آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل4؍ربیع الاوّل 1440ھ13؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ہماری یادوں میں سانس لینے والے افسانہ نویس، تمثیل نگار اور داستان گو اشفاق احمد مرحوم کہا کرتے تھے کہ ”کبھی ارسطو اور سقراط جیسے حکیموں کی حکمت کا دور ہوتا تھا پھر غالب اور اقبال جیسے ”دشت امکان“ ناپنے والے شاعروں کا زمانہ آیا جس کے بعد پطرس بخاری، پروفیسر کرار حسین اور ڈاکٹر عبدالسلام کے علم و فضل کی روشنی چمکی مگر اس کے بعد نئی نسلوں کی پرورش نخالص انفارمیشن پر ہوئی۔“
جولاہے کو ”نور باف“ یعنی روشنی بننے والا قرار دینے والے اشفاق احمد کے دور کے بعد ہم جھوٹ، اشتہار بازی، پراپیگنڈے اور دروغ بافی (جھوٹ بننے یا گھڑنے) کے مہلک ثقافتی دور سے گزر رہے ہیں۔ حکیم الامت نے فرمایا تھا کہ
مکر کی چاموں سے بازی لے گیا سرمایہ دار
انتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور مات
”انفارمیشن“ کو مشرف بہ اسلام کر کے ”ذرائع ابلاغ عامہ“ کا نام دینے والے ہمارے جہادی گروپ کے مطابق فی زمانہ دروغ باف عناصر مکاری اور چالبازی کی دوڑ میں سرمایہ داروں کو بہت پیچھے چھوڑ آئے ہیں اور انہوں نے ماحول کچھ ایسا بنا دیا ہے کہ بقول جاوید شاہین
جھوٹ کے پاؤں نکل آئے ٹھہرنے کے لئے طالبان کے کوڑوں کی زد میں آنے والی چاند بی بی اور قاتلانہ حملے سے گزرنے والی ملالہ یوسفزئی کے حوالے سے مذکورہ بالا گروپ کا کہنا ہے کہ ان دنوں ”دروغ حملے“

ہمارے دہشتگردوں کو ”ڈرون حملوں“ سے بھی زیادہ جان اور کولیٹرل نقصان پہنچا رہے ہیں۔ کوئی اگر یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہو رہا کہ چودہ سالہ ملالہ یوسف زئی تعلیم حاصل کرنے کی بجائے امریکہ اور ناٹو طاقتوں کے لئے جاسوسی کے فرائض ادا کر رہی تھی تو اس حقیقت کو کیسے تسلیم کر لیا گیا کہ چاند بی بی کی طرح ملالہ یوسف زئی کا بھی سوات میں یا کسی اور علاقے میں کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ یہ صرف اور صرف مجاہدین کے مخالف عناصر کی من گھڑت فرضی کہانیوں کے کردار ہیں۔ ان کی دروغ بافی کے نمونے ہیں چنانچہ ”ڈرون حملوں“ کے علاوہ ”دروغ حملوں“ کے خلاف بھی سونامی پارٹی اور دوسرے ہمدردوں اور ہم خیالوں کو لانگ مارچ ترتیب دینے کی ضرورت ہے جس کے دوران اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں پریشانی کا اظہار کرنے والوں کو بتایا جائے بلکہ باور کرایا جائے کہ سوات کی چاند بی بی کے جسم پر برسنے والے کوڑوں اور ملالہ یوسف زئی کی کھوپڑی میں اترنے والی گولی محض دروغ بافی کے نمونے ہیں چنانچہ آپ یقین کریں کہ یہ ساری کی ساری جعل سازی اور دروغ بافی تھی چنانچہ آپ سمجھیں کہ جو کچھ آپ کو دکھایا گیا وہ صحیح نہیں تھا یعنی خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں