آپ آف لائن ہیں
اتوار 8؍ذوالقعدہ1439ھ 22؍ جولائی2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی (نیوز ڈیسک) بھارتی سپریم کورٹ نے 17ویں صدی کے معروف اور تاریخی ورثے تاج محل کی حالت زار پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اتر پردیش کی ریاستی اور بی جے پی کی مرکزی حکومت کی سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاج محل کی مرمت کریں بصورت دیگر اسے منہدم کر دیں۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس مدن لوکر اور جسٹس دیپک گپتا نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دونوں حکومتیں 17ویں صدی کے اس تاریخی ورثے کی بحالی میں بری طرح ناکام ہو چکی ہیں اور یہ تیزی سے تباہی کی جانب گامزن ہے۔ رپورٹ کے مطابق، گزرتے وقت کے ساتھ سفید سنگ مرمر کا رنگ پہلے زرد، اس کے بعد کتھئی اور اب ہرا ہوتا جا رہا ہے۔ سپریم کورٹ کے ججوں نے اپنے ریمارکس میں اٹارنی جنرل سے کہا کہ حکومت اگر تاریخی ورثہ کو گرانا چاہتی ہے تو گرا دے، یا کوئی اور منصوبہ بنایا ہے تو وہ بھی کر لیں، لگتا ہے کہ اتر پردیش کی حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑتا، کوئی وژن ہے اور نہ ہی کوئی حکمت عملی بنائی جا رہی ہے، اسے بنائیں یا پھر گرا دیں۔ سماعت کے دوران ایک وکیل نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ حکومت ’’ویژن ڈاکیومنٹس‘‘ میں تاج محل کے حوالے سے حکمت عملی مرتب کر رہی ہے، تاہم جج صاحبان اس بات سے مطمئن نظر نہیں آئے اور سوال کیا کہ حکام اس سنجیدہ معاملے

پر کتنی تیزی سے کام کر رہے ہیں؟ مئی میں سپریم کورٹ نے حکومت کو ہدایت کی تھی کہ تاج محل کی مرمت کیلئے بین الاقوامی ماہرین کی مدد حاصل کی جائے۔ کہا جاتا ہے کہ بڑھتی آلودگی، تعمیراتی سرگرمیوں اور تاج محل کی دیواروں پر فضلہ گرانے والے کیڑے مکوڑوں اور پرندوں کی وجہ سے اس کا رنگ تبدیل ہو رہا ہے۔ ماہرین کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ چونکہ دریائے جمنا میں فیکٹریوں کا فضلہ اور دیگر فضلہ پھینکا جاتا ہے جہاں سے کیڑے مکوڑے اور پرندے اس طرف کھنچے چلے آتے ہیں، اسی وجہ سے حکومت نے تاج محل کے شہر آگرہ میں کئی فیکٹریاں بند کر دی ہیں۔ یاد رہے کہ تاج محل مغل بادشاہ شاہ جہاں نے اپنی مرحومہ بیگم ممتاز محل کی یاد میں تعمیر کرایا تھا۔ یہ بھارت میں سیاحوں کا پسندیدہ ترین مقام تصور کیا جاتا ہے اور دنیا کے سات عجائب میں بھی شامل ہے۔ ہر سال تقریباً 80؍ لاکھ سیاح 17ویں صدی کا یہ تاریخی ورثہ دیکھنے آتے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں