آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ7؍ ربیع الاوّل 1440ھ 16؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میرے ایک جاننے والے ہیں، کھاریاں کے قریب ایک گاؤں سے تعلق ہے، گزشتہ تیس برس سے فرانس میں مقیم ہیں، چٹے ان پڑھ اور کالے امیر ہیں، پیرس میں اُن کی اچھی خاصی جائیداد ہے، ایک خوبصورت اپارٹمنٹ میں رہائش ہے، یوروز کی کوئی کمی نہیں۔ ہر سال پاکستان آتے ہیں، اپنے گاؤں جاتے ہیں جہاں انہوں نے ایک بڑا حویلی نما گھر تعمیر کر رکھا ہے، جی ٹی روڈ کے آس پاس کچھ زمین خریدتے بیچتے رہتے ہیں جس پر کبھی کبھار قبضہ بھی ہو جاتا ہے، ایسے ہی ایک بکھیڑے میں موصوف کی زمین پر قبضہ ہو گیا، بھاگم بھاگ انہوں نے فرانس سے ٹکٹ کٹائی، پاکستان پہنچے، پولیس سے معاملہ کیا، دوسری پارٹی بدمعاش تھی مگر پولیس نے بڑی مشکل سے اُن کے چند لوگ گرفتار کر لئے، انہیں مشورہ دیا گیا کہ اب ان سے بات کرکے کوئی درمیانی راستہ نکالو اور اپنی زمین واپس لے کر نکل جاؤ، موصوف نہیں مانے، بالآخر اُن بدمعاشوں کی ضمانتیں ہو گئیں، زمین پر بدستور قبضہ انہی کا رہا، اب موصوف دوبارہ پولیس کی منتیں کر رہے ہیں کہ کسی طرح انہیں پھر جیل میں ڈالیں، وہ پارٹی انہیں دھمکیاں بھی دیتی رہتی ہے..... قصہ مختصر کہ موصوف اپنے پیرس کے عالیشان اپارٹمنٹ کی پرسکون زندگی چھوڑ کر کھاریاں کے ایک گاؤں کے تھانے میں محض اس لئے جوتیاں چٹخاتے پھر رہے ہیں کہ انہیں پیسے کی ہوس چین نہیں لینے

دے رہی۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی آرام دہ زندگی کو بے آرام بنانے کے لئے آؤٹ آف دی وے جاتے ہیں اور کامیاب ہو جاتے ہیں جبکہ یہ زندگی بہت مختصر ہے، اسے آسان بنانا ہے، سادہ رکھنا ہے، بکھیڑوں سے دور رہنا ہے، ٹینشن کم کرنی ہے، خوشی حاصل کرنی ہے، مصیبتوں کا مقابلہ کرنا ہے، آزمائشوں سے نمٹنا ہے، مقدر سے لڑنا ہے، اس زندگی میں دنیا بھی دیکھنی ہے، اپنی مرضی کے کام بھی کرنے ہیں، آرام بھی کرنا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ صحت مند رہنا ہے۔ جن صاحب کی میں نے مثال دی وہ اگر چاہتے تو اپنی زندگی نہایت طمانیت سے گزار سکتے تھے مگر انہوں نے اپنے ہاتھوں سے زندگی اجاڑنے کا فیصلہ کیا اور کامران ٹھہرے۔ سو پہلا اصول یہ ہے کہ اگر آپ کی زندگی کروڑوں اربوں لوگوں سے بہتر ہے تو اسے لامتناہی خواہشات اور مزید دولت کے تعاقب میں برباد نہ کریں۔
ایک محفل میں گپ شپ ہو رہی تھی، بات حالات حاضرہ سے ہوتی ہوئی سیاست اور پھر سیاست سے لوڈشیڈنگ اور وہاں سے چھلانگ لگا کر بجلی پیدا کرنے کے طریقوں تک جا پہنچی۔ ایک آواز میرے کان میں پڑی ’’آخر ہم کوڑے سے بجلی کیوں نہیں بناتے، ایران کو دیکھیں وہاں دو روپے یونٹ بجلی ہے، ہماری بجلی پچیس روپے یونٹ ہے، آخر ہم کوڑے سے بجلی کیوں نہیں بناتے.....!‘‘ اس کے بعد میں نے اپنے کان بند کئے، آنکھیں موند لیں اور بحث سے آؤٹ ہو گیا۔ اگر آپ اپنی زندگی کو ٹینشن فری رکھنا چاہتے ہیں تو جہلا سے بحث کرنا چھوڑ دیں، دو باتوں میں اگر آپ کو اندازہ ہوجائے کہ مدمقابل کے پاس حقائق ہیں اور نہ ہی وہ انہیں درست کرنا چاہتا ہے تو سمجھ لیں کہ یہ جہالت کی ایک نشانی ہے، پھر چپ چاپ اُس کی باتیں سنیں، بحث نہ کریں، آپ کبھی بھی اس سے جیت نہیں پائیں گے اور نہ ہی اسے قائل کر سکیں گے۔ ہمارے ہاں ننانوے فیصد لوگ صرف اپنی بات سنانا چاہتے ہیں، دوسرے کی بات کوئی نہیں سننا چاہتا، یہ جہالت کی اگلی نشانی ہے۔ ایسے لوگوں سے بحث کرنے سے آپ کا وقت ضائع ہوگا اور ذہنی تناؤ میں اضافہ ہوگا۔ سو زندگی کو پرسکون بنانے کا دوسرا اصول یہ ہے کہ کسی ڈنگر سے بحث نہ کریں، بقول شخصے وہ آپ کو اپنے لیول تک گھسیٹ کر لے آئے گا اور پھر تجربے کی مدد سے آپ کو ہرا دے گا۔
ایک فلم کا سین یاد آ گیا، اُس میں ایک شخص کو غداری کے مقدمے کا سامنا تھا، وکیل نے اُس کا مقدمہ بڑی محنت سے لڑا، عدالت نے مگر فیصلہ اس کے خلاف دے دیا اور ملزم کو عمرقید کی سزا سنا دی، جب دونوں سزا سن کر عدالت سے باہر نکلے تو وکیل خاصا پریشان تھا جبکہ اس کے موکل کے چہرے پر کسی قسم کا اضطراب نہیں تھا۔ وکیل نے حیرانی سے پوچھا کیا تم پریشان نہیں ہو، تمہیں کوئی ٹینشن نہیں؟ اِس پر عمرقید کی سزا پانے والے نے اطمینان سے کہا "Would it help?"مراد یہ کہ اگر میں پریشانی ظاہر کروں تو کیا اس سے مجھے کوئی مدد ملے گی؟ ظاہر ہے کہ اس کا جواب نفی میں تھا سو وکیل لاجواب ہو کر خاموش ہو گیا۔ اس بات کو پلے سے باندھ لیں۔ یہ بات کہنے میں آسان اور کرنے میں مشکل ہے مگر زندگی کے بکھیڑوں کا بہترین علاج ہے۔ دنیا میں کوئی ایک بھی شخص ایسا نہیں جس کی زندگی میں پریشانیاں نہ ہوں، کچھ پریشانیوں کا تدارک ہمارے ہاتھ میں ہوتا ہے اور کچھ کے آگے ہم بے بس ہوتے ہیں، جن کا تدارک کیا جا سکتا ہے وہ ضرور کریں مگر جہاں مقدر میں کوئی دکھ یا پریشانی لکھ دی گئی ہو اس بارے میں مزید سوچ کر خود کو پریشان کرنے سے بہتر ہے اسے قبول کرلیں اور خود سے یہ سوال کریں کہ کیا میرا مزید پریشان ہونا اس مصیبت کے حل میں مدد کرے گا؟ اگر جواب نفی میں ہے تو مزید سوچنا چھوڑ دیں۔ سو آج کا تیسرا اصول ہے "Would it help?"
جو لوگ میری طرح کاہل نہیں وہ روزانہ صبح اٹھ کر اپنے ذہن میں کاموں کی ایک فہرست بناتے ہیں اور پھر ایک ولولے کے ساتھ انہیں نمٹانے میں جُت جاتے ہیں، مگر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اگلے روز وہی کام پھن پھیلا کر کھڑے ہوتے ہیں جنہیں مکمل کرنے کا عزم انہوں نے گزشتہ روز کیا تھا۔ سو کاموں کا انبار لگ جاتا ہے، الجھنیں بڑھ جاتی ہیں، پیچیدگیوں میں اضافہ ہو جاتا ہے اور زندگی سادہ نہیں رہتی۔ سیانے لوگوں نے اس معاملے پر کافی تحقیق کی ہے، اسے سلجھانے کے بے شمار طریقے بتائے ہیں، ان میں سے ایک طریقہ یہ ہے کہ اُن چیزوں کی فہرست بنائیں جو آپ کو روزانہ کام کرنے سے روکتی ہیں، مثلاً ناکارہ لوگوں کی محفل میں وقت کا ضیاع، ٹی وی دیکھنا، بلاوجہ سوئے رہنا اور سب سے بڑھ کر موبائل فون سے کھیلنا۔ کسی روز ہمیں اپنے گزرے ہوئے دن کا تجزیہ کرنا چاہئے تاکہ معلو م ہوکہ ہم نے اپنا قیمتی وقت کن باتوں میں گنوایا ۔اگر ہم اپنا ایسا کوئی ڈیٹا بیس بنا لیں اور ایک مہینے بعد دیکھیں کہ کتنے گھنٹے ہم نے وٹس ایپ کے ساتھ گزارے، کتنا وقت ہم نے قصائی کی دکان پر گزارا، کتنا ٹائم ہم نے اُن لوگوں کو دیا جو اُس وقت کے قابل ہی نہیں تھے اور کتنے دن ہم نے یہ سوچنے میں لگا دیئے کہ اگر میں فلاں کام کرتا تو یقیناً کامیاب ہو جاتا..... تو اس تجزیئے کے نتائج دیکھ کر ہم حیران رہ جائیں گے۔ ہمیں پتہ چلے گا کہ جس مختصر زندگی کو ہم پر سکون بنانا چاہتے ہیں اس زندگی کا سب سے قیمتی وقت ہم کس قدر بیدردی سے ضائع کر رہے ہیں۔ اس زندگی میں وقت ہی تو سب کچھ ہے، بقول اشفاق احمد، موت ہم سے ہمارا وقت ہی تو چھینتی ہے۔
سو، زندگی کو آسان بنانے کا چوتھا اصول یہ ہے کہ اُن باتوں سے دور رہا جائے جو وقت کے ضیاع کا سبب بنتی ہیں۔ ایسے کُل سات اصول ہیں، باقی تین پھر کبھی۔
کالم کی دُم: آج کے اخبار میں مستونگ بم دھماکے والی خبر شہ سرخیوں میں ہے، 130افراد جاں بحق ہوئے ۔ ہم میں سے کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اِن دھماکوں میں مرنے والوں کے لواحقین کو یہ سن کر قرار آ جاتا ہوگاکہ اُن کا پیارا ملک کے لئے قربان ہو گیا اور شہید کہلایا۔ایسا نہیں ہے۔عام شہری سر پر کفن باندھ کرشہادت کے لئے نہیں نکلتا، وہ اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کی جدو جہد کے لئے نکلتا ہے ۔اور مستونگ میں تو لوگ انتخابی مہم چلانے نکلے تھے، جنگ لڑنے کے لئے نہیں ۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں