آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر18؍ ربیع الثانی 1441ھ 16 دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کراچی پر اُس وقت بانی ایم کیو ایم کی بادشاہت تھی اور شہر میں اُس کا طوطی بولتا تھا، بھتہ خوری، اغواء برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ زوروں پر تھی، منٹوں میں شہر کو بند کرادیا جاتا تھا، ہر شام لوگ ایک دوسرے سے آج کا اسکور دریافت کرتے تھے۔ اسکور سے مراد اُس دن ہونے والی درجنوں ٹارگٹ کلنگ اور بوری بند لاشیں ہوتی تھیں جو شہر کے مختلف علاقوں سے ملتی تھیں۔11 ستمبر 2012ء کو پیش آنے والے سانحہ بلدیہ فیکٹری جس میں 250 سے زائد جانیں لقمہ اجل بن گئی تھیں، کو ابھی کچھ ہی ہفتے گزرے تھے کہ ایک دن ہمیں ایک پرچی موصول ہوئی جس میں ایک کروڑ روپے بھتے کا مطالبہ کیا گیا تھا بصورت دیگر بلدیہ فیکٹری جیسے انجام کیلئے تیار رہنے کی دھمکی دی گئی تھی۔ اس سے پہلے اتنی بڑی رقم کا تقاضا کبھی نہیں کیا گیا تھا مگر بات اب لاکھوں سے کروڑوں تک آچکی تھی۔میں جب گھر پہنچا تو دل بہت اداس تھا، والدہ کے پاس آکر میں نے انہیں صورتحال سے آگاہ کیا اور بتایا کہ کراچی میں رہنا اب ہمارے لئے مشکل ہوگیا ہے، کیوں نہ ہم اپنا سب کچھ بیچ کر کسی دوسرے ملک منتقل ہوجائیں۔‘‘والدہ محترمہ نے جواب دیا کہ ’’ ہم پاکستان کیلئے اپنا سب کچھ لٹاکر یہاں آئے تھے، ہمارا جینا مرنا پاکستان کیلئے ہے، میں یہ ملک کبھی چھوڑ کر نہیں جائوں گی کیونکہ آج پاکستان کو ہماری ضرورت

ہے۔‘‘ والدہ کی ان باتوں سے ہماری کچھ ڈھارس بندھی، ہمارے حوصلے بلند ہوئے اور ہم بھائیوں نے دوسرے ملک منتقل ہونے کا ارادہ ترک کردیا۔
اسی طرح ایک مرتبہ کراچی میں تعینات ایک انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ نے مجھے اپنے دفتر بلاکر آگاہ کیا کہ ’’ہمیں کچھ ایسی معلومات ملی ہیں کہ آپ دونوں بھائیوں کی جان کو خطرہ ہے، اس لئے بہتر ہوگا کہ آپ احتیاط کریں۔‘‘ بانی متحدہ اور ان کے ساتھیوں کی ہم سے ناراضی کی ایک وجہ 2008ء میں ہونے والا وہ الیکشن تھا جس میں میرے بھائی اختیار بیگ نے ان کی پارٹی کے خلاف کراچی میں الیکشن لڑا اور 50 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کئے مگر آخری وقت میں بیلٹ باکس میں جعلی ووٹ بھرکر نتائج تبدیل کردیئے گئے اور سب کچھ دیکھتے ہوئے الیکشن کمیشن بھی کچھ نہ کرسکا۔ ان حالات میں جب ہم روزانہ والدہ کی دعائیں لے کر گھر سے فیکٹری جانے کیلئے نکلتے تو یہ نہیں معلوم ہوتا تھا کہ شام کو زندہ سلامت واپس لوٹیں گے یا نہیں؟ جنرل پرویز مشرف نے اپنے 8 سالہ دور حکومت میں اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئےاسے اور اس کی جماعت کو اتنا مضبوط کردیا تھا کہ کراچی میں سانحہ 12 مئی جیسا واقعہ پیش آیا۔ اسی طرح آنے والی پی پی حکومت بھی ان سے خوفزدہ تھی اور سب کچھ جانتے ہوئے بھی ان کے خلاف کوئی اقدام کرنے کی ہمت نہیں کرپارہی تھی۔ بانی متحدہ کا راج جب تک کراچی پر رہا، مجھ سمیت کراچی کے صنعتکار اپنی جانوں کا صدقہ اُسے پیش کرتے رہے۔
کہتے ہیں ’’اللہ کے ہاں دیر ہے، اندھیر نہیں۔‘‘ 2013ء کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) برسراقتدار آئی، نواز شریف وزیراعظم منتخب ہوئے اور جب کراچی تشریف لائے تو گورنر ہائوس کراچی میں ایک میٹنگ میں مجھ سمیت کئی بزنس مینوں نے ان سے شہر میں بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کی شکایتیں کیں۔ یہ وہ موقع تھا جب درجنوں سرمایہ کار اپنا سب کچھ بیچ کر اپنی فیملی کے ہمراہ دبئی شفٹ ہورہے تھے۔ وزیراعظم نواز شریف نے ہمیں یقین دلایا کہ ’’کراچی کا امن میری پہلی ترجیح ہے۔‘‘ پھر سب نے دیکھا کہ ’’کراچی آپریشن‘‘ کا آغاز ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے دہشت گرد، بھتہ خور، ٹارگٹ کلر اور جلائو گھیرائو میں ملوث جرائم پیشہ افراد کیفر کردار کو پہنچ گئے۔ آج کراچی پرامن شہر بن چکا ہے اور کراچی کے شہری بلاخوف و خطر زندگی گزاررہے ہیں۔ میری والدہ مرتے دم تک ہر نماز کے بعد کراچی میں امن قائم کرنے اور رونقیں واپس لانے پر نواز شریف کو دعائیں دیتی رہیں۔کراچی کی طرح بلوچستان کی صورتحال بھی اکبر بگٹی کے مارے جانے کے بعد انتہائی خراب تھی اور یہ صوبہ مکمل طور پر دہشت گردوں کے کنٹرول میں دکھائی دے رہا تھا لیکن نواز شریف نے برسراقتدار آکر اکثریتی پارٹی ہونے کے باوجود ڈاکٹر عبدالمالک کو وزیراعلیٰ بنایا اور امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے عملی اقدامات کئے جس کے باعث صوبے میں امن و امان قائم ہوا۔اسی طرح عالمی دبائو کے باوجود ایٹمی دھماکے کا سہرا بھی نواز شریف کو جاتا ہے۔
زندگی میں کچھ فیصلے کرنا یقیناََ بہت مشکل ہوتے ہیں اور میراسیاست میں آنے کا فیصلہ بھی کوئی آسان فیصلہ نہ تھا۔ حالانکہ میرا تعلق ٹریڈ پالیٹکس سے رہا ہے اور میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کا نائب صدر ہوں۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں ملکی سیاست میں عملی قدم رکھوں گا حالانکہ مجھے کئی سیاسی جماعتوں کی جانب سے پرکشش عہدوں کی پیشکش کی گئی مگر موجودہ حالات اور سیاسی عدم استحکام کو دیکھتے ہوئے میں نے فیصلہ کیا کہ آگے بڑھ کر ملکی سیاست میں اپنا مثبت کردار ادا کروں۔ اس طرح گزشتہ دنوں میں نے اسلام آباد میں سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی اور پارٹی چیئرمین راجہ ظفر الحق، گورنر سندھ محمد زبیر، وفاقی وزیر سعد رفیق، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور دیگر پارٹی رہنمائوں کی موجودگی میں مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان کیا۔ یہاں میں گورنر سندھ محمد زبیر اور وفاقی وزیر سعد رفیق کا بھی مشکور ہوں جنہوں نے (ن) لیگ میں میری شمولیت میں اہم کردار ادا کیا۔
(ن) لیگ میں شمولیت کے بعد ہر شخص مجھ سے ایک سوال کررہا ہے کہ ’’ایسے میں جب مسلم لیگ (ن) مشکلات کا شکار ہے اور لوگ پارٹی چھوڑ کر جانےکی باتیں کررہے ہیں تو آپ نے اس پارٹی کو کیوں جوائن کیا؟‘‘ میرے خیال میں زندگی کے ہر فیصلے فائدے کیلئے نہیں کئے جاتے، میں نے کسی عہدے یا لالچ میں مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار نہیں کی بلکہ میرا یہ یقین ہے کہ (ن) لیگ بزنس مین دوست جماعت ہے اور نواز شریف میں ملک کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت ہے، مسلم لیگ (ن) نے گزشتہ 4 سالوں میں ملک کو اندھیروں سے نکالا، سڑکوں کا جال بچھایا اور سی پیک منصوبے کی بنیاد رکھی۔ میری فیکٹری سمیت وہ فیکٹریاں جو گزشتہ دور حکومت میں بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کے باعث 12,12 گھنٹے بند رہتی تھیں، آج بلاتعطل 24 گھنٹے شفٹوں میں چل رہی ہیں۔ پاکستان کی جی ڈی پی گزشتہ 9 سالوں میں پہلی بار 5.3 فیصد کی شرح پر آگئی، افراط زر ریکارڈ 4 فیصد تک آگئی، ٹیکس ریونیو کی وصولی جو پچھلی حکومت میں 2ہزار ارب روپے تھی، دگنا ہوکر 4ہزار ارب روپے تک پہنچ گئی، پاکستان کا شمار معاشی طور پر مضبوط ممالک میں کیا جانے لگا اور متوسط طبقہ جو کسی ملک کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، تیزی سے ابھر کر سامنے آیا جس کا اعتراف بلومبرگ اور مغربی میڈیا نے بھی کیا لیکن شاید پاکستان کو کسی کی نظر لگ گئی اور وہ اچھے کام جو موجودہ حکومت نے پچھلے 4 سالوں میں کئے تھے، ان کے ثمرات ملنے کا وقت آیا تو کچھ سیاسی شخصیات نے اقتدار کے حصول کیلئے حکومت کو غیر مستحکم کرکے ملکی معیشت کا پہیہ روک دیا۔پانامہ لیکس، جے آئی ٹی اور وزیراعظم نواز شریف کو اقامہ کی بنیاد پر عہدے سے معزول کئے جانے کے باعث تیزی سے اوپر جاتی ہوئی معیشت تنزلی کا شکار ہوتی چلی گئی اور ملک میں معاشی بحران پیدا ہوگیا۔ان حالات میں، میں نے سوچا کہ میں آگے بڑھ کر مشکلات کے وقت میں نواز شریف اور ان کی پارٹی کا ساتھ دوں اور اپنا مثبت کردار ادا کروں۔
میں گزشتہ 15 سالوں سے پاکستان کے سب سے بڑے اخبار ’’جنگ‘‘ کیلئے کالم تحریر کررہا ہوں، اندرون و بیرون ملک لاکھوں قارئین میرے کالم باقاعدگی سے پڑھتے ہیں۔ اس تمام عرصے میں نے اپنے کالمز میں غیر جانبداری کا مظاہرہ کیا اور (ن) لیگ میں شمولیت کے بعد بھی میری یہ روش قائم رہے گی۔اکثر لوگ کہتے ہیں کہ کراچی میں امن رینجرز نے قائم کیا مگر یہ رینجرز تو جنرل پرویز مشرف اور آصف زرداری کے دور میں بھی موجود تھی لیکن نواز شریف ہی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے بلاتفریق رینجرز کو کراچی میں آپریشن کا حکم دیا جس کے باعث شہر کو دہشت گردوں، بھتہ خوروں اور قاتلوں سے نجات ملی اور کراچی میں امن و امان قائم ہوا اور آج کراچی کے مکین بے خوفی سے رہ رہے ہیں جس پر مجھ سمیت کراچی کا ہر شہری نواز شریف کا مقروض ہے۔ شاید میں مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کرکے نواز شریف کے ہاتھ مضبوط کرکے کراچی پر ان کے احسانات کا قرض اتارسکوں۔