آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ پاکستان کی بد قسمتی ہے کہ یہاں پر موجود طاقتور طبقات یہ تصور کرتے ہیں کہ وہ جو چاہے گل کھلاتے رہینگے اور اپنے کھلائے گلوں کے برعکس یہ کہانی سناتے رہیں گے کہ ہم اپنی قوم اور دنیا کے ساتھ معاملات میں بالکل واضح حکمت عملی رکھتے ہیں۔ حالانکہ دنیا ان کے گلوں سے بھی آشنا ہے اور کہانی کے نقائص بھی اپنے کمال پر ہیں۔ پاکستان میں جوں جوں عام انتخابات کا انعقاد قریب سے قریب تر ہو رہا ہے ویسے ویسے بین الاقوامی برادری پاکستان، جیسے ملک ، جس کو نظر انداز کرنا عالمی سیاست اور معیشت کے کھلاڑیوں کے لئے نا ممکن ہے، کی سیاست اور ممکنہ نتائج کے حوالے سے بہت زیادہ دلچسپی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتہ سفارتکاروں سے ملاقاتوں کا ہفتہ بنا رہا۔ اور انہوں نے بھی ان معاملات، کیلئے جن سے پاکستان کا براہ راست تعلق ہے، پر جی بھر کر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ پاکستان میں اس وقت سی پیک کا خوب غلغلہ ہے اور پاکستان چین کے علاوہ دیگر ممالک کو بھی سی پیک میں شمولیت کی دعوت دے رہا ہے۔ یہ حکمت عملی درست بھی ہے مگر کچھ دوست ممالک جب اس حوالے سے اقدامات کرنے کی غرض سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو ان کو وہ سہولیات مہیا نہیں کی جا رہیں جو ایسے منصوبوں میںممالک کی شمولیت کا مقصد حاصل کرنے کی غرض سے دی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر جاپان سے پاکستان

خوشگوار تعلقات رکھتا ہے۔ جاپان کی خواہش ہے کہ وہ سی پیک میں ، اس کے جاری منصوبوں میں سرمایہ کاری یا شراکت داری کرے۔ اس حوالے سے جاپان کے قونصل جنرل کراچی میں کافی متحرک بھی ہیں انہوں نے گوادر کا دورہ کرنے کی غرض سے این او سی حاصل کرنے کے لئے بار بار درخواست کی مگر جواب ندارد۔ اس صورتحال میں جاپان شش و پنج میں پڑا ہوا ہے کہ آیا پاکستان میں فیصلہ سازی میں شامل تمام طبقات یہ خواہش رکھتے بھی ہیں یا نہیں کہ دیگر ممالک سی پیک کا حصہ بنیں؟ اگر یہ خواہش موجود ہے تو ایسی صورت میں کیا وجہ ہے کہ جاپان کے قونضل جنرل کو گوادر جانے کے لئے این او سی جاری نہیں کیا جا رہا؟ جاپان کی معاشی مضبوطی میں کسی کو کوئی کلام نہیں ہے پھر ایسی بے اعتناعی سمجھ سے بالا تر ہے۔ ہاں یہ امر خوش آئند ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی گزشتہ حکومت نے جاتے جاتے روس سے تجارت میں بڑی رکاوٹ دور کر ڈالی۔ روس سے تجارت میں مسئلہ یہ تھا کہ سابقہ سوویت یونین کے دور میں اگر کوئی کاروباری تنازعہ ہوا اور طے نہ ہو سکا تو روس اس سے ایک حد سے زیادہ کاروباری معاملات نہیں کرتا ہے۔ راقم الحروف نے بھی چند ماہ قبل تسلسل سے انہی کالموں میں یہ مسئلہ اٹھایا اور خوش آئند یہ ہوا کہ حکومت جاتے جاتے اس مسئلے کو حل کر گئی۔ اب امکان یہ ہے کہ روس سے تجارت میں کئی گنا اضافہ ہو گا۔ پھر روس پاکستان میں گیس کے منصوبوں میں بھاری سرمایہ کاری کا اظہار بھی کررہا ہے۔ اسٹیل مل روس کے تعاون سے قائم ہوئی تھی اس سے ملکی معیشت میں ایک نئی توانائی داخل ہو گی اور روس اس کے لئے بھی سرگرم ہے۔ مگر یہاں یہ مسئلہ کھڑا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ 4 سالوں سے سیاسی بے یقینی نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں اور گزشتہ سال 28 جولائی کو تو یہ بے یقینی اپنے نقطہ عروج پر پہنچ گئی اور پاکستان کی حکومت سے مذاکرات کرنے اور معاملات کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے واسطے جو سیاسی ماحول عالمی کھلاڑیوں کو حاصل ہونا چاہیے وہ سرے سے موجود ہی نہیں رہا۔ اس ماحول کی عدم دستیابی کے سبب سی پیک کے حوالے سے شکوک و شبہات نے بھی جنم لینا شروع کر دیا ہے۔ عوامی سطح پر چاہے دوستی نبھانے کی غرض سے جو مرضی کہا جائے مگر حقیقت یہ ہے کہ سی پیک پر معاملات سست روی کا شکار ہو چکے ہیں اور سفارتی حلقے اس بات کا برملا اظہار کر رہے ہیں کہ یہ معاملات2019ء تک اسی طرح چیونٹی کی چال چلتے رہیں گے۔ پھر سفارتی حلقوں میں بے یقینی اس حوالے سے بے انتہا موجود ہے کہ آیا پاکستان میں غیر جانبدار ، شفاف انتخابات کا انعقاد ہونے جا رہا ہے یا کہ 2002ءسے بھی بدتر انتخابی حالات ہونگے۔ یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ تمام اہم ممالک کے سفارتخانوں میں عام انتخابات کے نتائج کے حوالے سے نہایت معتبر انداز میں سروے کروائے ہیں اور ان تمام ممالک کے پاس صرف ایک ہی نتیجہ آیا ہے کہ اگر پاکستان میں عام انتخابات واقعی صاف شفاف ہو گئے تو ایسی صورت میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی دیوار پر لکھی صاف نظر آ رہی ہے۔ بات اس سے بھی زیادہ اہم ہے کہ ان کا یہ کہنا ہے کہ اگر مسلم لیگ (ن) کو انتخابات میں زبردستی شکست دے دی گئی تو ایسی صورت میں انتشار پھیلے گا۔ اور بین الاقوامی برادری ایسے انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومت کو معاشی معاملات میں سیاسی کمزوری کے سبب سے کمزور دیکھ رہی ہے۔ ان ممالک کا یہ بھی تجزیہ ہے کہ ایسی حکومت زیادہ دیر پا نہیں ہو گی بلکہ 2019ءمیں کچھ ریٹائرمنٹوں کے بعد پاکستان میں دوبارہ عام انتخابات کا انعقاد ناگزیر ہو جائے گا۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں