آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ7؍ ربیع الاوّل 1440ھ 16؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کئی اہم دن ایسے گزرے کہ جب میں ملک میں نہیں تھا۔ سب سے اہم دن وہ تھا کہ جب عمران خان نے اپنےعہدے کا حلف اٹھایا اور وزیراعظم بن گئے۔ گویا ایک نئے پاکستان کا سورج طلوع ہوگیا۔ ایک نئے سفر کا آغاز ہوا۔ شمالی اٹلی اور وسطی یورپ کی نشیلی فضائوں میں بھی پاکستان میرے دھیان میں رہا اور بڑی سرخیوں پر نظر رہی ۔ اور اب جب واپس آیا ہوں تو پورا منظر میرے سامنے ہے۔ کئی خبریں جنہیں جان کر حیرت ہوئی تھی اب بھی ٹھیک سے سمجھ میں نہ آ پا رہی ہیں۔ صرف ایک مثال یہ سردار عثمان بزدار کون صاحب ہیں؟ یہ نئے پاکستان کے اسٹیج پر کیسے چڑھ گئے اور کس نے انہیں اس اسٹیج کے مرکز پر، تیز روشنی کے دائرے میں لاکھڑا کیا؟

ظاہر ہے کہ یہ سب فیصلے وزیراعظم عمران خان کے ہیں۔ ایک جمہوری نظام میں فیصلہ سازی کے آداب کچھ بھی ہوتے ہوں، ہماری سیاست تو کرشماتی قیادت کی مٹھی میں بند ہے۔ اور کسی لیڈر سے اس کے ’’مرید‘‘ میں نے سیاست کی نئی فضائی آلودگی کو ذہن میں رکھ کر استعمال کیا ہے۔ جیسا کہ میں نے کہا، یہ تو محض ایک مثال ہے اور اس کی اہمیت یوں ہے کہ یہ ایک بڑا فیصلہ ہے۔ اسی طرح دوسرے کئی بڑے فیصلے بھی ایک پہیلی بن کر آپ کو شش و پنج میں مبتلا رکھ سکتے ہیں۔ بوجھ سکو تو بوجھ لو۔ لیکن ان بڑے فیصلوں کے نتائج آنے والے دنوں میں واضح ہوں گے۔ فی الحال تو اتنی بہت سی پھل جھڑیاں چھوٹ رہی ہیں کہ آگے پیچھے دیکھنے کی مہلت نہیں مل رہی۔ آپ وزیراعظم کے ہیلی کاپٹر کے فی کلومیٹر خرچ کو ہی دیکھ لیں کہ جس کا حساب تحریک انصاف کے سابق ترجمان اور موجودہ مرکزی وزیر اطلاعات نے لگا کر بتایا۔ ہوسکتا ہے کہ یہ لوگوں کا دل بہلانے کی ایک سازش ہو کہ جو کامیاب رہی۔ اگر حالات تشویشناک ہوں اور لوگ پریشان ہوں کہ اب کیا ہوگا تو ان کی توجہ ہٹانے کے لئے تفریح کا بھی تو کچھ سامان ہونا چاہئے۔ سو دیکھ لیجئے کہ ہیلی کاپٹر کیسے ایک استعارہ بن گیا ہے اور ایسے ایسے لطیفے بیان کئے گئے ہیں کہ جو پاکستانیوں کی قوت تخلیق کا ایک اور حوصلہ افزا مظاہرہ ہیں۔

میری مشکل یہ ہے کہ اس کالم میں ایسی دوسری کئی وارداتوں کے ذکر کی گنجائش نہیںہے کیونکہ سیاسی تبدیلی کے سنجیدہ اور گمبھیر مضمرات کو سراسر نظرانداز بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ اب آپ ہی بتائیے کہ اگر میں عامر لیاقت حسین کی بات شروع کروں تو وہ کہاں تک جائے گی۔ اور وہاں ، پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان بھی تو ہاتھ اٹھا اٹھا کر ہماری توجہ اپنی طرف مبذول کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ جیسے کہہ رہے ہوں کہ اگر آپ کو تحریک انصاف کے رنگ دیکھنے ہیں تو دیکھئے ایک رنگ میں بھی ہوں۔ ویسے اس رنگ میں شوخی یا چمک بالکل نہیں ہے۔ فیاض الحسن چوہان سے منسلک جو باتیں ہیں وہ انتہائی دردناک ہیں۔ یہ سوال اب بہت اہم ہوگیا ہے کہ عمران خان اپنے نئے پاکستان کو کس راستے پر ڈالنا چاہتے ہیں۔ تعصب میں گندھی انتہا پسندی کی طرف یا جمہوری آزادیوں سے معمور روشن خیال کی جانب ۔ ہوسکتا ہے یہ فیصلہ ابھی انہوںنے کیا ہی نہ ہو۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کی کچھ سیاسی مجبوریاں بھی ہوں۔ ان کی اپنی کابینہ ست رنگی نہیں بلکہ بد رنگی ہے۔ اگر کسی کے ذہن میں یہ ہے کہ نوجوان تحریک انصاف کی قوت ہیں تووہ غور سے عمران خان کے دست و بازو کو دیکھ لے۔ شاید کسی نے مرکزی کابینہ کے ارکان کی اوسط عمر کا اندازہ لگایا تھا۔ ابھی کئی نئے وزیر نامزد ہونا باقی ہیں۔ پھر دیکھیں گے کہ یہ اوسط کیا ہے۔

یہاں یہ ماننا بھی ضروری ہے کہ صرف عمر ہی کسی فرد کی اپج اور فکر کی تازگی کا پیمانہ نہیں ہوتی۔ آپ جانتے ہیں کہ خود عمران خان کی عمر کیا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ اور ان کی جماعت کے دوسرے مرکزی رہنما کس حد تک انقلابی سوچ اور تبدیلی کے عمل کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان میں سے چند تو خرچ ہوچکے ہیں۔ شاہ محمود قریشی کسی اور زمانے میں بھی وزیر خارجہ تھے۔ اور وہ دیکھئے ، وہاں باہر اعوان بھی بیٹھے ہیں۔

یہ سوال کہ کیا عمران خان کے وزیراعظم بن جانے کے بعد ایک نیا پاکستان بھی بن گیا ہے یا بن رہا ہے، سیاسی گفتگو میں گردش کررہا ہے۔ دن تو اب دس سے زیادہ ہوگئے لیکن دس دن کی اصطلاح مناسب ہے کہ آخر دس دن میں کیا ہوسکتا ہے۔ تحریک انصاف کے حامی صبر کی تلقین کررہے ہیں۔ یہ سچ بھی ہے کہ دس دن تو بس دن ہوتے ہیں۔ پھر بھی، عمران خان تو بیس سال سے زیادہ عرصے سے وزیراعظم بننے کی جستجو اور انتظار کررہے تھے۔ انہیں تو فوراً اپنے مکمل پلان کو میز پر پھیلادینا چاہئے تھا کہ اب کون کیا کرے گا۔ یعنی پہلے دو چار دنوں ہی میں کئی باتیں واضح ہوجاتیں۔ ایسا نہیں ہوا تو وعدوں اور منصوبوں کا حوالہ مسلسل دیا جاتا رہا۔ یوں بھی یہ دس دن کی بات نہیں ہے۔ انتخابات تو ایک مہینے پہلے ہوئے تھے کہ جب یہ فیصلہ ہوگیا کہ حکومت کون بنائے گا۔ اب کچھ ایسی صورت ہے کہ حکمرانی کے کینوس پر مختلف رنگوں کےچھینٹے تو دکھائی دیتے ہیں۔ چند لکیریں بھی کھینچی جارہی ہیں۔ لیکن تصویر ابھی تک نہیں بن پائی ہے۔ اس سست روی کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ یہ فیصلہ کہ بطور وزیراعظم عمران خان کی رہائش کہاں ہوگی پارٹی میں بحث کا موضوع بنا رہا۔ اور جہاں تک ایک نئےپاکستان کے بنانے کی بات ہے تو یاد کیجئے وہ روح فرسا رات جب 20؍ دسمبر 1971ء کو ذوالفقار علی بھٹو نے قوم سے خطاب کیا تھا اور اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ ہم چھوٹے چھوٹے ٹکڑے چن کر ایک نیا پاکستان بنائیں گے۔

یہ وہ مرحلہ تھا جب کسی نے کوئی تیاری نہیں کی تھی۔ میں یہاں صرف یہ یاد دلانا چاہتا ہوں کہ بھٹو نے کس برق رفتاری کے ساتھ اس مشکل وقت میں اپنے فیصلے کئے تھے۔ جہاں تک مجھے یاد ہے وفاقی کابینہ نے نصف شب کے بھی بعد اپنے عہدوں کا حلف اٹھایا تھا۔ چند ہی دنوں میں کتنے ہمہ گیر فیصلے کئے گئے تھے۔ بھٹو کاذکر کئی پیچیدہ خیالات کو جنم دیتا ہے لیکن یہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ پاکستان کا ہر نیا لیڈر اپنے دل میں بھٹو بننے کی آرزو رکھتا ہے۔ خود عمران خان بھی بھٹو کے بارے میں اچھی باتیں کہہ چکے ہیں۔ یہ بھی ایک سچی بات ہے کہ تاریخ کا ہر امتحان اپنے وقت کی قیادت کے لئے مختلف ہوتا ہے۔ اور اب عمران خان کا امتحان ہے۔ جہاں تک دس دنوں کی بات ہے تو 1917ء کے روس کے انقلاب کے بارے میں امریکی صحافی جون ایڈ کی وہ کتاب بہت مشہور ہے جس کا نام یہ ہے ’’دس دن جنہوں نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔‘‘

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں