آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

(گزشتہ سے پیوستہ)
پہلی اوردوسری جنگ ہائے عظیم۔پھر ان کے دوران یورپی سامراجی طاقتوں کی غلام کالونیوں میں حصول سیاسی آزادی کے پیدا ہوتے حالات نے عالمی نوآبادیاتی نظام (کلونیئل ازم) کی شکل میں قائم اسٹیٹس کو کو توڑتے پھوڑتے Decolonialization کے عمل میں ڈھال دیا تھا۔ اقوام متحدہ کے قیام کے بعد اس کے چارٹر\ اقوام کے حق خودارادیت اور سرحدوں کے احترام کو عالمی امن کی ناگزیر ضرورت مان لیا گیا۔ بلاشبہ برصغیر (جنوبی ایشیا) میں ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ اور ریپبلک آف انڈیا (سیکولر جمہوریہ) کے قیام نے سامراجی کالونیوں کے نیشن اسٹیٹس (آزاد ریاستوں) بننے کے عمل کو تیز تر کیا۔
متذکرہ عالمی تبدیلی برپا ہونےکے باوجود صدیوں سے جاری و ساری انسانی تہذیب کے ارتقا کے مقابل اسٹیٹس کو کی برقرار (یا مزاحمتی) منفی طاقت، بڑا المیہ بنی اور ہے کہ ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ آزادی کے بعد بھی (ایٹ لارج) اپنی ہی مقامی آمریتوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ جاپان تو شکست اور فاتحین کا قبضہ ختم ہونے کے بعد فوری جمہوریت کی راہ پر آگیا۔ پورے مشرق وسطیٰ میں فقط اسرائیل ہی اپنے ناجائز قیام کے باوجود ابتدا سے ہی جمہوریت بنا۔ ایران میں شہنشاہیت کا بت تو پاش پاش ہو گیامگر انقلابیوں نے خود کو خود ہی محدود کرکے تنہا کرلیا۔ ترقی کا سفر

امیدافزا ۔ دیکھنا ہے کہ بالآخر کہاں پہنچتا ہے۔
امر واقعہ یہ ہے کہ پوری ترقی پذیر دنیا میں فقط پاکستان اور بھارت ہی ہیں، جہاں جمہوریت کا ڈنکا بجا۔ جدید جمہوری انڈیا تو جلد ہی باکمال آئین سازی اور اسی کے تحت بلاتعطل انتخابی عمل سے جمہوریت کی پٹڑی پر چڑھ کر بلحاظ آبادی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ کہلایا، وائے بدنصیبی اپنے قیام کے پس منظر ، قومی مزاج، تاریخ اور مسلسل کمٹمنٹ کے ساتھ بحیثیت قوم جمہوری رنگ میں رنگے ہونے کےباوجود پاکستان28سال تک متفقہ آئین کی تیاری اور اطلاق میں ناکام رہا۔ اسی پر ٹوٹ گیا۔ باقی ماندہ پر کامیابی نصیب ہوئی تو سول جیسی تیسی منتخب حکومتیں بھی تادم آئین و قانون کی بالادستی پرآمادہ نہ ہوئیں۔ قومی سیاست پر ملوکیت کا غلبہ واضح ثبوت ہے۔ 35 سال پر محیط مارشل لائی تاریخ اور ہماری عسکری طاقت میں ڈومین سے باہر نکلنے کی علت اب تیزی سے کم ہوتی اختتام پذیر ہے۔ ہمارے ناکام و نامراد اور خودغرض سیاستدانوں کے جاگیرداری، افسرشاہی اور فوجی آمروں سے گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے کہ یہاں انتخابی عمل بار بار معطل ہوتا رہا، یہ ڈیبیٹ ایبل ہے ہی نہیں۔ تمام تاریخی اور ٹھوس شواہد ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان کی اس گنجلک تاریخ کے ذمہ دار نااہل اور خودغرض سیاستدان ہی ہیں، لیکن اسے ڈبیٹ ایبل بنانا بھی ہمارے مکار سیاستدانوں کی کامیاب مکاری ہے۔ ہاں، یہ اعتراف کرنا پڑے گا کہ فوجی آمروں کے قومی ڈیزاسٹر، سیاسی حکومتوں سے بڑھ کر ہیں اور فوجی حکومتیں موجودہ اسٹیٹس کو کی تشکیل جس کی تیزی سے ٹوٹ پھوٹ تو شکر الحمدللہ جاری ہے لیکن مکمل انہدام تادم محال ہے۔
اس پس منظر میں عدلیہ کی سرگرمی، تفتیشی اداروں کے آئینی کردار کی ادائیگی، بالائی سطح پر احتساب، بیڈ گورننس پر لشکارے ڈالتا سپاٹ لائٹ جرنلزم، عسکری سول کاوش سے دہشت گردی کی تقریباً بیخ کنی، حکومتی دھماچوکڑی کی شدت سے نشاندہی اورکرپشن کی مسلسل مذمت ہوتے ہوتے عشرہ جمہوریت ( 2008-18) کی تکمیل جمہوری عمل میںہی مکمل ہونے کےبعداب فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام جیسی انہونی کا ہونا، مسلط اسٹیٹس کو پر ایسی ضرب کاری ہے جس نے پاکستان، پورے خطے اور مسلم دنیا میں ’’آئین نو‘‘ کی جرأت مندانہ قبولیت اور اختیاریت کے ساتھ حقیقی جمہوریت، فلاح عامہ اور مرکز امن بننے کی امیدیں جگادی ہیں۔ یہ جاگی بھی ہیں اور فاٹا کے مین اسٹریم میں شامل ہو کر صوبے میں ضم ہوتے انقلاب آفریں عمل نے تو جیسے تابناک اور پوری دنیاکے لئے مکمل قبول ہی نہیں انسپائرنگ پاکستان کی امید نو پیدا کی ہے۔
بلاشبہ ، پاکستانی قوم اس وقت اک کٹھن منزل کی طرف گامزن ہے۔ یہ ہی مشکل سفر کامیابی کا ساماں اور یقیں ہے۔
مشکل نیست کہ آساں نہ شود
مرد باید کہ ہراساں نہ شود
(وہ مشکل ہی نہیں جو آسان نہ ہوجائے، جیسے وہ مرد ہی نہیں جو ہراساں ہو جائے)
فاٹا،جس کی غاریں بم بارود، دہشت گردوں اور خودکشوں سے اٹی پڑی تھی، جس کے بازار اور آبادی اجاڑ اور ویرانوں میںتبدیل ہوگئے تھے اور آبادی دور دراز پناہ گاہوں میں بکھر گئی تھی، باکمال حکیمانہ عسکری کارروائی کے بعد جیسے سورج کی روشنی میں نہا گیا۔ آبادیاں امیدوں کی گٹھڑیاں لادے خیبرپختونخوا بننے والے اپنے علاقے کی تعمیر نوکا جذبہ لئے واپس لوٹ رہی ہیں۔ قومی اتفاق سے خیبرپختونخوا فاٹا کے ادغام کے بعد بغیر کسی ابہام کے تابناک پاکستان کی تشکیل کا مرکز و محور بنتا نظر آ رہا ہے۔ دو عشروں سے پاکستان ہی کے لئے پرخطر بنائے جانے والا فاٹا، اسلامی جمہوریہ کی بیک بون بننے کو ہے۔ جس کی گورننس، سیاست، بدلہ سماجی رویہ، جس کا جملہ پوٹینشل ایک ایسی مثالی انتظامی یونٹ میں ڈھلنے کو ہے جہاں سے قابل قبول اور مطلوب جدت و اختراعات پورے پاکستان کو متاثر کریں گی۔
خیبرپختونخوا میں آئندہ حکومت بنانے کا یقین رکھنے والی سیاسی جماعتیں اوروہاں سرگرم رہنے والی بھی سمندر پار پاکستانی پورے عزم و یقین کے ساتھ خیبرپختونخوا کو مطلوب پاکستان کا مثالی صوبہ بنانے کے لئے تیار ہیں اور خود بدلتے فاٹا کے بے پناہ پوٹینشل کے حامل شہری اپنے پاکستان کے ہر صوبے سے گہرے روابط قائم کرنے، وسعت اختیار کرتے خیبرپختونخوا سے اپنے مکمل روابط کیلئے ہوم ورک تیاررکھیں۔ عالمی امن و خوشحالی، علاقائی استحکام اور سرحدوں کے احترام پر یقین رکھنے والے تمام دوست ممالک پاکستان کے خلاف زہریلے پروپیگنڈے سے متاثر ممالک کو فاٹا کا بدلتا روپ دکھانے اور اس سے مسلسل مطلع رکھنے کا خصوصی اہتمام ہونا چاہئے۔
خیبر پختونخوا میں شامل ہونے والے موجودہ فاٹا کے علاقے میں دہشت گردی پر قابو پانے اور ختم کرنے کی تربیت کے ایسے مراکز قائم کئے جائیں جوموضوع کے حوالے سے شہرہ آفاق بن جائیں۔ اگر بیرون ملک پہنچائی گئی بلیک منی واپس لا کر موجودہ فاٹا کے علاقے میں سرمایہ کاری یا فلاح عامہ کے پراجیکٹس لانچ کرنے پر آمادہ ہو تو اسے وائٹ کرنے کے لئے ترجیحی پالیسی بننی چاہئے۔ صنعت کاری کے لئے پورے ایک عشرے تک ٹیکس چھوٹ، سہل قرضوں اور بجلی و پانی کی فراہمی کی منصوبہ بندی اور اس کے لئے قانون سازی کی تیاری جنگی بنیاد پر کی جائے۔ اس خیرستان میں خواتین کی مثالی اسکولنگ کی منصوبہ بندی کرکے عالمی کمیونٹی کو مدعو کیا جائے کہ وہ خیبرپختونخوا بننے والے سابق فاٹا ایریا میں فلاحی پراجیکٹس لانچ کرکے عالمی امن اور علاقائی استحکام میں اپنا کردار ادا کرے۔
ایک مودبانہ گزارش مولانا فضل الرحمٰن کی خدمت میں کہ مان جائیں کہ فاٹا خیبرپختونخوا میں مدغم ہو جائے۔ مولانا اپنے جمہوریت کے علمبردارمرحوم والد حضرت مولانا مفتی محمود کے طرز ِ سیاست کو اپناتے ہوئے قومی اتفاق رائے میں شامل ہو کر وسعت اختیارکرتے خیبرپختونخوا میں نئے تقاضوں کے مطابق اپنی جماعت کی جگہ بنائیں اور بڑھائیں کہ سب کچھ آئین کے تناظر اور جمہوری انداز میں ہو رہا ہے۔ یارب کریم ! تیرا شکریہ آپ نے کتنے خطرات سے پاکستان کو نکالا۔ ہم نے کچھ قبلہ درست کیا تو آپ کی بے بہا مدد شامل ہوگئی۔ شکر الحمدللہ
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں