آپ آف لائن ہیں
منگل14؍ محرم الحرام 1440 ھ25؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں 25جولائی 2018ءکے عام انتخابات کے نتیجے میں جو کچھ ہوا ہے ، کم و بیش اسی طرح ملائیشیا میں 9مئی 2018ءکے عام انتخابات کے نتیجے میں ہو چکا ہے کیونکہ دونوں ملکوں کے حالات میں یکسانیت تھی ۔ مستقبل دونوں کا کیا ہو گا ؟ یہ آج کا اہم سوال ہے ۔ پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کی باری باری حکومت حاصل کرنے کی روایت ختم ہوئی ہے اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو وزارت عظمیٰ کا منصب حاصل ہوا ہے ۔ یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کی بڑی کایا پلٹ ہے ۔ ملائشیا میں باریسان ( Barisan ) قومی اتحاد خصوصی، اس اتحاد میں شامل جماعت یونائیٹڈ مالیزنیشنل آرگنائزیشن ( یو ایم این او ) کے اقتدار کا خاتمہ ہوا ہے ، جو ملائشیا کی آزادی سے 2018 تک جاری رہا ۔ 9 مئی 2018 ء کے انتخابات کے نتیجے میں 93 سالہ سیاست دان مہاتیر محمد دوبارہ وزیر اعظم بنے ، جو قبل 1981 ء سے 2003 تک (22 سال ) یو ایم این او کی حکومت میں وزیر اعظم رہے اور ساتھ ہی اس سیاسی جماعت کے سربراہ بھی تھے انہوں نے اپنی ہی سیاسی جماعت کے خلاف 2016 ء میں اپنی نئی سیاسی جماعت ملائشین یونائیٹڈ انڈی جنیس (Indigenous ) پارٹی قائم کی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد قائم کیا ۔ ملائیشیا کی سیاسی تاریخ میںیہ ایک انقلاب ہے ۔ ملائیشیا اور پاکستان کے سیاسی، سماجی اور معاشی حالات میں بہت حد تک یکسانیت ہے ۔ دونوں ملکوں میں مذکورہ بالا بڑی تبدیلیوں کا سبب یہی حالات ہیں ۔ دونوں ملکوں میں سیاسی بالادستی رکھنے والی سیاسی قوتیں روایتی سیاست کی علمبردار بن گئی تھیں اور وہ عہد نو کے تقاضوں کو نظرانداز کر رہی تھیں ۔ انہوں نے سیاست کو اقتدار کے حصول یا اقتدار پر قبضہ برقرار رکھنے اور لوٹ مار کا ذریعہ سمجھ لیا تھا ۔ ماضی کی سیاست میں الجھے رہنا نئی نسل کا مسئلہ نہیں رہا تھا ۔ اس نسل کے اپنے مسائل تھے ۔ یہی حالات دونوں ملکوں میں تبدیلی کا سبب بنے ۔ فرق صرف یہ ہے کہ مہاتیر محمد ملائشیا کی سیاست کی گمشدہ کڑی ہیں ، جنہیں 15 سال بعد ڈھونڈ کر ملائشیا کی قوم نے اپنے ماضی اور مستقبل کے رشتے کو دوبارہ جوڑا ہے جبکہ پاکستان میں ماضی اور مستقبل کے درمیان ایک کڑی بننا ہے اور یہ بہت بڑا فرق ہے ۔

مہاتیر محمد بہت تجربہ کار ، ذہین اور جرآت مند سیاست دان ہیں ۔ وہ عظیم ریاست کار اور مدبر ہیں ۔ انہیں ریاستی اور حکومتی امور کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی امور کا بھی گہرا تجربہ ہے ۔ وہ ملایا سماج کی تاریخ ، تہذیب ، ثقافت ، سیاست اور گروہی تضادات کا گہرا ادراک رکھتے ہیں ۔ ان کی دانشورانہ اپروچ بہت بلند ہے ۔ انہوںنے ایسے حالات میں دوبارہ 93 سال میں ملک کی باگ ڈور سنبھالی ہے ، جب ملائشیا ان کے دیئے گئے ’’ وژن 2020 ‘‘ سے ہٹ گیا تھا ۔ معاشی بحران ، کرپشن اور بیڈ گورننس کا شکار تھا اور سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ قرضوں کے بوجھ میں دب کر اپنی ترقی کی صلاحیت کھو رہا تھا ۔ پاکستان کی طرح ملائشیا بھی کثیر القومی ، کثیر اللسانی اور کثیر المذہبی ملک ہے ۔ وہاں کے سیاسی اور گروہی تضادات بھی پاکستان کی طرح ہیں لیکن دونوں ملکوں میں ایک اور فرق یہ ہے کہ ملائیشیا میں جمہوری اور سیاسی ادارے پاکستان کے مقابلے میں بہت حد تک مضبوط ہیں۔ وہاں ملائن، مسلمان، ہندو اور چینی رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتے بلکہ ایک دوسرے کے تہواروں میں شریک ہوتےہیں وہاں مذہب اسٹیٹ میں کوئی interference نہیں کرتاجبکہ یہاں حالات مختلف ہیں ۔ احتساب کا جمہوری نظام بھی قدرے بہتر ہے اور سیاسی اور حکومتی امور میں غیر سیاسی قوتوں خصوصاً سیکورٹی اداروں کی مداخلت قدرے کم ہے اور یہ بھی بہت بڑا فرق ہے ، حالات میں بہت سی یکسانیت کے باوجود ۔

اس مختصر کالم میں بڑی دلیلوں اور مباحث کی گنجائش نہیں ہے تاہم ان دلائل اور مباحث کیلئے میں ذہنی مشق کر چکا ہوں اور اس پر پہنچا ہوں کہ پاکستان کی سیاسی قیادت کو مہاتیر محمد کے وژن سے رہنمائی حاصل کرنی چاہئے ۔ انکے صرف ایک فیصلے کا ادراک کرنا ضروری ہے ۔ گزشتہ ماہ انہوں نے چین کا دورہ کیا اور وہاں انہوں نے اعلان کیا کہ ملائیشیا میں چین کی مالی امداد سے چلنے والے 20 ارب ڈالر کے منصوبے منسوخ کئے جاتے ہیں ۔ یہ اعلان انہوں نے بیجنگ میں کیا اور کہا کہ فی الحال ملائشیا ان منصوبوں کی سکت نہیں رکھتا ۔ چین کے یہ منصوبے ’’ ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ ‘‘ کا حصہ ہیں ، جسے پاکستان میں ہم پاک چین اقتصادی راہداری ( سی پیک ) کا نام دیتے ہیں ۔ مہاتیر محمد نے چین کے صدر اور وزیر اعظم کو بھی اپنے فیصلے کے اسباب سے آگاہ کیا ۔ جب دنیا نے اس بڑے فیصلے کی مزید وضاحت چاہی تو مہاتیر محمدنے کہا کہ ملائیشیا کے لوگ چین کے لوگوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے ۔ چینی باشندے کاروبار جانتے ہیں اور وہ اپنے وسائل سے یہاں آکر زمینیں خریدتے ہیں ۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ملائیشیا کے لوگ شہر وں سے بے دخل ہو کر جنگلوں میں رہیں گے ۔ ملائیشیا کو ایسی بیرونی سرمایہ کاری چاہئے ، جس میں باہر کے لوگ یہاں فیکٹریز لگائیں یا کاروبار کریں لیکن فیکٹریز اور دفاتر میں مقامی لوگ ہوں ۔

ملائشیا کی رئیل اسٹیٹ ، شہر یا زرعی زمینیں مقامی لوگوں کے پاس رہیں ۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ سابقہ حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں نے چین کے ان منصوبوں میں بڑے پیمانے پر کرپشن کی اور رشوت حاصل کی ۔ تیسرا سبب یہ ہے کہ چین کے سرمایہ کار جو رقم لگا رہے ہیں ، اس سے ملائیشیا پر قرض میں اضافہ ہو رہا ہے اور ان قرضوں کی شرح سود بہت زیادہ ہے ، جو ملائشیا کی ساری معاشی ترقی کو ہڑپ کر لے گی ۔ قرضوں والی ترقی پائیدار نہیں ہوتی ہے ۔ اس کے برعکس پاکستان میں سی پیک منصوبوں پر اس طرح بات نہیں کی جا سکتی ، جس طرح نظریہ پاکستان ، قومی سلامتی سے متعلق سکہ بند نظریات پر بات نہیں کی جا سکتی ۔ پاکستان بہت زیادہ قرضوں کے بوجھ میں دبا ہواہے ۔ چین سی پیک میں جو دے رہا ہے وہ امداد نہیں ہے بلکہ قرض ہے اور یہ قرض جو پاکستان کو دیئے جا رہے ہیں وہ نسبتاَ دوسرے تمام عالمی قرضوں سے زیادہ سود اور مشکل شرائط پر ہیںاور ان میں کرپشن کا بڑا عنصر شامل ہے۔جہاں اس قرض کے ہمیں ضرورت ہے وہاں چین کے لئے بھی یہ پروجیکٹ نفع دے رہے ہیں۔چین ہمارادوست ہے اور ہر مشکل وقت میں ہمارے ساتھ کھڑا ہے لیکن سود اور شرائط کو renegotiate کرنا چاہئے اور عمران خان یہ کر سکتے ہیں کیونکہ وہ کرپشن کا خاتمہ اور گڈ گورننس لائیں گے اور اس کے ساتھ ان پرکرپشن کا کوئی الزام بھی نہیں ہے۔ وزیر اعظم عمران خان اگرچہ سی پیک کے منصوبوں سے متعلق اصل حقائق کا ادراک رکھتے ہیں لیکن پاکستان میں فیصلے کرنا ملائشیا کی طرح آسان نہیں ۔ مہاتیر محمد کا دوسرا وژن یہ ہے کہ ترقی کیلئے سودیشی ( Indigenous) جوہر پیدا کیاجائے ۔ مختلف قومی ، لسانی ، مذہبی گروہوں کے درمیان معاشی تفریق کو ختم کیا جائے ۔ پسماندہ علاقوں کو ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لایا جائے ۔ پاکستان میں اس وژن پر عمل کرنے میں صرف مقامی ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی قوتیں بھی حائل ہیں کیونکہ پاکستان کے فاٹا کے علاقوں اور بلوچستان کی پسماندگی ’’ گریٹر گیم ‘‘ کیلئے ضروری ہے ۔ پاکستان ملائشیا کے برعکس پہلے ہی گریٹر گیم میں پھنسا ہوا ہے ۔ پاکستان کی داخلی اور خارجہ پالیسی میں سویلین حکمرانوں کا فیصلہ کن عمل دخل بھی نہیں ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان کیلئے بہت مشکل صورت حال ہے لیکن وہ کر گزرنے والے شخص ہیں ۔ مہاتیر محمد کا وژن ان کی رہنمائی کر سکتا ہے ۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں