• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایسی کوئی رپورٹ نہیں کہ ایران نے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھائیں، امریکی صدر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایسی کوئی رپورٹ نہیں کہ ایران نے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھائی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھائی گئی ہیں تو فوراً ہٹا دی جائیں، سرنگیں نہ ہٹائی گئیں تو ایران کو ایسے نتائج بھگتنا پڑیں گے جو پہلے کبھی نہیں دیکھے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران بچھائی گئی سرنگیں ہٹا دے تو یہ درست سمت میں بڑا قدم ہوگا۔

اس سے قبل امریکی میڈیا نے امریکی انٹیلی جنس کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ ایسے اشارے ملے ہیں کہ ایران آبنائے ہرمز میں باردوی سرنگیں بچھا رہا ہے۔

پریس کانفرنس میں امریکی صدر کے متضاد بیانات بھی سامنے آئے، پہلے کہا کہ جنگ جلد ختم ہوجائے گی، پھر سوال ہوا کیا اس ہفتے جنگ ختم ہوجائے گی؟ تو کہا نہیں، وہ بہت سے اہداف مکمل کرچکے ہیں لیکن ابھی جیت مکمل نہیں ہوئی، حتمی جیت کے لیے پُرعزم ہیں۔

ٹرمپ نے ساتھ ہی ایران پر حملے کی ذمے داری وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ، مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف اور اپنے داماد جیئرڈ کشنر پر ڈال دی اور کہا کہ ایسا تاثر ان کی گفتگو سے ملا، مارکو روبیو کی باتیں تو ایسی تھیں کہ انھیں لگا جیسے ایران امریکا پر حملہ کرنے ہی لگا ہے، اگر وہ بروقت کارروائی نہ کرتے تو ایران امریکا پر حملہ کردیتا۔

ایک اور انٹرویو میں امریکی صدر نے کہا کہ ایران سے بات چیت ممکن ہے، لیکن یہ شرائط پر منحصر ہوگا، ویسے بھی اب ایران سے بات کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید