آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات23؍ ربیع الاوّل 1441ھ 21؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
صدر زرداری نے کہا ہے: کراچی کے حالات ریاست کی ناکامی نہیں۔ ملک کے لئے پیٹ پر پتھر بھی باندھ سکتے ہیں۔ جبکہ وزیراعظم کا کہنا ہے کراچی میں دہشتگردی کچلنے کے لئے آخری حد تک جائیں گے۔ ریاست کی ناکامی اور زرداری کی ناکامی میں بڑا فرق ہے، تاہم صدر گرامی قدر کی یہ بات اچھی لگی کہ انہیں ریاست سے پیار ہے، اور اسے قائم دائم رکھنے کے خواہاں ہیں، وہ صبر کرنے کے ماہر ہیں، اسی لئے پانچ سال تقریباً گزار ہی لئے، باقی یہ کہ وہ پیٹ پر ہرگز پتھر نہ باندھیں کہ اس کے لئے غزوئہ خندق اور شعب ابی طالب کی کوالیفیکیشن لانا پڑتی ہے، سردست وہ اگر اچھا سا جلاب لے لیں تو پیٹ ہلکا ہو سکتا ہے، اور یہی طریقہ ملک کی خدمت کے لئے درکار ہے، کراچی کے حالات ایک ایسی کربلا ہے جس میں ایک بھی حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہیں، یہ بے گناہوں کے لاشے کہ جن پر گھوڑے بھی چلنے سے بدک جائیں، رنگ لائیں گے، اب یہ رنگ، رنگ میں بھنگ ہو گا یا خوشرنگ، تاہم ناامیدی کے عالم میں بھی ایک کرن گویا ہے
یہ نغمہ فصلِ گل و لالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں لا الٰہ الا اللہ
صدر، پیٹ پر پتھر باندھیں یا وزیراعظم کراچی کے امن کی خاطر آخری حد تک جائیں، اتنا کہہ دیں کہ عروس وطن کراچی کے جسم پر لگا ناسور اس کی سہیلیوں تک بھی پھیل سکتا ہے، جب کوئی گھر اندر سے مضبوط ہو اور

گھر والے اس سے وفادار ہوں تو باہر والوں کی ریشہ دوانیاں، آنیاں جانیاں ہی ثابت ہوتی ہیں۔ کراچی لہو لہو ہے، اس کا خون کسی کی آستین میں تلاش کرنے کے بجائے اپنی جیبوں میں تلاش کرنا چاہئے، بلوچستان بھی اب کراچی ہے علاج اس کا بھی اے چا رہ گراں ہے کہ نہیں

پاکستان کئی افغان طالبان کو رہا کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔ یہ بات لندن میں افغانستان کی اعلیٰ امن کونسل کے رکن نے کہی ہے۔
ایک ہاتھ کی انگلیاں یکجا ہو کر مکا بنتی ہیں، اور یہ مکا کوئی خود کو نہیں مارتا، اس خطے میں افغانستان پاکستان بھارت اگر ایکا کر لیں کہ اپنا اپنا وجود برقرار رکھتے ہوئے ایک بن کر رہیں گے، تو دہشت و وحشت کی تمام آندھیاں بادنو بہار میں بدل سکتی ہیں، گریباں تک پہنچنے کے بجائے اگر سینہ چاکانِ چمن ایک دوسرے کے گلے لگ جائیں، تو یہاں خون گراں تر اور خوشحالی ارزاں تر ہو جائے گی، انتہا پسندی کی لہر، چھریاں تیز کرنے کا عمل، مذہب کو ظلم کا سائبان بنانے کی کوشش، مغرب دشمنی کا ڈھنڈورا پیٹنا ایک آدم کی اولاد کو سوتیلے قرار دینے کے انسان دشمن فتوے، یہ سب کچھ اس کے سوا کچھ نہیں کہ
سنو چھوٹی سی گڑیا کی لمبی کہانی!
پاکستان، افغانستان، ایران، ہندوستان اپنی اپنی خوش ذوقی و خوشحالی کی آبیاری کریں، اور اس عمل میں باہمی تعاون بھی پیدا کر لیں تو برصغیر کے تمام انسان طالبانِ امن و آشتی کا روپ سروپ دھار سکتے ہیں، ایک دوسرے سے دفاع کی ضرورت ختم کر دی جائے، تو یہ لوہا اکٹھا کرنے پر بہائی جانے والی دولت اس خطے کے لوگوں کے لئے گوشہٴ فردوس بنانے پر خرچ کی جا سکتی ہے، ضد، شوقِ تقابل اور حسد نے اپنے اپنے مکاتب فکر بنا لئے ہیں، برصغیر کے تمام انسان باہمی دشمنیاں بھلا کر باقی دنیا کے انسانوں کو بھی پیار محبت کا درس دے سکتے ہیں، کوئی آپ کے لئے قربانی تب دے گا جب آپ پہلے اس سے سچا پیار کریں گے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کہتے ہیں: آئندہ انتخابات صرف حکومت سازی نہیں ملک کی بقاء کے لئے ہوں گے۔
میاں صاحب نکے کی یہ بات پڑھ کر یوں لگا کہ جیسے انہوں نے سب پارٹیوں کو ایک منشور دے دیا اور ہمیں فی الفور یہ شعر یاد آ گیا
دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
رہ گئے آئندہ انتخابات تو اب اس قوم نے جو جو زخم کھائے ہیں ان سب کی عمر 65,65 برس ہو چکی ہے، میدان انتخاب میں اترنے والے سارے شہ زور خود ہی فیصلہ کر لیں کہ گوئے سبقت کس کے لے جانے کا امکان ہے، ہمارے پاس حاضر سٹاک میں اگرچہ سر تا سر ٹاٹ ہی ٹاٹ ہے۔ دو گرہ مخمل بھی نہیں کہ ٹاٹ میں مخمل کا پیوند لگا سکیں، تاہم امید سے ہیں، اور پاؤں بھی بھاری ہوتے جاتے ہیں، کہ کوئی ایسا قائد جنم دے دیں جو بھولے ہوئے آہو کو سوئے منزل لے چلے، قائد پہلے اپنے اندر قیادت کی صلاحیت پیدا کرتا ہے، پھر کسی فاران کی تلاش میں نکل کر آوازہٴ حق بلند کرتا ہے، اور لوگ جوق در جوق اس کی طرف بڑھتے ہیں، قوم اب سیانی ہو چکی ہے، آنجہانی نہیں ہو گی، اور راکھ کے ڈھیر میں سے ”ککنس“ ضرور برآمد ہو گی۔

پرویز مشرف فرماتے ہیں: پاکستان میں فوج کے خلاف سازش ہو رہی ہے۔
شاید ابھی تک مشرف اپنے اتمام حجت سے راضی نہیں، اور وہ کچھ مزید ایسا کرنے کی ہوس رکھتے ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت قدم نہ جما سکے، اور ادارے آپس میں لڑبھڑ کر ملک گنوا بیٹھیں، تب شاید ان کی ”آتما“ کو سکون ملے، گو وہ ابھی زندہ ہیں، اور ہم چاہتے ہیں کہ اللہ انہیں عمر خضر عطا کرے لیکن وہ اب بھی اپنی ناکردنیوں سے باز نہیں آئے، جرنیلی کی، حکمرانی کی، بربادی کی، پیمانے خالی کر دیئے، بڑھاپے میں بھی جوانیوں کی سنگت ملی، الغرض کیا کیا نہ کیا، پاکستان کی فوج کا مقام ہر پاکستانی کے دل میں ہے، فوج کو عدالت عظمیٰ نے آئین کے مطابق اعزاز و اکرام دیا، حکومت نے بھی فوج سے کوئی پنگا نہیں لیا، خود فوجی قیادت بھی اپنے سویلین سپریم کمانڈر کے حکم کی تعمیل کرتی ہے، یہاں کوئی باہمی پرخاش نہیں، پھر پرویز مشرف کیوں ٹھہرے ہوئے ساگر میں پتھر پھینکنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں، وہ اپنی عاقبت ”سنوارنے“ کیلئے سب کچھ کریں، مگر یہ رویہ اختیار نہ کریں کہ بازی بازی باریش بابا ہم بازی
(کھیلتے کھیلتے اب بابا کی داڑھی سے بھی کھیلنے لگے)

ادارتی صفحہ سے مزید