آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی تڑیاں، بھارتی ریشہ دوانیاں، افغان حکومتی خرمستیاں، لہولہان کشمیراور کل کا یوم یکجہتی، جان لیوا مسائل کا انبوہ، کچھ بھی تومتوجہ نہیں کر پاتا۔ وطن عزیز میں جاری سیاست اور اداروں میں تصادم، کئی گل کھلانے کو۔ معمولی فہم و فراست رکھنے والوں کے چارو ں طبق روشن، اپنی رات کی نیندیں اچاٹ کر چکا ہے۔ چاہتے ہوئے بھی کالم کا موضوع مختلف نہیں ہو سکا۔انگریزی کا پر معنی قول، ’’جہنم کا راستہ اچھی نیت، اعلیٰ غرض و غایت، اخلاص کی اینٹوں سے چنا جاتا ہے‘‘۔70سال سے دخل در معقولات کے تصور سے پاک،خلوص نیت پر مبنی دخل اندازی بطور قومی فریضہ بن چکاہے۔ مملکت خداداد اسلامیہ کی70سالہ تاریخ،یہی کہ اچھی نیت پرمبنی اقدامات نے ہی سرزمین پاک کو برزخ بنائے رکھا ہے، نظریہ ضرورت متعارف کروایا۔
1969میں ماریو پوزو کے شہرہ آفاق ناول ’’گاڈفادر‘‘ ،چھپتے ہی بیسٹ سیلر رہا۔ تھیم اطالوی مافیا فیملی کی ظلم، بربریت، قتل و غارت اور سازشوں کی طویل تصوراتی کہانی ہے۔ پاکستان میں مقبولیت اور پذیرائی 2016 میں ملی کہ جناب جسٹس آصف کھوسہ نے ماریو کی کتاب کے ماتھے پر جڑا فرانسیسی ڈرامہ نگار بالزیک (HONORe de BALZAC) کا قول ــ کہ ’’دنیا کی ہر بڑی دولت کے پیچھے ایک سرزد جرم ہے‘‘، پاناما کیس فیصلے کے ماتھے کا جھومر بنا ڈالا۔مافیا فیملی کی

کہانی اور شریف خاندان میں مماثلت یہی بتائی۔انگریزی مقولہ اور بالزیک کے قول میں ایک واجبی تعلق موجود ہے۔ بالزیک کی نیت بلندیوں کوضرور چھوئی، بدقسمتی اتنی کہ بلا تفریق و تحقیق ذہن بنا لیاکہ ’’دولت مند ہے تو مجرم ہے‘‘۔ اب اگرکوئی منصف خلوص نیت سے مالامال،ا ٓئین و قانون کی مستحکم آرٹیکل، دفعات کو نظر انداز رکھے، کہاوتوںکی عمومی سچائی کو رہنما اصول یا پیش لفظ بنائے تو بہترین نیت کا نفاذ عملاً دارلفساد کا راستہ ہی سنوارے گا۔پچھلے کئی مہینوں سے ،یکے بعد دیگرے فیصلوں نے قوم کوایک بار پھر اداروں پر تقسیم کر دیا ہے، ایک بار پھر ارض پاک بھگتنے کو تیار ۔سیاست کا بڑا دھڑا، اداروں پر بد اعتمادی کا اظہار بڑھ چڑھ کر بتا رہا ہے۔ ہر آنے والے دن نواز شریف کے ہمنوائوں میں حیران کن اضافہ بتا رہا ہے۔جب چیف جسٹس میاں ثاقب نثار صاحب نے منصب سنبھالا، کروڑوں پاکستانیوں کی طرح میری آس ،امیدبھی بلندیوں کو چھونے لگی۔مجھے یقین تھا،وطنی خطرات کو سامنے رکھتے ہوئے ،آئین، قانون، حکمت، تدبر کی بہترین آمیزش دیکھنے کو ملے گی۔سیاسی جماعتوں کے باہمی ٹکرائو اور سیاست کا اداروں کو آڑے ہاتھوں لینے کی روش کو پچھلے قدموں دھکیلا جائے گا۔ قوم کو متحد اور 20کروڑ لوگوں کا متفقہ اعتماد جیتیں گے۔ ایسے فیصلے ہونگے کہ قوم کو متحد و متفق رکھتے ہوئے وطن عزیز کو درپیش خطرناک مسائل سے نبٹنا ترجیح ہوگی۔قومی بدقسمتی کہ ماضی کی تکرار، غلطیاں دہرائی جا رہی ہیں۔184(3) کے بل بوتے ملکی سیاست کی تطہیرکاغیر معمولی عمل جاری ہے۔مروجہ قوانین اور آئین سے نظیر نہ ملی تو سطر بندی اور جواز کے لئے بلیک لا ڈکشنری کا سہارا لیا گیا، عدالتی فیصلے وجہ نزاع کو مستحکم کرتے، بڑھا رہے ہیں۔ عدالتی کارروائی کےدوران تبصرے اور بذریعہ اقوال زریں تضحیک اور تذلیل کا کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ چھوڑا گیا۔غصہ بڑھ چڑھ کر نظر آیا۔واٹس ایپ پر وجود میں آنے والیJIT کے اجزائے ترکیبی میں مخصوص عناصرکی موجودگی، دیگر حرکات و سکنات کا شاخسانہ کہ سپریم کورٹ کے فیصلے خلاف ،نواز شریف کا ووٹر سپورٹر بپھر چکا ہے،آج اٹھ کھڑا ہواہے۔ضمنی الیکشن اور جلسوں میں بڑھتی حاضری گواہ، نواز شریف الیکشن جانب طوفان میل بن کر گامزن ہے۔ حکمت اور تدبر کتابوں سے نہیں ملتا، پروفیشنل تعلیم کابھی اس سے کوئی تعلق نہیں، اللہ کی طرف سے براہ راست دماغ میںداخل رہتاہے۔ دنیا کے بڑے بڑے حکیم، مدبر بنیادی تعلیم سے محروم رہے مگر تدبر، فراست حکمت میں سکہ جماگئے۔ عسکری ادارے تدبر و فہم کے اعلیٰ درجے پر فائز نہ بھی ہوں تو فرق نہیں پڑتاکہ پروفیشنل مہارت اصل ضرورت ہے۔ چرچل کے دوقول ،’’جنگ جیسا سنجیدہ معاملہ جرنیلوں پر نہیں چھوڑا جا سکتا‘‘کہ جنگ کے فیصلوں میں تکنیک سے زیادہ فہم و تدبر کا عمل دخل ہے۔ دوران جنگ، ایک اور موقع پر چرچل نے جب عدالتوں کو پھرولا اورکہا’’اگر برطانوی عدالتیں قانون، انصاف کے مطابق فیصلے کر رہی ہیں تو یقین دلاتا ہوںہم جنگ نہیں ہاریں گے‘‘۔ جناب والا!چرچل کا یہ قول تقریر کی لمبائی کولیڈیز اسکرٹ کے سائز سے ملانے والے قول سے زیادہ پرمغز ہے۔ریڑھ کی ہڈی اس تصور پر یخ بستہ رہے گی کہ اگر ہماری سیاست یا عدالت تدبر، تدبیر، فہم و فراست، حکمت سے خالی نظر آئی۔
دنیا کھنگالی، ملک ملک چھانے، کسی ملک میں ،کہیں بھی قوم سیاست، عقیدے، اقلیت،اکثریت عدالتی اور عسکری اداروں پر منقسم نہیں پائی۔ جن ملکوں میں (پاکستان بدرجہ اتم موجود) ملتی جلتی کیفیت موجود، ریاست متحدنظرنہ آئی ،پاش پاش رہی۔ اس میں باک نہیں کہ سیاستدان ایک دوسرے کو زیر کرنے کے لئے اداروں کو ملوث رکھنے میں تدبیر و ترکیب آزمانے کا کوئی موقع نہیں گنواتے۔ مگریہ کب ممکن رہتا ہے؟ تب ہی جب مضبوط ادارے آئین سے باہر، تجاوز میںاپنا منصب و مقام تلاش کرتے ہیں۔ بدقسمتی آج پاکستانی قوم اداروں پر مکمل تقسیم ہو چکی ہے۔ آج دو بڑے ادارے میڈیا جو عموماًسیاستدان شدو مد سے استعمال کرتے ہیں، ادارے زور و شور سے مستفید ہو رہے ہیں۔ جب مفادات کے اسیر بن جائیں تو حکومت سے ٹکرائو منطقی انجام ہے۔قومی یکسوئی، اتحاد،یقین، ایمان سب کچھ تتر بتر ہو نا ہی تھا۔ تکلیف نے بڑھنا ہے۔ اداروں کی نفسیات اور اعتماد میں ہلچل اور ہیجان ،ہر دم نئے گل کھلانے کو۔خلاف معمول ہی کہ ادارے بذریعہ تقاریر، ٹویٹس، سوشل اور مین اسٹریم میڈیا پر بڑھ چڑھ کر اپنا موقف اجاگر کررہے ہیں۔لگتا ہے فیصلوں کی تشریح و توضیح تقاریراور میڈیا کے ذریعے ضرورت بن چکی ہے۔ صدیوں سے راسخ عدالتی کہاوت بھی، ’’جج کے فیصلے بولتے ہیں،جج بولنے سے پرہیز رکھتے ہیں‘‘، سب اقدار طاق نسیان رکھ چکے ہیں۔طبیعت نے مکدر ہی رہنا ہے جب عزت مآب چیف جسٹس صاحب کے مرتبے کے لوگ تقریروں میں قسمیں اٹھائیں، باور کرائیں کہ ’’ہم نے انصاف کا دامن مضبوطی سے پکڑ رکھا ہے‘‘ ۔ عسکری اداروںکا آئے دن اپنی غیر جانبداری کا نقارہ بلند کرنابھی غیر ضروری ہے۔بڑھ چڑھ کر ٹویٹس، بیانات، تقاریر، موجودہ مسائل کا حل نہیں۔ وطن عزیز کے معروضی حالات پر رحم کون کھائے گا؟ کیا عدالتی تدبر اور فہم و فراست میں یہ بات بھی آئی کہ فرانسیسی ناول نگار بالزیک کے قول کو سامنے رکھ کر ذہن بنانے کی بجائے، آئین وقانون کو من و عن نافذ کرنے کا بندوبست کیا جاتا۔آئین کے آرٹیکل10(A) اور الیکشن کمیشن کے آئینی مینڈیٹ کا احترام رہتا۔ روزن دیوار اور قانونی شگافوں کا فائدہ ملزم کو رہنا تھا۔ دو مقدمات، ایک ہی عنوان اورمتن، ایک ہی استدعا،مختلف ملزم نواز شریف اور عمران خان، فیصلہ بھی مختلف رہا۔چیف صاحب کےبنچ نے عمران خان بارے جس رویے اور قوانین کا سہارا لیا۔کیاہی اچھا ہوتا نواز شریف کیس میں وہی پیمانہ رہتا۔
نہال ہاشمی نے جو کچھ کہا، سزا پائی۔ مذمت ضروری۔اگرچہ نہال ہاشمی بارے کیمرے پر بنائی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ بہت کچھ مستحکم کر گئی۔ گفتگوباقاعدہ پریس کے سامنے نہیں کی،باقاعدہ کیمرہ بھی غیر موجود، چند درجن کارکنان کا مختصر اکٹھ ضرور۔ جوش و خروش، وفور جذبات میں بہہ جانے کی توثیق نہیں ہو سکتی۔بہرحال بدنیتی سے زیادہ جہالت کار فرما رہی۔ میرا رنج نہال کی سزا نہیں اس فرق پر نہال ہاشمی کی تقریر سے پہلے جنرل مشرف کا غداری کیس مع صدر ہائوس میں چیف جسٹس افتخار چوہدری کو حبس بے جا میں رکھنا ، پہلی پیشی پر چیف صاحب پر ہاتھ اٹھانا،بے توقیری کرنا، ججز کو مع فیملی قیدو بند میں رکھنا،3نومبر2007کو آئین پامالی بمطابق آرٹیکل6غداری موجود، پچھلے دنوں کامران شاہد کو انٹرویو دیاکہ ’’فوج کا عدلیہ پر دبائو ہی تھاکہ نتیجے میں پاکستان سے نکلنے میں کامیابی ملی‘‘۔ مشرف کیس میںاگر توہین عدالت پر کارروائی میں حیلے بہانے کی کوئی گنجائش تھی بھی تو خادم حسین رضوی کی درجنوں کیمروں ہزاروں دھرنا شرکا کی موجودگی میں تقریریں ،صرف نظر کیونکر ممکن ہوا۔ سپریم کورٹ کے ججز کا نام پکار پکارکر جو زبان استعمال ہوئی ۔قاضی عیسیٰ کے بینچ میں رضوی کی گالیوں کی بازگشت رہی، کف افسوس ملا گیا۔ باقی فواد چوہدری کے اقوال زریں، شیخ رشید کی بار بار تکرار کہ سپریم کورٹ کے پانامہ بینچ کو نوازشریف نے پانچ بلین آفر کئے معمولی واقعات ،درخوراعتنا رکھنا سمجھ آتا ہے۔مگر جنرل مشرف اور خادم حسین رضوی کو ’’نظریہ ضرورت‘‘ کے تحت آئین اور قانون کی گرفت میںنہ لانا، سمجھ کے کسی خانے میں فٹ نہیں بیٹھتا۔ان حالات میں نہال ہاشمی سے صرف نظر رکھنا ہی دانشمندی کا تقاضا تھا۔ برادرم سہیل وڑائچ کا کالم ’’نہال کو اور مارو‘‘،یہی کچھ رقم رہا ۔نہال نے جرم ضرور سرزد کیا۔ مگر یہ اعزاز بھلا اس سے کون چھین سکتا ہے کہ نہال ایک بے وقوف، معمولی وکیل، مفلوک الحال، سادہ، بے وقوف اور سب سےبڑھ کر جذباتی جنونی کمزور آدمی تھا۔
ایسے اجزائے ترکیبی سے مزین شخص کو یقیناً عبرت ناک سزا ملنی چاہئے تھی۔ آدمی کمزور ضرور، آتشیں جنونی زبان دراز کی تو کس کے خلاف ،واٹس ایپ کال پر وجود میں آنے والی JITکے خلاف ، سپریم کورٹ جتناتوقیر و تقدس تفویض تھا۔ سہیل وڑائچ سے متفق ، طاقت ور، اعلیٰ طبقہ اور مذہبی قائدین کی ہر گستاخی سے صرف نظرہو سکتا ہے، نہال، طلال، دانیال جیسے لوگوں کو جرات کیوں؟ نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع سزائوں کے لامتناہی سلسلے نے طبیعت کو بوجھل رکھنا ہے، پاکستانی قوم کو مزیدمشتعل کرناہے۔ برادرم کے کالم سے انڈین فلم ’’لیلیٰ مجنوں‘‘کا ایک گانا ، یاد آ گیا،’’کوئی پتھر سے نہ مارے میرے دیوانے کو‘‘ ہمیشہ دکھی کر جاتا تھا۔ یقین ہے مجنوں اگر سابق ادارتی چیف ہوتا، طاقتور قوتوں کا دست راست ہوتا، آلہ کار رہتا، جرات نہ ہوتی کسی کو کہ پتھر مارتے۔ مجنوں کو پتھر جنون اور کمزور ہونے کی وجہ ہی سے توپڑے۔70سال سے ترازو موجود، توازن نہیں۔ واہ رے پاکستان تیرےمقدر۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں