھ ایک افکیشن کا رشتہ بھی ہے، بچپن سے اُن کو دیکھتی آئی ہوں بلکہ میرا خیال ہے اتنی ملاقات شاید جو خونی رشتے ہیں اُن سے میری نہیں رہی جتنی ان کے ساتھ رہی ہے سیاست میں آنے سے پہلے بھی، جارحانہ انداز کے بارے میں سوال پر مریم نواز نے کہاکہ ہر کسی کی ایک ذاتی رائے ہوتی ہے ،یہ ایک جمہوری پارٹی ہے، اس میں ہر کسی کو اپنی رائے دینے کا حق ہے اسی طرح مجھے بھی اپنے رائے دینا کا حق ہے اور میں کس طرح اپنی رائے دیتی ہوں اس پر مجھے رہنمائی تو بڑوں کی طرف سے ضرور مل سکتی ہے ملنی چاہیے کوئی بھی انسان عقل کل نہیں ہوتا لیکن مجھے بھی اپنی بات کہنے کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجربہ وقت اور سال سے نہیں طے کیا جاسکتا، تجربہ حالات جس طرح کے ہوتے ہیں ان سے ہوتا ہے، جتنے خراب حالات ہوتے ہیں جتنے اچھے حالات ہوتے ہیں تجربات بھی اسی قسم کے ہوتے ہیں۔منیب فاروق کے اس سوال پر کہ آپ کو احساس ہوتا ہے جب آپ بات کرتی ہیں، کر جاتی ہیں، یہ نہیں کہنا چاہیے تھا، یہ ذرا زیادہ ہوگیا ۔یا کسی نے کہا آپ کے بھائی نے، میاں صاحب نے آپ کے والد نے کہا ہو بیٹا یہ کیا کردیا، تو مریم نواز نے کہا کہ کبھی ڈانٹ بھی دیتے ہیں ،ابھی بھی ڈانٹ پڑتی ہے، میاں صاحب سے بھی پڑ جاتی ہے اور میں اُس ڈانٹ کو بہت مثبت لیتی ہوں اس لئے لیتی ہوں کہ اُن کی بات جو ہوتی ہے اس میں بہت ساری چیزیں ایسی شامل ہوتی ہیں جو مجھے نہیں پتہ ہوتیںٹوئیٹ کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ میری ذاتی رائے تھی آج بھی ہے اس ٹوئٹ میں کہیں یہ نہیں تھا کہ میاں صاحب کی کیا پالیسی ہے وہ بنیادی طور پر should not میری اپنی پالیسی تھی میری اپنی رائے تھی معاف کیجئے گا اُس میں آج بھی میری وہ رائے ہے کیونکہ منیب جس طرح سے یہ احتساب کا عمل کچھ پچھلے ڈیڑھ سال سے چل رہا ہے اُس میں اب ایک اس کی انصاف کی توقع رکھنا میرا خیال ہے بے وقوفی ہوگی، ایک ہی مقدمہ میں کتنی دفعہ فیصلہ آیا پہلے تین ججز نے ڈیفر کیا دو دججز نے اپنا اختلافی نوٹ لکھا اس کے بعد جے آئی ٹی میں مقدمہ چلا گیا کتنی بڑی سرکس لگائی گئی قوم کے سامنے وقت ضائع کیا گیا قوم کا جے آئی ٹی کے جو جنات انہوں نے جس طرح سے کام کیا اور پھر والیم ٹین کا جتنا ڈھونڈورا پیٹا گیا جب وہ ایوڈینس لایا جارہا تھا سپریم کورٹ میں تو وہ اتنے بڑے بڑے کارٹنز تھے جن کے اوپر ایوڈینس پیسٹ کیا ہوا تھا،میں نے والیم ٹین دیکھا ہے،اس میں کچھ بھی نہیں ہے، اس میں اگر کچھ ہوتا تو اقامہ پر پھر فیصلہ نہ آتا اس کو خفیہ رکھنے کی جو درخواست جے آئی ٹی نے کی تھی سپریم کورٹ سے وہ بنیادی طور پر یہ تھی کہ ہمیں کوئی ثبوت نہیں مل سکا دوسرے الفاظ میں اور ہماری جو ناکامی ہے اس پر پردہ رہنے دیا جائے اس لئے انہوں نے تھا کہ والیم ٹین کو آپ ایکسپوز نہ کریں والیم ٹین میں کچھ بھی نہیں ہے والیم ٹین میں انہوں نے جتنے ملکوں سے ہمارے بارے میں سوال پوچھے اُن کو جواب نہیں آیا کیونکہ وہ کئی ممالک نے یہ جواب دیا خاص طور پر انگلینڈ نےmutual legal assistance کے حوالے سے یہ جواب دیا کہ آپ پہلے یہ بتائیں کہ اس میں کرپشن کا عنصر ہے یا کوئی wrong doing کا عنصر ہے جس پر آپ ہمارے ساتھ بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ میرا خیال ہے انہوں نے سعودی عربیہ کو لکھا میرے خیال میں انہوں نے یو اے ای کو لکھا، یو اے ای سے انہوں نے ایک خط لا کر جس کو بیس بنایا وہ بھی ایک فراڈ چیز تھی جس کے اندر انہوں نے سوال وہ پوچھا جن کا جواب ان کو چاہیے تھے اور اصل بات کو بائی پاس کردیا، ایک سوال پر مریم نواز نے کہا کہ اگر آپ نے غور سے توجہ سے احتساب کے پراسیس کو مانیٹر کیا ہو تو ہمارے وکلاء نے جتنا بھی ایوڈینس دیا ہمارے ڈیفنس میں وہ بہت اسٹارنگ ایوڈینس تھا، سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی میں، اور اگر ہم نے اپنا مقدمہ اچھی طرح سے نہ لڑا ہوتا ہمارا ایوڈینس اسٹارنگ نہ ہوتا اگر پٹیشنر کے پاس کوئی ایوڈینس ہوتا اگر پٹشنر کے الزامات میں کوئی سچائی ہوتی تو فیصلہ پر اقامہ پر نہ ہوتا۔ ہمارے خلاف جو ثبوت ہیں وہ سامنے آتے ہم نے ثبوت دیئے ہم نے اپنا مقدمہ بہت اچھی طرح سے لڑا آپ کا مقدمہ جتنا بھی اسٹارنگ ہو وہاں آپ کا ایوڈینس جتنا بھی اسٹارنگ ہو تو وہاں پر اس کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ معاملہ والد اور ان کے والد تک لے جانے کے سوال پر مریم نواز نے کہا کہ تو یہ بتانا جرم ہوگیا جنہوں نے چھپایا وہ ٹھیک رہ گئے جنہوں نے بتایا ۔۔ ثابت کیا یہ غلط ہے یہ جو آپ موقف سنتے ہیں نا یہ موقف ان لوگوں کا ہے جنہوں نے یہ فیصلہ جنہوں نے لیا یہ موقف ان لوگوں کا ہے میڈیا بھی وہی بات کرتا ہے جو فیڈ کی جاتی ہے فیکٹس کو دیکھے بغیر فیکٹ یہ ہے کہ ثبوت دیئے اور اُس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اگر ثبوت کمزور ہوتے اور الزامات میں سچائی ہوتی تو پھر دس ہزار روپے ڈکلیئر نہ کرنے پر ایک منتخب وزیراعظم کو باہر نہ نکالا جاتا،سزا کے لئے تیار رہنے کے حوالے سے سوال پر مریم نواز نے کہا کہ سزا ہوچکی ہے، میرے پر مقدمے کی نوعیت کا بہت فرق ہے، اس کی نوعیت جو ہے وہ بزنس سے تعلق نہیں رکھتی وہ کسی بھی کرپشن کیس سے تعلق نہیں رکھتی جو انسان کبھی اقتدار میں رہا ہی نہیں جس نے کبھی کوئی پبلک آفیس ہولڈ ہی نہیں کیا اس پر اس طرح کا مقدمہ بننا مضحکہ خیز بات نہیں ہے تو اور کیا ہے۔یہ سلسلہ آج سے دو تین سال پہلے سے جب دھرنے شروع ہوئے اور جب میں نے میڈیا ہینڈلنگ شروع ہوا، میاں صاحب پر جو حملہ بطور وزیراعظم ہوا کرتے تھے میں انہیں حملوں کے درمیان میں دیوار بن کر کھڑی ہوگئی تو بہت سارے لوگوں کو یہ بات ناگوار گزری تو میری ایک آپ کمزوری کہہ لیں یا پلس پوائنٹ کہہ لیں میری نظر میں وہ پلس پوائنٹ ہے بہت سارے کمزور لوگوں کی نظر میں وہ کمزوری ہوگا کہ میں حق بات کرتی ہوں سچ بات کرتی ہوں چاہے وہ میرے اپنے خلاف کیوں نہ جاتی ہو وہ جس کسی کو جتنی بھی بری لگے مجھ میں اتنا دم ہے کہ میں سچ کو سچ کہہ سکوں اس وجہ سے مجھے ٹارگٹ کیا گیا پہلے ڈان لیکس میں پانامہ لیکس تو بعد میں آئی ہے پہلے ڈان لیکس میں ، میں پاناما لیکس کی حقیقت بھی آپ کو بتاتی ہوں ڈان لیکس میں مجھے شامل کرنے والے ویسے ایک جو مرکزی کردار تھا وہ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے انجام کو پہنچا دیا باقی بھی جو چیزیں ہیں وہ بہت جلد کھل کر سامنے آئیں گی، مریم نوازنے کہا کہ وہ نام نہیں لیں گی اس کردار کا، اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کی ورکر ہونے کے ساتھ ساتھ بیٹی بھی ہوں اور مجھے اپنے والد کی جو بہتری ہے اور مجھے اپنے والد کی جو سلامتی ہے اس کی پرواہ ہے سزا ہونے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس سے زیادہ ریڈی نیس تو میں نہیں دیکھا سکتی اور جو انسان ڈرنے سے انکار کردے جو انسان بلیک میل ہونے سے انکار کر دے اس کو آپ کبھی ڈیس کولیفکیشن سے ڈرائیں کبھی آپ اس کو مقدمات سے ڈرائیں کبھی آپ اس کو نیب سے ڈرائیں کبھی آپ اس کو ڈان لیک سے ڈرائیں کبھی آپ اس کو جیل سے ڈرائیں جو انسان ڈرنے سے انکار کردے اس کے ساتھ ڈیل کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے ورنہ آپ مجھے ایک بات بتائیے یہ مقدمہ کرپشن پر شروع ہواتھا منی لانڈنگ کے چارجز پر شروع ہوا تھا اور وہ ختم ہوا اس چیز پر جس انسان نے اپنا اربوں روپیہ ڈکلیئر کیا جس انسان نے اپنے اربوں روپے کے اثاثے ڈکلیئر کئے اس کے لئے دس ہزار درہم ڈکلیئر کرنا کوئی مسئلہ تھا،اس پر بہت کچھ کہا جاسکتا ہے اور جو منصف ہوتا ہے اس پر بھاری ذمہ داری ہوتی ہے اس دنیا میں بھی اور اگلی دنیا میں بھی ہمارا سوال پوچھنا بنتا ہے ہمارے سوال پوچھنے کو توہین عدالت کہنے والے اس بات پر نظر ثانی کریں اور ان منصفوں کو بھی ایک دن جواب دینا پڑے گا ،اس سوال پر کہ آپ تو الزام لگا رہی ہیں باقاعدہ طور پرمریم نواز نے کہا کہ میں الزام نہیں لگا رہی میں حقیقت بیان کر رہی ہوں، اس سوال پر کہ آپ تو کہہ رہی ہیں فیصلے لکھے ہوئے ہیں کسی کی جیب میں پڑے ہوئے ہیں یہ تو بری تلخ بات ہے لوگ تو اسے الزام ہی سمجھیں گے، مریم نواز نے کہا کہ آپ اس کو تلخ حقیقت کہہ سکتے ہیں الزام نہیں ہے یہ ، میں تو آپ کو فیکٹس بتا رہی ہوں ۔اس سوال پر کہ میاں صاحب تین مرتبہ وزیراعظم رہے ہیں آپ نے کہا خود کہتی رہی ہیں بڑا evolveکیا ہے مسلم لیگ ن نے، میاں نواز شریف نے بحیثیت سیاستدان خود بڑا evolveکیا ہے لیکن ایک طرف آپ فرماتی ہیں وہ نظریاتی شخص ہیں لیکن آپ یہ بھی کہتی ہیں کہ پچھلے ساڑھے چار سال میں انہوں نے بڑے سمجھوتے کئے جو نہیں کرنے چاہئے تھے ، تو نظریاتی آدمی سمجھوتے کبھی نہیں کرتا یہ کونسا نظریاتی انسان ہے جو سمجھوتے کررہا ہے یہ تو موقع پرستی ہے خود اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لئے آپ ایڈجسٹمنٹ کررہے ہیں یہ تو نظریات نہیں ہیں ۔ مریم نواز نے کہا کہ میں اس کو موقع پرستی تو نہیں سمجھتی ، میاں صاحب نے خود ایک دن اپنے انٹرویو میں یہ بات کہی تھی کہ میں پہلے نظریاتی نہیں تھا لیکن مجھے حادثات اور واقعات نے نظریاتی بنادیااور جو حادثات اور واقعات انسان کو جب نظریاتی بناتے ہیں ناں پھر اس پر کمپرومائز کرنا بہت مشکل ہوتا ہے اصول کے اوپر مگر چار سال میں میاں صاحب نے جو کمپرومائزز کئے اس کے مد نظر صرف ایک ہی بات تھی وہ تھی ملک ترقی کرے ، ملک آگے بڑھے اور کوئی بھی ایسی چیز نہ ہو جس سے جو ملک کی ترقی ہے جو ڈیولپمنٹ ہے جو کام تیزی سے دن رات ہورہے ہیں یا جو جمہوریت اتنی قربانیوں کے بعد آج اگر جڑ پکڑرہی ہے تو اس کو نقصان نہ پہنچے سسٹم کو نقصان نہ پہنچے اس کے لئے انہوں نے بہت کچھ سہا اور بغیر شکایت کئے سہا ، میرے ذاتی خیال میں اب یہ پارٹی پالیسی نہیں ہے ۔اس سوال پر کہ ابھی کیا آپ پارٹی پالیسی بیان کررہی تھیں ؟انہوں نے کہا کہ میرا آپ کا مریم نواز کے ساتھ انٹرویو ہے اورمیں پی ایم ایل این کو ریپریزینٹ نہیں کررہی ہوں ، بطور مریم نواز یہ انٹرویو دے رہی ہوں میرے خیال میں وہ سمجھوتے ان کو نہیں کرنے چاہئے تھے ان سمجھوتوں کو ن کی کمزوری کے طور پر لیا گیا اور ان سمجھوتوں کی وجہ سے ایک تاثر ڈیولپ ہوگیا میاں صاحب کی جو حب الوطنی اور میاں صاحب کی جو Scarify کرنے کی اسپرٹ ہے اس کو انہوں نے اس کی کمزوری کے طور پر لیا میں سمجھتی ہوں کہ ان کو اس اس اصول پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہئے تھا ۔ابھی آپشن ساری میاں صاحب کے پاس ہیں ۔ابھی بھی آپشن ساری اللہ تعالیٰ کے فضل سے سب میاں صاحب کے پاس ہیں یہ جو این آر او کی بات ہورہی ہے اس کی ضرورت میاں صاحب کو نہیں ہے میاں صاحب کو ین آر او کی ضروررت نہیں ہے اور جن کو ضرورت ہے پہلے تو یہ پتہ چلے جو این آر او کی بات کررہے ہیں ان کا دوسرا فریق کون ہے جس سے این آر او مانگا جارہا ہے یا جو این آر او دے سکتے ہیں ، میاں صاحب جو جیل بھی ہوگئی ، سات سال کی جلاوطنی بھی ہوگئی ،جیلیں بھی کاٹیں سیاست میں نہ ہوتے ہوئے بھی ،پوری فیملی نے مشکلات کاٹیں،ایک سوال پر مریم نواز نے کہا کہ سب سے زیادہ جو ضروری چیز ہے وہ یہ ہے کہ میاں صاحب کا جو پیغام ہے وہ عوام تک پہنچا ، عوام نے اس کو قبول کیا اس کو اپنایا ، اس بیانیہ کو بڑھایا عوام نے جو آپ آج دیکھ رہے ہیں کہ نااہلی کے بعد مائنس ون اور مائنس ٹو کی بات ہورہی ہے سب سے پہلے تو یہ اس بات کا اعترا ف ہے کہ نااہلی سے جو اہداف چاہئے تھے وہ پورے نہیں ہوئے، چوہدری نثار کے حوالے سے سوال پر مریم نواز نے کہا کہ میرا خیال ہے چوہدری نثارصاحب نے جو باتیں کہیں ہمدردی میں کہی ہوں گی اس میں مجھے کوئی شک نہیں ہونا چاہئے مگر بات یہ ہے کہ انصاف کا جو حصول ہے انصاف دینا یا نادینا ، تنقید یا عدم تنقید آپ تنقید کریں گے تو آپ کو انصاف نہیں ملے گا اگر آپ تنقید نہیں کریں گے تو آپ کو انصاف ملے گایہی تو میں کہہ رہی ہوں آپ کو کہ ہمارے لئے انصاف کا یہ معیار ہے کہ ہم تنقید کریں گے تو انصاف نہیں ملے گااس کا مطلب ہے ادھر غصہ ہے ، فیصلہ غصے میں دیا گیا ہے ، عجلت میں دیا گیا ہے میں بھی یہی کہہ رہی تھی۔ لیڈر شپ کا کام ہی فیصلہ کرنا کہ جہاں سے یہ چیزیں ہورہی ہیں ان کو سامنے کیسے لانا ہے ، یہ ایک بہت بڑا ایشو ہے جس پر بیٹھ کر سوچنا چاہئے جو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا الیکشن کے دو تین ہفتے پہلے سے یہ پلاننگ شروع ہوئی ہے او رالیکشن کے بعد تک وہ ہے جس کی جھلک ہم نے این اے 4کے الیکشن میں بھی دیکھی،اپنے دیکھنے والوں کو یہ ضرور بتانا چاہتی ہوں کہ پانامہ نہ کوئی مقدمہ کرپشن کا ہے نہ منی لانڈرنگ کا ہے نہ اختیارات کے غلط استعمال کا ہے اگر ہوتا تو اس کے ثبوت سامنے آچکے ہوتے، کسی کا کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ ان معاملا ت کو کھنگالے اوربھری عدالت میں یہ سوال کیے جائیں کہ بیٹی باپ کے گھر میں کیوں رہتی ہے باپ نے بیٹی کو تحفے کیوں دیئے بیٹے نے باپ کو کماکر کیوں دیا یہ اتنی اخلاق سے گری ہوئی بات تھی جس میں ہمارے بطور خاندان جو بنیادی اصول تھے انکو جس بری طرح سے پاؤں کے نیچے انصاف کے نام پر روندا گیا اس کی مثال شائد آپ کو پاکستان کی ستر سال کی تاریخ میں نہیں ملے گی کبھی سسیلن مافیا کہا گیا کبھی ڈان کہا گیا کبھی گاڈ فادر کہا گیا اور یہ مقدمہ ابھی چل رہا تھا ابھی فیصلہ نہیں آیا تھا انصاف کا جس طرح سے قتل عام ہوا یہ ساری دنیا نے دیکھا نیب میں جو ریفرینسز بنے ہیں عبوری ریفرینس بنے یہ بھی اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے اور میاں نواز شریف پر ریفرینس کیا ہے پہلے میرے ریفرینس کی حقیقت بھی سن لیں جو خود ساختہ ریفرینس بنایا گیا ہےاپنے شوہر کی تقریر کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ ان کی ذاتی رائے تھی میں اس سے اتفاق نہیں کرتی ، اور پارٹی بھی اس سے اتفاق نہیں کرتی او روہ پارٹی کا نظریہ تھا بھی نہیں وہ پارٹی پالیسی بھی نہیں تھی ، اس پر مجھے اور انہیں ڈانٹ پڑی ،ہماری پارٹی میں بڑا سخت احتساب کا سسٹم ہے ان کو بھی ڈانٹ پڑتی ہے مجھ کو بھی پڑتی ہے میاں صاحب سے ڈانٹ ۔ اور غلط کو غلط کہنا چاہئے ۔
تازہ ترین