آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج ہمیں بات کرنی تھی، بلکہ بات کرنی ہے ایک معرکہ آرا انتخابات کی جس کے نتیجے میں ایک ملک دولخت ہوگیا تھا۔ اور دو نئے ممالک دنیا کے نقشہ پر رونما ہوئے تھے۔ انتخابات کے بارے میں بات چیت کرنے اور قصے کہانیاں سنانے کا فیصلہ ہم نے پچھلے منگل کے روز کیا تھا۔ نئے انتخابات کی آمد آمد ہے بلکہ یوں کہنا بہتر ہوگا کہ اس مرتبہ ہم پاکستانی دوسرے موسموں کا مزہ چکھ رہے ہیں۔ گرمی کے موسم کو آنا تھا۔ سو گرمی کا موسم خیرو خوبی سے آچکا ہے۔ کھجور آم اور ریگستانوں میں مزید تربوز پک رہے ہیں۔ ہر سال اسی طرح ہوتا ہے۔ آپ کو میں نے کوئی نئی بات نہیں بتائی ہے۔ ہرچار پانچ برس کے بعد گرمیوں کے موسم کا مزہ دوبالا کرنے کے لئے انتخابات کا موسم آتا ہے۔ درجہ حرارت بنانے والے آلات چکرا جاتے ہیں موسم گرما میں اس مرتبہ انتخابات کی گرمی شامل ہو چکی ہے۔ سن اسٹروک سے بچنے کے لئے لوگوں کو تدابیر بتائی جارہی ہیں۔ لوگوں کو ، جوکہ انتخابات کے موسم میں ووٹر کہلاتے ہیں ، ان کو ڈبے میں ووٹ ڈالنے سے پہلے آگ اگلتی دھوپ میں گھنٹوں بلکہ پہروں قطار میں کھڑے رہنے کی تعلیم و تربیت دی جارہی ہے۔ یہ بہت ضروری ہے۔ چلچلاتی دھوپ میں چکراکر گر پڑنے کے بعدآپ ڈبے میں ووٹ نہیں ڈال سکتے اور آپ کا چہیتا امیدوار ناامید ہوسکتا ہے اور ایک ووٹ سے الیکشن ہار

سکتا ہے۔ ہر امیدوار کے لئے ووٹر انمول ہوتا ہے جوکہ انتخابات کے بعد کامیاب امیدواروں کے لئے دمڑیوں کے مول نہیں رہتا۔
انتخابات کے موسم کو مدنظر رکھتے ہوئے پچھلے منگل کے روز طے پایا تھا کہ انتخابات کے موسم میں ہم دوسرے تیسرے منگل کے روز انتخابات کے قصے کہانیاں سنیں گے اور ایک دوسرے کو سنائیں گے۔ میرے پاس آپ کو سنانے کے لئے ایک ایسے الیکشن کی کہانی ہے جس کی نظیر نہیں ملتی۔ کم سے کم میں نہیں جانتا کہ دنیا میں کتنے ممالک ہیں جو چنائو کے بعد ٹکڑوں میں بٹ گئے تھے؟ اس بے مثال الیکشن کا قصہ سنانے سے پہلے میں اپنی سراسیمگی کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ بوجھ محسوس ہورہا ہے ذہن پر۔
پاکستان میں پچاسیوں ٹیلیوژن چینل ہیں۔ گھما گھما کر، بدل بدل کر چینل دیکھنے کے بعد یہ تاثر ملتا ہے کہ دنیا میں سب ٹھیک ٹھاک ہے۔ ساری گڑ بڑ پاکستان میں ہے۔ اس گڑ بڑ کے مرکزی کردار ہیں نواز شریف اور عمران خان ۔ مشرق وسطیٰ میں سب کچھ ٹھیک ہے۔ نہ عورتیں مر رہی ہیں ، نہ مرد مر رہے ہیں، نہ بچے مر رہے ہیں۔ شہروں کے شہر بمباری میں مسمار نہیں ہورہے۔ سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے۔ ساری گڑ بڑ پاکستان میں ہے۔ دیگر ممالک کی حکومتوں سے تعلقات تنائو کی وجہ سے ان ممالک میں رہنے والے پاکستانی غیریقینی حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ نہیں۔ یہ سراسر غلط ہے۔ پاکستان کے ٹیلیوژن چینلز نے ہمیں بتایا ہے کہ حکومتوں کے تنائو کے باوجود امریکہ اور یورپ میں رہنے والے پاکستانی بڑے مزے میںہیں۔ ان ممالک کے اسکولوں میں پڑھنے والے ان کے بچے بھی مزے میں ہیں۔ دنیا میں کسی قسم کی نئی ایجادات نہیں ہو رہیں۔ اس لئے باہر کی دنیا کے بارے میں آپ کو کچھ جاننے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر دنیا میں کچھ اچھا برا ہورہا ہوتا تو پاکستان کے پچاسیوں ٹیلیوژن چینلز ہمیں ضرور آگاہ کرتے۔ ہمیں ضرور کچھ بتاتے۔ مگر نہیں۔ نواز شریف اور عمران سے بڑھ کر دنیا میں کوئی مسئلہ، کوئی معاملہ اہم نہیں ہے۔ پاکستانی سیاستدانوں نے ایک دوسرے کو اس قدر رسوا کیا ہے کہ منٹو کے ایک افسانہ کا عنوان یاد آتا ہے۔ اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ پاکستان میں سردست ایک ہی موضوع ، ایک ہی مسئلہ زیر بحث ہے، نواز شریف اور عمران خان۔
پچاسیوں ٹیلیویژن چینلوں نے مل کر رمضان کے مقدس مہینے کو فوڈ فیسٹیول Food Festival بنادیا ہے۔ پروگراموں کو عنوان دیئے گئے ہیں۔ لذت رمضان ، ذائقہ دار رمضان ، چٹپٹا رمضان ۔ لوگوں کو بے تحاشہ کھانے پینے کی اسقدر ترغیب دی جارہی ہے کہ لوگوں نے طرح طرح کے پکوان پکانے کے لئے اجزا کے گھر پر گودام بھر لئے ہیں۔ ایک سروےکے مطابق رمضان میں لوگ اس قدر دریا دلی سے مٹھائیاں ، مرغن کھانے ، پھل ، پکوڑے ،سموسے ، پھینیاں، کیک، پیسٹریاں کھاتے ہیں کہ سال کے دوسرے کسی مہینہ میں نہیں کھاتے۔ بدمست نفس کو قابو کرنے ، زیر کرنے کے بجائے رمضان میں نفس کو خوب کھلا پلاکر خودسر کردیا جاتا ہے۔ رمضان کا مہینہ ختم ہونے کے بعد ڈاکٹروں کے مزے ہوجاتے ہیں۔ ان کے ہاں بدہضمی ، سینے میں جلن ، جلاب ، پتے اور جگر کے مریضوں ، ذیابیطس کے مریضوں ، خون کے خلفشار میں مبتلا مریضوں اور اسی نوعیت کے امراض میں مبتلا لوگوں کا تانتا بندھ جاتا ہے۔ تھینک یو پاکستان کے پچاسیوں ٹیلیوژن چینلز۔ آپ نے ڈاکٹروں کے ساتھ ساتھ دواسازی کو بھی فروغ دیا ہے۔ رمضان مبارک کا مہینہ آتے ہی ایسی ایسی ادویات مارکیٹ میں آجاتی ہیں جو سال بھر نہ دکھائی دیتی ہیں اور نہ سنائی دیتی ہیں۔ سحری کے بعد کیپسول فلاں کھانے سے آپ کو نہ بھوک لگے گی اور نہ پیاس لگے گی۔ افطار میں جو چاہیں جتنا چاہیں آپ دل کھول کر کھائیں، مرغی ، مچھلی ، کباب ، انڈے، پراٹھے ، قورمہ، بریانی ، رس گلے ، گلاب جامن جو چاہیں خوب کھائیں۔ مگر یہ سب کچھ کھانے کے بعد فلاں چورن کھانا نہ بھولیں۔ سب کچھ ہضم ہوجائے گا۔ تھینک یو ٹیلیوژن چینلز ۔ ایک طنزیہ لطیفہ انٹرنیٹ پر چل رہا ہے:پاکستان رمضان میں بنا تھا۔ اس لئے پاکستانی مزے لے لےکر آج تک پاکستان کو کھارہے ہیں۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں