ملتان(سٹاف رپورٹر)حکومت پنجاب کی ہدایت پر شہر میں مختلف ورکشاپس،ہوٹلوں اور دکانوں پر کام کرنے والے بچوں کی رجسٹریشن اور ان کو مختلف سکولوں میں داخل کروانے کا عمل ست روی کا شکارہے جس کی وجہ سے چائلڈ لیبر کا خاتمہ نہ ہوسکا،وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر چائلڈ لیبر کے خاتمہ کیلئے احکامات جاری کئے گئے تھے جس پر لیبر ڈیپارٹمنٹ ملتان کی جانب سے ٹیمیں تشکیل دی گئیں اور انہوں نے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے ورکشاپس،ہوٹلوں اور دکانوں پر کام کرنے والے بچوں کے کوائف جمع کر کےصوبائی حکومت کو بھجوادیئے لیکن کافی عرصہ گزرنے کے باوجودمقامی حکام نے ورکشاپوں اور دیگر مقامات پر چیکنگ کے معمولات بھی ختم کر دئیے ہیں اور شہر میں جگہ جگہ کم عمر بچوں سے مشقت کا سلسلہ جاری ہےاور وزیر اعلیٰ پنجاب کی پالیسی کی تکمیل کو نظر انداز کرتے ہوئے بچوں کو متعلقہ سکولوں میں داخل نہیں کروایا جا سکا جس کی وجہ سے چائلڈ لیبر کے خاتمہ کی مہم بے سود ثابت ہو رہی ہےرشید آباد میں واقع ہوٹل پر8سے زائد بچے برتن دھونے اور صفائی پر مامور ہیں، ہوٹل مالک کا کہنا تھا کہ بچے بڑے افراد سے زیادہ کارکردگی دیکھاتے ہیں اور انہیں دو ٹائم کا کھانا بھی دیا جاتا ہے جبکہ چوک کمہاراں والا پر ورکشاپس پر 6سے بچے مزدوری میں مصروف تھے اور مالک کا کہنا تھا کہ مہنگائی کے موجودہ حالات میں بڑے افراد کو مزدوری پر رکھنے کی گنجائش نہیں ہے،اس حوالے سے مقامی لیبر آفیسر کا کہنا تھا کہ محکمہ کوئی فورس نہیں رکھتا ، سٹاف بہت کم ہے ۔