آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکہ پہلے ہی دُنیا پر اپنی بالادستی کے حوالے سے حالتِ کمزوری میں تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس کی بالادستی کو انتہائی کم سطح پر لےآئے۔ خود اُن کی مقبولیت 38فیصد رہ گئی ہے۔ یورپ بھی ان کی پالیسیوں سے نالاں اور خصوصاً ایران سے ایٹمی معاہدہ ختم کرنے کے ارادےکے اظہار پر جرمنی، فرانس یہاں تک کہ برطانیہ سے اختلافی نوٹ آئے۔ اس وقت امریکی صدر پانچ ایشیائی ملکوں کے دورے پر ہیں، جن میں جاپان، جنوبی کوریا، فلپائن، ویت نام اور چین شامل ہیں۔ اپنے دورے کے پہلے مرحلےمیں وہ جاپان گئےمگر وہاں سے اُن کو بظاہر کچھ نہیںملا ۔ جاپان کے چوتھی مرتبہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہونے والے وزیراعظم شنذوایبے اپنی انتخابی مہم میں اعلان کر چکے تھے کہ وہ چین سے تعلقات اچھے کریں گے اور وہ پہلے چین کے دورے پر جائیں گے اور پھر چین کے صدر کو جاپان بلائیں گے۔ جاپانی جو چین سے تنائو یا تصادم نہیں چاہتے انہوں نے اس کو پسند کیا اور ان کو بھاری اکثریت سے کامیاب کر دیا اور ٹرمپ کے دورے میں دونوں رہنمائوں کے درمیان باریک سا فرق نظر آیا، جس کو واشنگٹن پوسٹ نے اس طرح بیان کیا کہ شنذوایبے نے ڈونلڈ ٹرمپ کو اخلاقی انداز میں پہلو پر چوٹ لگا دی اور اُن کو گولف اور اچھا کھانا اور اچھی گاڑیوں کی سواری کرا کر روانہ کیا ہے۔ تاہم اگر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایبے نے

گولف کھیلا تو لگتا ہے کہ انہوں نے بہت سنجیدہ گفتگو کی ہے جو اسٹرٹیجک بھی ہوگی اور چین اور عالمی تناظر میں اہم ہوگی مگر وہ جاپان جو 2011ء میں امریکہ کے سونامی حملے کا شکار ہوگیا تھا مگر چوتھی مرتبہ منتخب ہونے والے وزیراعظم کا اعتماد امریکہ کے صدر سے بڑھادیکھا گیا۔ جنوبی کوریا کے وزیراعظم مون جوئے نے بھی امریکہ کو شمالی کوریا کے خلاف جنگ یا میزائل کے حملے سے روکا ہے اور کہا ہے کہ شمالی کوریا اگر ایک پتھر بھی پھینکے گا تو وہ ہماری سرحدوں کے اندر آکر گرے گا، چنانچہ وہ امر یکہ کو طاقت کے استعمال سے اجتناب کرنے کو کہہ رہا ہے۔ امریکہ کے ایک کالم نگار جوسف ڈیوس نے لکھا ہے کہ اب امریکہ دُنیا کی واحد سپر طاقت نہیں رہا ہے اسلئے کہ امریکہ کےاتحادی ترکی نےروس سے S-400 دفاعی نظام خرید کر امریکہ کے دائرہ اثر سے خودکو باہر کردیا ہے کیونکہ اس کے بعد روسی انجینئرز، سامانِ حرب، پرزہ جات اور تربیت کار آئیں گے، دوسرے اُن کے مطابق ڈالر کی قدر اور مانگ روز بہ روز کم ہورہی ہے، روس اور چین ڈالر سے دوری اختیار کررہے ہیں، ایران اور ترکی نے اپنی اپنی کرنسیوں میں تجارتی لین دین کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ وینیزویلا نے اپنے آپ کو ڈالر سے علیحدہ کرلیا ہے، چین خام تیل یوآن میں خرید رہا ہے، روس روبل کرنسی میں تجارت کے لئے تیار ہورہا ہے۔امریکہ نے آئی ایم ایف کی شق ISO 4217 کے تحت SDR یعنی Special Draving Rights خصوصی کرنسی نکالنے کے حق کے حوالے سے ڈالر کو دفن کرنے کے اسباب پیدا کر لئے ہیں۔ اس نے سونا بڑی تعداد میں خریدا ہے جس کی وجہ سے سونے کی قیمت بہت بڑھ گئی ہے اور اُس کو یا کسی اور کرنسی کو متبادل کرنسی بنانے کی تیاری کررہا ہے۔ اُس کالم نگار کے مطابق غیرمغربی ممالک میں بہت عجیب و غریب قسم کے اتحاد معرضِ وجود میں آرہے ہیں، ان کا اشارہ پاکستان اور چین کے اتحاد پر ہے اور شاید دُنیا یک قطبی طاقت سے ہمہ قطبی طاقت بن جائے، جس میں چین، روس، پاکستان اور بھارت عالمی طاقت بن کر ابھریں۔ اگرچہ اس نے پاکستان کا نام نہیں لیا ہے مگر بہرحال جب ایٹمی طاقتیں ابھرے گی تو اس میں نہ پاکستان کو نکالا جاسکتا ہے اور نہ ہی اسرائیل کو، اس نے اسرائیل کے بارے میں کہا کہ اسرائیل عالمی مفاد کا تحفظ کرے گا، اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب ایسا ہوگا تو دُنیا میں بھونچال آجائے گا اور ہر ملک اپنی اپنی کرنسی کے ذریعے تجارت کرنے کی کوشش کرے گا جو ایک عالمی بحران پیدا کردے گا، جس کو اسرائیل ختم کرے گا، اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ چاہے دُنیا یک قطبی رہے یا ہمہ قطبی اسرائیل اہم رہے گا کیونکہ وہ سائبر نظام کو کنٹرول کرتا ہے، چین کا سی پیک اس کے پاس سے گزرتا ہے۔ بینکنگ نظام اس کے قابو میں ہے، تو سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیل عیسائیوں کی تباہی کے در پے ہے۔ اگرچہ ایک اور امریکی آیان بریمر نے لکھا ہے کہ یہ درست ہے کہ چین کی معاشی ترقی مرعوب کن ہے مگر معیشت ملٹری طاقت کے سامنے کچھ حیثیت نہیں رکھتی۔ اس کے علاوہ چین کی GDP Per Capital 6087 جبکہ 2013ء میں امریکہ کی 53,042 ہمارے خیال میں اب دونوں ممالک میں GDP کی شرح کا فرق بہت کم رہ گیا ہے اور جنگی معیشت کے علاوہ امریکی معیشت کا حجم گھٹتا ہی جارہا ہے تاہم آیان کے مطابق امریکہ کی ملٹری طاقت کا ابھی تک کوئی ہم پلہ نہیں ہے۔ جانتے ہیں کہ امریکہ کے پاس جو خفیہ ہتھیار ہیں اُن کا ابھی تک بہت کم لوگوں کو علم ہے اور وہ ای میل، اسمارٹ فونز اور دیگر ذرائع سے جو ڈیٹا اپنے سپر کمپیوٹر میں جمع کررہا ہے وہ قوموں کو غلام بنانے کا منصوبہ ہے۔ آیان بریمر کے مطابق امریکہ کا اثرورسوخ تمام دُنیا میں بہت زیادہ ہے، اس کو گھٹانا ممکن نہیں ہے مگر ہمارا خیال ہے کہ وہ کم ہونا شروع ہوگیا ہے، جاپان، جنوبی کوریا کی مثال دیدی ہے، پاکستان اُس کے دائرہ اثر سے نکل گیا ہے، یورپ شاکی ہے، اصل میں تو امریکہ نے یورپ کو غلام بنا کر رکھا تھا اور خود امریکہ اندرونی طور پر عدم استحکام کا شکار ہورہا ہے، وہاں آئے دن کھلے عام فائرنگ کے ذریعے لوگوں کو مار دیا جاتا ہے، اس لئے کہ وہاں کوئی تہذیب نہیں ہے، ایسی صورت میں یورپ کی تہذیب یافتہ اقوام ڈونلڈ ٹرمپ سے نالاں اور اس سے دور رہنے کا اشارہ دے رہی ہیں۔ ٹیکنالوجی کے سیکٹر میں امریکہ کی برتری اب چیلنج ہورہی ہے، اسی وجہ سے وہ بھارت تک کو اپنی ٹیکنالوجی فروخت کررہا ہے جو بذات خود اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ کس قدر کمزور ہوگیا ہے۔ بھارت ایک غیرذمہ دار ملک ہے اور خود امریکہ کی تباہی کا سبب بنےگا۔ 2015ء میں دنیا کی 9 سب سے بڑی ٹیکنالوجی کی حامل کمپنیوں میں سے 8 کمپنیاں امریکہ کے پاس تھیں مگر اب ایسا نہیں ہے، برے وقت کے لئے امر یکہ نے اپنے تیل اور انرجی کے ذرائع محفوظ رکھے ہیں اور دُنیا بھر سے وہ تیل خرید رہا ہے، اس کا خیال ہے کہ اس طرح وہ ایک دن دُنیا کو اپنا محتاج بنا لے گا۔ اس کے باوجود بھی ہمارا خیال ہے کہ دنیا اب یک قطبی نہیں رہی وہ پہلے ہی ہمہ قطبی ہوگئی تھی، پاکستان، ترکی، ایران، چین، روس، وینزویلا اور دیگر ممالک نے امریکہ کی بالادستی سے واضح طور پر صرف نظر کرلیا ہے جبکہ جاپان اور جنوبی کوریا نے نرمی کے ساتھ امریکہ کے احکامات کی تعمیل سے نہ صرف گریز کیا ہے بلکہ اُسے اپنے مفاد میں مشورہ دے کر منوایا بھی ہے۔ ایسی صورتِ حال میں امریکہ کے پاس ایک آخری حربہ ہے کہ ملٹری طاقت کے ذریعے اپنی بالادستی قائم کرے جس سے خود امریکہ کو خطرہ ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں