آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
جنگ نیوز

ملک محمد اسلم،اوباڑو

  سندھ پنجاب کی سرحد پر واقع ضلع گھوٹکی میں برادریوں کے مابین تنازع کی وجہ سے 70 سے زائد بے گناہ افراد لقمہ اجل بن گئے۔ضلع گھوٹکی کی تحصیل اوباڑو میں 2009 میں سندھ پنجاب کے سرحدی علاقے ماچھکہ میں کوش قبیلے کے وڈیرے کا بیٹا صادق آباد پولیس کے مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا۔ کوش قبیلے نے اس کی ہلاکت کا ذمہ دار ماچھکہ میں (سولنگی / ماچھی ) قبیلے کے چیف سردار اسلم خان سولنگی کو ٹھہرایا، اس طرح سولنگی (جاموٹ)اور کوش ( بلوچ) قبائل میں خوں ریزتنازع کا آغاز ہو گیاجس کے نتیجے میں درجنوں افراد موت کی بھینٹ چڑھا دیئے گئے۔ دونوں قبائل کے افراد ایک دوسرے کی تاک میں رہتے تھے۔ اگر کوش قبیلے کو سولنگی قبیلے کا کوئی بھی شخص کہیں مل جاتا توموت اس کا مقدر بنا دی جاتی جب کہ اسی طرح سولنگی قبیلے کو اگر حریف قبیلے کا کوئی شخص نظر آجاتا تو اسے زندگی سے محروم کردیا جاتا تھا۔ اس طرح فریقین کے درجنوں افراد موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے۔

جنوری 2009 میں مرید شاخ کے قریب کوش قبائل کے مسلح افراد نے مرید شاخ روڈ کی ناکہ بندی کر کے ماچھکہ سے اوباڑوجاتے ہوئے سولنگی برادری کے چیف سردار اسلم خان سولنگی کو اندھا دھند فائرنگ کر کے ساتھیوں اور گن مین سمیت موت کے گھاٹ اتار دیا جس کے بعدسولنگی برادری کے سینکڑوں مشتعل افراد سڑکوں پر نکل آئےاور اوباڑو میں قومی شاہراہ پر ٹائروں کو آگ لگا کراسے بلاک کر دیا، جس کی وجہ سےکئی گھنٹوں تک پنجاب سے سندھ کی طرف آنے اور جانے والی ٹریفک کی روانی معطل ہوگئی۔ ا س وقت کےڈی آئی جی سکھر بشیر میمن نےاس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری طور سے اے ایس پی آفس صادق آباد میں اعلی سطحی اجلاس منعقد کیا گیا اور ملزمان کی گرفتاری اور امن و امان کی بحالی کے لئے لائحہ عمل طے کیاگیا، لیکن اس کا کچھ بھی نتیجہ برآمد نہ ہوسکا بلکہ سولنگی قبیلے کے سردار کی ہلاکت کے بعددونوں برادریوں کے درمیان کشیدگی میں مزیداضافہ ہو گیا۔ 

دو سال کے دوران خونی تنازعے کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد 70 سے زائد ہو گئی جب کہ متحارب فریقین سے وابستگی کی پاداش میںدوسری برادریوں سیلرو ، شر، دھوندوکے افراد بھی گولیوں کا نشانہ بنے۔جس کے بعد مقتولین کی تعداد ایک سو افراد سے بھی تجاوز کر گئی ہے ۔ اس جنگ و جدل کی وجہ سے تعلیمی ادارے بند ہوگئے تھے، صنعت و حرفت تباہ ہوگئی تھی، لوگ اپنے کاروبار بند کرکے دوسرے علاقوں میں نقل مکانی پر مجبور ہوگئے تھے، جس کی وجہ سے مقامی آبادی بے روزگار ی کا شکار ہوگئی تھی۔

گرینڈ جرگہ خونیں تنازعہ کا خاتمہ، امن و آشتی کی فضا بحال

تمام صورت حال کو دیکھتے ہوئے اور علاقے کے باسیوں کو مزید ہلاکتوں سے بچانے کے لیے کچھ عرصے قبل ،ایس ایس پی گھوٹکی کامران نواز نے اپنے دفتر میں گھوٹکی ، اوباڑو کی تمام برادریوں کے سرداروں کا اجلاس طلب کیا اور دونوں قبائل کے مابین تنازعے میں ثالثی کا کردار ادا کیا۔ اس اجلاس میںدونوں متحارب قبائل کودیرینہ دشمنی ختم کرکے مصالحت پرآمادہ کیاگیا۔دونوں قبائل میں دشمنی ختم کرانے اور ایک دوسرے سے گلے شکوے دور کرنے کے لیے گرینڈ جرگے کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا۔ اس سلسلے میں مہر قبیلے کے سردار علی گوہرمہر کی خان گڑھ میں واقع رہائش گاہ پردھوندو پہنور برادری کے سردار میر منظور پہنور کی سربراہی میں گرینڈ جرگہ منعقد ہواجس میں دیگر برادریوں کے سرداروں، ڈاکٹر ابراہیم جتوئی ، میربابل خان بھیو ، سردار اکرام سولنگی ، میر محمد کوش ، احسان خان سندرانی ، اظہر خان لغاری ، حاجی خان ، ممتاز چانگ نے شرکت کی۔

گرینڈ جرگے کے انعقاد کے موقع پر کسی بھی ناخوش گوارصورت حال سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ اس موقع پر تنازعے کے اسباب معلوم کر نے کے لیے دونوں قبائل کے بیانات لیے گئے۔دونوں قبائل نے ایک دوسرے پر ظلم و زیادتی اور قتل و غارت گری کے الزامات عائد کیے۔ فریقین کے الزامات سننے کے بعدگرینڈجرگے نے سولنگی قبیلے پرشر برادری کے 30 افرادکو ہلاک کرنے کے جرم میں4 کروڑ 36 لاکھ روپے جرمانہ بہ طور خون بہاعائد کیا جب کہ کوش قبیلے پر سولنگی برادری کے 40 افراد کو قتل کرنے کی پاداش میں پانچ کروڑ 36 لاکھ جرمانہ عائد کیا گیا۔ سولنگی قبیلے کے چیف سردار کو قتل کرنے کے جرم میںکوش قبیلے پر 2 کروڑ روپے مزیدجرمانہ عائد کیا گیا ۔

یہ جرگہ جو صبح 11 بجے شروع ہوا تھا رات گئے تک جاری رہا ۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ ایک معمولی چوری کے الزام سے شروع ہونے والے دو قبائل کے تنازع میں 100 سے زائد افراد بھینٹ چڑھ گئے تھے۔ کئی سالوں کی کشیدگی کے بعدتحصیل اوباڑو ضلع گھوٹکی اور ماچھکہ ضلع رحیم یارخان میں خوف کے بادل چھٹ گئے ہیں۔ نقل مکانی کرنے والے لوگوں کی واپسی ہو رہی ہے ، مقفل اسکول دوبارہ کھل گئے ہیں اور ان میں صفائی ستھرائی کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ صنعتیں دوبارہ کام کرنے لگی ہیں، کاروباری حضرات نے اپنا کاروبار دوبارہ شروع کردیا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو روزگار میسر آگیا ہے۔ سولنگی ، کوش ، شر ، سیلرو، دھوندو سمیت دیگر قومیتوں کے کندھوں پر لٹکی بندوقیں اترنا شروع ہو گئی ہیں ۔ دونوں قبائل کے بغل گیر ہونے سے علاقے میںامن و آشتی کی فضاءبحال ہو رہی ہے ۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں