آپ آف لائن ہیں
اتوار 8؍ذوالقعدہ1439ھ 22؍ جولائی2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
    امریکی آزادی اور امریکا فرانس دوستی کی علامت ’’ مجسمہ آزادی‘‘

امریکا کا مجسمہ آزادی ایک بہت بڑا مجسمہ ہے، جو نیو یارک شہر کی بندرگاہ پر نصب ہے۔ یہ دنیا بھر میں امریکا کی علامت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ تانبے کا بنا ہوا یہ مجسمہ 1886ء میں امریکی آزادی کی 100 سالہ تقاریب کے موقع پر فرانس کی طرف سے ’فرانس-امریکا دوستی‘ کے اظہار کے طور پر تحفتاً امریکی عوام کو پیش کیا گیا۔ یہ مجسمہ امریکا آنے والوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے دریائے ہڈسن کے دہانے پر جزیرہ آزادی پر لگایا گیا ہے۔

اس مجسمے کو فرانس کے مجسمہ ساز فریڈریک آگسٹی بارتھولڈی نے ڈیزائن کیا جبکہ اس کی تعمیر گُسٹیوآئفل نے کی۔ یہ ایک عورت کا مجسمہ ہے جس نے ڈھیلا سا لباس پہنا ہوا ہے، اس کے سر پر سات نوکوں والا تاج سجاہے، جو سات سمندر اور سات براعظم کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے بائيں ہاتھ میں ایک تختی ہے جسے جسم سے لگایاہواہے۔ تختی کے اوپر چار جولائی 1776ء لکھا ہوا ہے جو امریکا کی سلطنت برطانیہ سے آزادی کے اعلان کی تاریخ ہے۔ دوسرے ہاتھ میں جلتی ہوئی مشعل پکڑکر ہاتھ کو فضا میں بلند کیا ہواہے، یہ مشعل سونے کی بنی ہوئی ہے۔مجسمے ویسے تو تانبے کا بنا ہوا ہے لیکن اس کا ڈھانچا لوہے کا ہے۔ مجسمہ کا قد151 فٹ اور 1 انچ ہے۔

ماخذ

نیشنل پارک سروس کے مطابق مجسمہ آزادی کا تصور اپنے وقت کے نمایاں اور اہم سیاسی دانشور، فرینچ اینٹی سلیوری سوسائٹی کے صدرایڈوارڈ رینے ڈی لیبولائے کی طرف سے پیش کیا گیا۔اس پروجیکٹ کے خدو خال لیبولائے اور مجسمہ ساز فریڈرک بارتھولڈی کے مابین1865ء کے وسط میں ہونے والی گفتگو سے ملتے ہیں۔ورسلیز کے نزدیک اپنے گھر میں ظہرانے کے بعدانہوں نے کہا کہ اگر یہ مجسمہ امریکی آزادی کے تحفے کے طور پر دیا جائے تو یہ فطری عمل ہوگا کہ امریکا کی آزادی ہم سب کی مشترک کوششوں کا نتیجہ ہے۔اسی سال خانہ جنگی میںیونین کی فتح اور امریکا سے غلامی کے خاتمے کی خوشی میں فرانس کی جانب سے مجسمہ آزادی پر کام شروع کیاگیا۔مصر اور فرانس میں اہم مجسموں کے کاموں سے فارغ ہوکر بارتھولڈی نے امریکا کا رخ کیا اور جب نیویارک کی بندرگاہ پر واقع جزیرےبیڈ لوئیز آئی لینڈ پہنچے تو انہیں یہ جان اور دیکھ کر خوشی ہوئی کہ یہ مقام تمام براعظموں سے رابطے کی گزر گاہ ہے، جہاں اس مجسمہ آزادی کی تنصیب امریکا کو انفرادیت عطا کرے گی۔بارتھولڈی نے مجسمےکا پہلا ماڈل1870 ءمیں بنایا،جس میں انہوں نے فرانسیسی رومانویت کے نقوش واضح کیے۔

ڈیزائن ،اسٹائل اور علامت نگاری

بارتھولڈی اور لیبولائے نےامریکی آزادی کے تصور کو بہترین انداز میں پیش کرنے پر غور و خوض شروع کیا۔ابتدائی امریکی تاریخ میں دو خواتین کی شبیہات قوم کی ثقافتی علامت کے طور پر پیش کی جاتی رہیں۔ان علامتوں میںسے ایک فن کے امتزاج میں ڈھالی گئی کولمبیا تھیں، جیسے برطانیہ میں برٹینیا اور فرانس میں ماریانے ثقافتی علامت بن کر ابھریں۔کولمبیا انڈین شہزادی کی ترقی یافتہ مورت تھیں،جو غیر مہذب کہلاتی تھیں۔امریکی ثقافت میں دوسری خاتون آئیکون آزادی کی دیوی لبرٹی تھیں،جن کی قدیم روم میں، خاص طور پر غلاموں کی طرف سے پوجا کی جاتی تھی۔امریکی سکوں میں بھی زیادہ تر شہزادی آزادی کی شبیہہ امریکیوں کی من بھاتی تھی۔ اتنا ہی نہیں پاپولر اور سوک آرٹ میں بھی آزادی کی دیوی کو فوقیت دی جاتی تھی۔اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے مصور عوامی آئیڈیل کے طور پر آزادی کو اپنی تصاویر میں علامت کے طور پر استعمال کرتےتھے۔جس میں آزادی کے انقلابی اور جنگجویانہ انداز کو نمایاں کیا جاتا رہا لیکن مجسمہ آزادی کے لیے ایسی عورت کا انتخاب کیا گیا جو ہاتھ میں مشعل لیکر روشنی و ترقی کی علامت بن کر ابھرے اور دنیا میں امن کی علم بردار کہلائے۔اس طرح آزادی کی تمام کلاسیکی روایات سے ہٹ کر ایک ایسی عورت کا مجسمہ تراشا گیا ،جس کے سر پر تاج ، آنکھوں میں علم کی روشنی،ایک ہاتھ میں سینے سے حمائل کتا ب اور دوسرے بلند ہاتھ میں مشعل تھامی ہوئی ہو۔یہ فنِ مجسمہ نگاری کی ایک منفرد جہت تھی۔کہا جاتا رہا کہ عورت کا چہرہ بارتھولڈی نے اپنی ماں کے نقوش پر بنایا لیکن بارتھولڈی میوزیم کے نگران ریجس ہبر کہتے ہیں کہ ان باتوں میں کوئی صداقت نہیں۔

حقائق

بلندی :مجسمہ آزادی کی مجموعی بلندی305فٹ6انچ ہے۔

مشعل:اس کی 1986ءمیں تزئینِ نو کے بعد نئی مشعل کو 24 قیراط سونے کی پرتوں سے آویزاں کیا گیا۔

تاج اور چہرہ:اس کےتاج کی سات کرنیں ہیں جو سات برِ اعظموں کی نمائندگی کرتی ہیں۔ہر ایک کی طوالت9فٹ ہےجبکہ وزن150پاؤنڈ ہے۔ اس کے علاوہ چہرے کی بلندی8فٹ سے زائد ہے۔

تختی اور تاریخیں:بائیں ہاتھ میں تھامی تختی کی بلندی23فٹ 7 انچ جبکہ چوڑائی13فٹ 7 انچ ہے۔

ٹوٹی زنجیریں:مجسمے کے پاؤں کے ساتھ ٹوٹی زنجیریںظلم و جبر اور تشدد سے آزدی کی نمائندگی کرتی ہیں۔

سیڑھیاں اور رنگ:پائیدان سے مجسمہ آزادی کے سر تک سیڑھیوں کے قدم154ہیں،مجسمہ آزادی کے فطری رنگ کو اجاگر کرنے کے لیے اس کا ر نگ ہلکا سبز رکھا گیا ہے جو نیلے آسمان سے مل کر سحر انگیز ماحول پیدا کرتا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں