• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بینکرز اور بیوروکریٹس بھی دبئی میں جائیدادوں کے مالک


آرگنائزڈ کرائم اینڈ کرپشن رپورٹنگ پروجیکٹ کے اعداد وشمار میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک درجن سے زیادہ ریٹائرڈ فوجی افسران اور انکے خاندان، بینکرز اور بیوروکریٹس بھی دبئی کے مہنگے اور اعلیٰ درجے کے علاقے میں جائیدادوں کے مالک ہیں۔ 

ہزاروں پاکستانی جو جائیدادوں کے مالک ہیں ان میں ایک درجن کے قریب ریٹائرڈ فوجی جنرل، پاکستان ایئر فورس کے دو ریٹائرڈ ایئر وائس مارشل، ایک حاضر سروس انسپکٹر جنرل پولیس، ایک ریٹائرڈ صدر نیشنل بینک آف پاکستان، ایک سابق چیئرمین او جی ڈی سی ایل اور ایک حاضر سروس چیئرمین پاکستان کونسل فار سائنس و ٹیکنالوجی بھی اس میں شامل ہیں۔

ریٹائرڈ فوجی جنرلز میں سب سے نمایاں نام سابق صدر جنرل پرویز مشرف(مرحوم) کا ہے، سابق فوجی آمر اور انکی اہلیہ کا نام لیک ڈیٹا میں تین پراپرٹیز کی ملکیت کے حوالے سے ظاہر ہوا ہے جو کہ دبئی مرینا، برج خلیفہ اور الثانیہ ففتھ کے علاقوں میں ہیں۔

لیک ڈیٹا جو کہ 2020 سے 2022 کے دورانیہ کا ہے، اس میں سابق صدر کے ملٹری سیکریٹری لیفٹننٹ جنرل (ر) شفاعت اللّٰہ شاہ کا نام بھی شامل ہے۔ انکا نام پینڈورا پیپرز میں بھی آیا تھا، جنرل شفاعت کا بیٹا اس جائیداد میں شریک مالک ہے۔ 

جنرل شفاعت نےOCCRP کے رابطے پر اس پراپرٹی کے حوالے سے ملکیت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ انکی تمام بیرون ملک جائیدادیں پاکستان میں ٹیکس حکام کے پاس ڈیکلیئرڈ ہیں۔

جنرل مشرف کے عہد کے سابق ڈی جی سی سابق میجر جنرل احتشام ضمیر، انکے بیٹے اور دیگر بچے الورسان فرسٹ، مرینا آرکیڈ مرسا ایریا میں بطور جائیداد کے مالکان فہرست میں شامل ہیں۔ 

اسی طرح این ایل سی اسکینڈل کے لیفٹننٹ جنرل (ر) افضال مظفر کے بیٹے اور سابق ڈی جی کائونٹر اینٹلی جنس میجر جنرل احتشام ضمیر اور انکے بچوں کے نام بھی فہرست میں موجود ہیں۔ 

آئی جی آزاد کشمیر ڈاکٹر سہیل حبیب تاجک کا نام الدفراح فرسٹ  الثانیہ تھرڈ میں جائیداد مالک کے طور پر فہرست میں شامل ہے، انھوں نے جائیداد مالک ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے یہ  2002 میں اس وقت خریدا جب وہ اقوام متحدہ میں کام کر رہے تھے اور انکی تنخواہ دس ہزار ڈالر تھی۔ انکے مطابق انھوں نے یو این بینک سے یہ رقم قانونی طریقے سے دبئی ٹرانسفر کی اور اس جائیداد کو اپنے اثاثے کے طور پر ڈیکلیئر کیا۔ 

نیشنل بینک آف پاکستان کے سابق صدر عارف عثمانی کا نام بھی فہرست میں ایک پینٹ ہاؤس کے مالک کے طور پر شامل ہے۔ 

ایک اور لیفٹننٹ جنرل (ر) محمد اکرم الیٹ ریذیڈینسس 4 میں جائیداد کے مالک ہیں، لیفٹننٹ جنرل (ر) عالم جان محسود اور انکی اہلیہ الھماری پام جمیرہ ایریا میں پانچ کمروں کے اپارٹمنٹ کے مالک ہیں۔ 

لیک ڈیٹا میں میجر جنرل (ر) غضنفر علی خان ایس15 بلڈنگ الورسان فرسٹ میں ایک پراپرٹی کے مالک ہیں۔ میجر جنرل (ر) راجہ محمد عارف نذیر بھی گالف پرومینیڈ  2-A الحیبیاہ تھرڈ ایریا میں ایک پراپرٹی کے مالک ہیں۔ 

دریں اثنا ایئر وائس مارشل (ر) سلیم طارق اور ایئر وائس مارشل (ر) خالد مسعود راجپوت کے نام بھی مالکان پراپرٹی میں شامل ہیں۔ 

فہرست میں  میجر جنرل (ر)  محمد فاروق،  میجر جنرل (ر)  انیس باجوہ کی اہلیہ اور  میجر جنرل (ر) نجم الحسن شاہ کا نام بھی شامل ہے۔ سابق چیئرمین او جی سی ڈی ایل زاہد مظفر اور چیئرمین پی سی ایس ٹی سید انوار الحسن گیلانی کا نام بھی فہرست میں جائیداد مالکان کے طور پر موجود ہے۔

قومی خبریں سے مزید