آپ آف لائن ہیں
پیر 5؍رمضان المبارک 1439ھ 21؍مئی 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کراچی(اسٹاف رپورٹر)کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن (کے ای ایس سی) کی نجکاری معاہدے سے سندھ حکومت کو دور رکھا گیا تھا اور وہ اس معاہدے میں فریق نہیں تھی،یہ بات وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وزیراعظم پاکستان کو صوبے میں جاری طویل لوڈشیڈنگ کے مسئلے کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے اپنے تیسرےخط میں کہی ہے،وزیر اعلی نے وزیراعظم پاکستان کے نام اپنے خط میں کہا ہےکہ ایسا لگتا ہے کہ پی ایم ایل این کی حکومت نے سندھ کے لوگوں کو ہدف بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے کیونکہ انہوں نے انہیں انتخابات میں رد کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ فوری جواب نہ ملا تو سی سی آئی اور این ایف سی اجلاس میں مسئلہ اٹھائونگا،انہوں نے کہا کہ ہم اس صورتحال پر خاموش تماشائی بن کر نہیں رہ سکتے۔وزیراعظم کے نام اپنے خط میں انہیں بتایا ہے کہ کے الیکٹرک کو بجلی کے پیداوار کے لئے گیس کی فراہمی میں کمی کا معاملہ اب تک جوں کا توں ہے۔ پچھلے لکھے گئے دونوں خطوط اور متعدد فون کالز کے باوجود سندھ کے لوگ بالخصوص کراچی کے لوگ ابھی تک بجلی سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک اور ایس ایس جی سی کے مابین جاری جھگڑے سے صرف اور صرف کراچی کے رہائشی متاثر ہورہے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ میں ایک بار پھر اس بات پر زور دوں گا کہ اس مسئلے کو حل کرانے کی ذمہ

x
Advertisement

داری حکومت پاکستان پرعائد ہوتی ہے کیونکہ اس کے ایس ایس جی سی کے 70 فیصد سے زائد اور کے الیکٹرک کے 25 فیصد شیئرز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیپرا اور اوگرا بھی وفاقی حکومت کے ماتحت ادارے ہیں۔ ایگریمنٹ کے ذریعے حکومت پاکستان نے کے ای ایس سی کے واجب الادا تمام قرضوں بشمول کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ پر تھے کی گارنٹی دی تھی جب کہ سندھ حکومت کے ڈبلیو اینڈ ایس بی کے موجودہ بل بروقت ادا کر رہی ہے۔ اس طرح کئے گئے معاہدے کی رو سے قرضوں کی ادائیگی کی ذمہ دار حکومت پاکستان ہے۔ وزیراعلی ٰسندھ نے کہا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے اس مسئلے کو حل نہ کرنے کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ کراچی کے لوگ مصائب کا شکار ہیں بلکہ امن و امان کا مسئلہ پیدا ہونے کا بھی اندیشہ ہے جیسا کہ مختلف سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی کے اداروں نے اس مسئلے پر سڑکوں پر احتجاج کرنے کی دھمکی دی ہے۔اس صورتحال کے نتیجے میں کراچی کا امن متاثر ہو سکتا ہے۔انہوں نے مزید کیا کہ سندھ کے لوگ بھی پاکستان کے شہری ہیں اور آئین کے تحت انہیں بھی مساوی حقوق حاصل ہیں۔ اس صوبے کےشہری حکومت پاکستان کے اس امتیازی سلوک کو اب مزید برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اپنے خط کے اختتام میں انہوں نے وزیراعظم کو بتایا کہ اگر اس خط کے بعد بھی وفاقی حکومت نہیں جاگتی ہے اور وہ اس حوالے سے فوری جواب یا کارروائی کرنے میں ناکام رہتی ہےتو پھر میں سی سی آئی اور این ایف سی کے اجلاس جوکہ آئندہ ہفتے ہونا ہے اس میں اس مسئلہ کو اٹھائوں گا اور اس کے علاوہ کسی اور ایجنڈے یا آئٹم پر ہونے والی بحث میں شریک نہیں ہونگا، جب تک کہ اس مسئلے پر سندھ کے لوگوں کے جائز مطالبے کا اچھے طریقے سے تدارک نہیں کر لیا جاتا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پرائم منسٹر آفس تمام متعلقہ اداروں کو بغیر کسی تاخیر کے اس مسئلے کے حل کے لئے فوری ہدایت جاری کرے گا۔

​​
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں