اسلام آباد(ایوب ناصر ، بلال عباسی) مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت اور وفاقی کابینہ کی طرف سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین راجہ ظفرالحق ، پرویز رشید ، مشاہد اللہ خان، سعد رفیق، دانیال عزیز ، طلال چوہدری ، مریم اورنگزیب ، مسلم لیگ ن خیبر پختونخوا کے صدر امیر مقام، ڈاکٹر مصدق ملک، آصف کرمانی ، طارق فاطمی، مئیر اسلام آباد شیخ انصر عزیزاور دیگر سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پیشی کے موقع جوڈیشل کمپلیکس پہنچے ۔
نواز شریف اپنی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدر کے ہمراہ سیاہ رنگ کی بی ایم ڈبلیو ایل ای 4114میں جوڈیشل کمپلیکس پہنچے۔ مریم نواز اور کیپٹن صفدر گزشتہ پانچ سماعتوں کیلئے الگ الگ گاڑیوں میں جوڈیشل کمپلکس آتے رہے تاہم پہلی مرتبہ نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر ایک ہی گاڑی میں جوڈیشل کمپلکس آئے۔نواز شریف چوتھی بار ریفرنسز میں پیش ہوئے جبکہ ان کی صاحبزادی اور داماد چھٹی بار پیش ہوئے۔ نواز شریف جب عدالت پہنچے تو ان کی طبیعت ناساز اوربے چین نظر آرہی تھی، گلے کی خراش کی وجہ سے الائچی کے دانوں سے گلے کو بہلانے کی کوشش کرتے رہے۔
نواز شریف اور کمرہ عدالت میں موجود دوسرے کئی وزرا بھی سماعت کے دوران سستاتے رہے،سماعت کے دوران نواز شریف آصف کرمانی کے ساتھ گفتگو کرتے رہے جبکہ دانیال عزیز نواز شریف کے کانوں میں سرگوشیاں کرتے رہے۔مریم نواز جتنی دیر کمرہ عدالت میں موجود رہیں ورد کرتی رہیں، احتساب عدالت میں پیشی کے بعد جوڈیشل کمپلکس کے باہر صحافیوں نے نواز شریف سے میڈیا ٹاک کی درخواست کی تاہم وہ بغیر گفتگو کیے پنجاب ہائوس روانہ ہوگئے۔ ن لیگ کے وکلا کے نام فہرست میں شامل نہ ہونے کی وجہ سے انہیں جوڈیشل کمپلیکس میں داخلے کی اجازت نہ مل سکی جبکہ دوسرے شہروں سے آنے والے مسلم لیگی کارکنوں کو گیٹ سے سو گز دور ناکے پر ہی روک لیا گیاجو وہیں کھڑے ہو کر نعرے لگاتے رہے ۔