آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
زبردست پرفارمنس پر بھی بدقسمت رہنے والے بولرز

پاکستانی فاسٹ بولرمحمد عباس نے لارڈ ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں آٹھ وکٹیں حاصل کیں، لیکن انہیں وہاں اعزاز بورڈ پر جگہ نہیں مل سکی، کیونکہ وہ کسی بھی اننگ میں پانچ وکٹیں حاصل نہیں کر سکے. کیا قارئین جانتے ہیں کہ کسی اوربولر کو بھی لارڈ میں محمد عباس جیسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔ محمد عباس، جنہوں نے پہلے ٹیسٹ کی پہلی اننگ میں 23 رنزکے عوض 4 وکٹیں اور آخری اننگ میں صرف 23 رنز دے کر بھی 4 وکٹیں حاصل کیں ،ان کی شاندار پرفارمنس کے باعث پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف پہلا ٹیسٹ شاندار اعدادوشمارپرجیت لیا. تاہم یہ دلچسپ حقیقت بھی سامنے آئی کہ محمد عباس وہ بد قسمت 13 ویں بولر ہیں جنہوں نے لیڈز کے گرائونڈ پر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا مگر دونوں اننگز میں صرف چار، چار وکٹیں لینے میں کامیاب ہو سکے۔ محمد عباس سے قبل ایسی ہی بدقسمتی انگلینڈ کے بائیں ہاتھ سےسلو گیندیں پھینکنے والےبولربابی پیل کے حصے میں آئی جنہوں نے 1888 میں آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ کھیلتے ہوئے پہلی اننگ میں 36 رنز کے عوض چار کھلاڑیوں کو پویلین واپس بھیج کر زبردست داد سمیٹی، دوسری اننگ میں تو انہوں نے اپنے تباہ کن اسپیل میں صرف 14 رنز کے عوض چار آسٹریلین کھلاڑیوں کی وکٹیں اکھاڑ دیں۔ اتنی زبردست پرفارمنس کے باوجود وہ لارڈز کے تاریخی گرائونڈ پر ایک اننگ میں 5 وکٹیں لینے والےبولر کا اعزاز حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

آسٹریلوی بولربابی پیل کے بعد شاندار پرفارمنس کے باوجود بدقسمتی کا لیبل پانے والےبولروں میں آسٹریلیا ہی کے ٹیڈ میک ڈونلڈ 1921 میں اسی مرحلے سے گزرے،فریڈ ٹرومین 1952 میں بھارت کے خلاف ، نارمن گفورڈ بھی 1971 میں بھارت کے خلاف ، کیتھ بوائس 1973 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ، جیف تھامسن 1977 میں آسٹریلیا کی جانب سے کھیلتے ہوئے قابل ذکر پرفارمنس کے باوجود کسی ایک اننگ میں 5 وکٹیں لینے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ اسی طرح ایک ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں چار ، چار وکٹیں لینے والے پاکستان کے فاسٹ بولر وقار یونس1996 میں ، اینڈی کیڈک 2001 میں پاکستان کے خلاف ، اسٹیو ہرمنسن 2004 میں نیوزی لینڈ کے خلاف اور سٹیون فن 2012 میں جنوبی افریقا کے خلاف دونوں اننگز میں چار چار وکٹیں لینے کے باوجود لارڈز کے تاریخی گرائونڈز پر اعزاز یافتہ بولرز کے شانہ بشانہ اپنا نام لکھوا نے میں ناکام رہے۔

ان 13 بولرز میں سے فریڈ ٹرومین،ڈیرن گو، وقار یونس،اینڈی کیڈک، اسٹیوہرمنسن اوراسٹیون فن اعزاز بورڈ پراپنا نام کنندہ کروانے میں کامیاب ہو گئے کیونکہ وہ لارڈز پر کھیلے گئے دیگر ٹیسٹ میچز کی ایک اننگ میں پانچ وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ ایک ہی ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں چار، چار وکٹیں حاصل کرنے کے اب تک مجموعی طور پر153 واقعات پیش آ چکے ہیں۔ شین وارن 7 مرتبہ ایسا کر چکے ہیں ، مطیع مرلی دھرن نے6 مرتبہ جبکہ، آسٹریلیا کے تیز رفتار بولر وین کلارک، بریٹ لی اور ڈینس للی نے تین مرتبہ ایک ہی ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں چار ،چار وکٹیں حاصل کیں۔ وین کلارک نے صرف دس ٹیسٹ میچ کھیلے مگر وہ کبھی ایک اننگ میں پانچ وکٹیں حاصل نہیں کر سکے۔

پاکستانی مایہ ناز اسپنر یاسر شاہ نے 13 مرتبہ ٹیسٹ اننگز میں 5 یا زائد وکٹیں حاصل کی ہیں۔وہ ٹیسٹ کرکٹ میں تیزترین ڈیڑھ سووکٹیں لینےوالےدوسرے پاکستانی بولر ہیں۔ وسیم اکرم 25 مرتبہ اننگ میں 5 وکٹیں حاصل کرنے کایہ کارنامہ انجام دے کر سرفہرست ہیں۔ سری لنکا کے رنگنا ہیراتھ نے نا صرف وسیم اکرم کا 414 کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنے کا ہندسہ عبور کیا بلکہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ ٹیسٹ وکٹیں لینے والے بائیں ہاتھ کے بالر بھی بن گئے۔ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں8 مرتبہ پانچ یا زائد وکٹیں لینے والے دوسرے سری لنکن بولر ہیں۔ انگلش فاسٹبولر سٹوارٹ براڈ نے بھی ٹیسٹ کرکٹ میں سابق پاکستانی کپتان وسیم اکرم کی زیادہ وکٹوں کا ریکارڈ برابر کردیا ہے۔مرلی دھرن نے کرکٹ کے میدان میں جو نام کمایا ہے وہ اس کھیل کی تاریخ کا اہم حصہ ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی اوسط ناقابل یقین 6 وکٹ فی میچ ہے، کسی دوسرے باؤلرکیلئے ان کے ریکارڈ کے نزدیک پہنچنا بھی ناممکن نظر آتا ہے۔ آسٹریلیا کے نامور فاسٹ بالر ڈینس للی نے 7 مرتبہ ایک اننگز میں 10 وکٹیں لینے کا کارنامہ انجام دیا وسیم اکرم کرکٹ کی تاریخ کے واحد کھلاڑی ہیں جنہوں نے ٹیسٹ میچز میں دو مرتبہ ہیٹ ٹرک کی۔ دودسری جانب وقار یونس نے زمبابوے کے خلاف135 رنز کے عوض 13 وکٹیں لی ہیں۔ جبکہ 23 مرتبہ 5 یا اس سے زائد وکٹیں لے چکے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں