آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نو منتخب وزیراعظم عمران خان نے عام انتخابات 2018 میں اپنی پارٹی کی کامیابی کی صورت میں حکومت کے پہلے 100 دن کے ایجنڈے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ تعلیم، صحت، مکان، انصاف اور روزگار ایجنڈے پر سرفہرست ہوں گے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ 100 روزہ پلان کا مقصد پالیسیوں کو تبدیل کرنا ہے اور ہماری حکومت کے ابتدائی 100 دن اس بات کی عکاسی کریں گے کہ پارٹی کس راستے پر گامزن ہے۔اس پلان میں سب سے اہم نکتہ مملکت پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا اور ملک میں مدینے کی ریاست کے نظریئے کا رائج کرنا تھا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ 'اگر ہم 2013 میں حکومت میں آ جاتے تو شاید اس قدر تیار نہ ہوتے، جس طرح اب ہیں، ہمارے پاس اب حکومت چلانے کا 5 سال کا تجربہ ہے اور ہم نے اس سے بہت کچھ سیکھا ہے۔

اب جب کہ تحریک انصاف ملک کی حکمران جماعت اور عمران خان پاکستان کے وزیراعظم منتخب ہوچکے ہیں، یہاں ان کی جانب سے دیئے گئے 100 روزہ ایجنڈے کے کچھ اہم نکات دیئے جارہے ہیں۔

۔پاکستان کو مدینے کی طرز پر فلاحی ریاست بنائیں گے

۔بیورو کریسی کو سیاست سے پاک کیا جائے گا

۔اداروں میں میرٹ لایا جائے گا

۔فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کیا جائے گا

۔جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بناکر محروم علاقوں میں اقتصادی پیکج دیا جائے گا

۔ایک کروڑ نئی نوکریاں پیدا کی جائیں گی

۔خارجہ پالیسی میں اصلاحات لائی جائیں گی

۔ملک بھرمیں درخت لگائے جائیں گے

۔کراچی میں قبضہ مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے گا

۔اداروں کو سیاست سے پاک کیا جائے گا

۔ٹیکس کا بوجھ کم کیا جائے گا

۔بجلی اور گیس کی قیمت کو کم کیا جائے گا

۔وزیراعظم اسکیم کے تحت 50 لاکھ سستے گھر بنائے جائیں گے۔

۔4 نئے سیاحتی مقامات کا اعلان کیا جائے گا

دو روز قبل عمران خان کی زیر صدارت تحریک انصاف کے ایک اہم اجلاس کے دوران پارٹی نے آئندہ 100 دنوں کے لیے لائحہ عمل کو حتمی شکل دی تھی۔

اب قوم کو امید ہے کہ عمران خان نے جس تبدیلی کا وعدہ کر رکھا ہے، وہ آئندہ 100 روز میں کسی نہ کسی شکل میں ضرور نظر آئے گی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں