آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
بچی کی موت معمہ بن گئی...جل کر مری یا قتل کیا گیا

تحصیل ٹنڈومحمدخان کے گاؤں سومار ماچھی میںایک ماہ قبل انتہائی افسوس ناک واقعہ پیش آیاجو علاقے کے عوام کے لیے معمہ بنا ہوا ہے۔ڈسٹرکٹ اسپتال میں ایک9سالہ بچی روزینہ ملاح کو جھلسی ہوئی حالت میں طبی امداد کے لیے لایا گیا، بچی کے جسم کا 18فی فیصد حصہ جھلس چکا تھا جب کہ بقیہ صحیح حالت میں تھا۔

اس کے ساتھ آنے والے سول سوسائٹی کے نمائندوں کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ بچی کے ساتھ مبینہ ذیادتی کے بعد اسے زندہ جلانےکی کوشش کی گئی ہے۔ 

اسپتال انتظامیہ نےمذکورہ بچی کا مکمل طور سے طبی معائنہ کرایاجس کے بعد ڈاکٹروں نےاس کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کرتے ہوئے اسے جلانے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔

مذکورہ واقعے کا لیکٹرونک و پرنٹ میڈیاکے توسط سے علم ہونے کے بعد آئی جی سندھ، جناب اے ڈی خواجہ نے اس واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کے ضلعی حکام کو اس کی مکمل تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔

آئی جی سندھ کے بروقت اقدام کے بعد محکمہ پولیس میں کھلبلی مچ گئی اور متاثرہ بچی کو ابتدائی طبی امداد کے بعد سول اسپتال حیدرآباد منتقل کیا گیاجہاں پر لیڈی ڈاکٹر نے میڈیکل چیکاپ کرنے کے بعد اپنی رپورٹ میںبچی کے ساتھ ذیادتی کی تردید کی۔ 

بچی کی موت معمہ بن گئی...جل کر مری یا قتل کیا گیا

جس کے بعداسپتال کے برنس وارڈمیں داخل کیاگیا۔اس وارڈ کے معالجین نے بچی کے والدین کو تسلی دیتے ہوئے یقین دلایا تھا کہ بچی معمولی سی جھلسی ہے، بہت جلد صحت یاب ہوجائے گی۔ بچی اسپتال میں زیر علاج تھی اور اس کی حالت بہتر ہورہی تھی کہ 13مارچ کو اچانک اس کےانتقال کی اطلاع ملی۔ معصوم بچی روزینہ ملاح کی اچانک موت اپنے پیچھے کئی سوالات چھوڑگئی ہے۔

ٹنڈومحمدخان ڈی ایچ کیو اسپتال اور سول اسپتال حیدرآباد کی لیڈی ڈاکٹروںکے بیان میںاتنا تضاد کیوں ہے؟شیخ بھرکیو پولیس اور ضلع پولیس کی جانب سےتحقیقات کے دوران کیا حقائق سامنے آئے؟ حیدرآباد کے سول اسپتال میں اسے علاج معالجے کی بہتر سولتیں فراہم کی گئیں یااس کی زندگی ڈاکٹروںکی لاپروائی کی نذر ہوگئی ۔

ٹنڈو محمد خان اسپتال کی میڈیکل آفیسر نے طبی معائنے کے بعد ننھی روزینہ کے ساتھ زیادتی کی رپورٹ دی تھی، جب کہ اسی دن حیدرآباد سول اسپتال کی لیڈی ڈاکٹر نے اپنی طبی رپورٹ میں بتایا کہ روزینہ کے پیٹ کے نیچے کی جگہ پر آگ سے جلنے کے باعث سوجن آئی ہوئی تھی اور اس کے ساتھزیادتی کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہواتھا۔ دونوںڈاکٹروں میں سے کس کی رپورٹ پر یقین کیا جائے۔ 

کیا دونوں رپورٹس تجزیاتی ٹیسٹس کی روشنی میں مرتب کی گئیں یا محض نبض دیکھ کر مرض کی شناخت کی گئی؟ کیا ٹنڈو محمد خان کے اسپتال کی لیبارٹری میں اس اہم نوعیت کے ٹیسٹس کی سہولتیں دستیاب ہیں، اگر نہیں ہیں تو میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے اس سلسلے میں اب تک اقدام کیوں نہیں کیا؟اگر ڈی ایچ کیو اسپتال کی رپورٹ پر یقین کرلیا جائے تو حیدرآباد کی میڈیکل آفیسر نے رشوت لے کر جھوٹی رپورٹ بنانے کا جرم کیا ہے، اس کی بھی تحقیقات کی ضرورت ہے۔

پولیس کی غفلت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ معصوم رو زینہ کا وہ لباس جس سے طبی معائنے کے وقت کافی مدد مل سکتی تھی، بروقت حیدرآباد نہیں پہنچایا گیا اور وہ 24گھنٹے تک ٹنڈومحمدخان اسپتال میں پڑا رہا۔ 

ڈسڑکٹ اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر لیاقت قمبرانی نےاس سلسلے میں کئیمرتبہ پولیس سے رابطہ کیا مگرکپڑے لینے کے لیے کوئی الہ کار نہیں پہنچا۔ اسپتال انتظامیہ نے پولیس کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا جس کے بعد شیخ بھرکیو پولیس کے ہیڈ محرر حاصل وہ لباس لے کر گئے ، لیکن ان کی تجزیاتی رپورٹ بھی نہیں ملی۔

پولیس نےروزینہ کو کو اسپتال لانے والے کے ساتھ دیگر افراد کو بھی شبہ کی بنیاد پرحراست میں لیا تھاجنہیں بعد ازاں رہا کردیا گیا۔ لیکن یہ معصوم موت ایک معمہ بنی ہوئی ہے، جب تک اس کی مناسب طور سے تفتیش نہیں ہوگی، حقائق پس پردہ ہی رہیں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں