آپ آف لائن ہیں
اتوار 12؍محرم الحرام 1440ھ 23؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سب سے پہلے یہ حقیقت ہمارے سامنے ہونی چاہئے اور اسے تسلیم بھی کر لینا چاہئے کہ کے پی کے میں تحریک انصاف کی حکومت سے پہلے بھی وہاں کی پولیس پنجاب پولیس سے کئی گنا بہتر تھی کیونکہ وہاں کے لوگ تاریخی، ثقافتی، سماجی، نفسیاتی، جذباتی، جینیاتی، ماحولیاتی طور پر ہم یعنی اہل پنجاب سے بے حد مختلف ہیں جس کی تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ جس میں تھوڑا بہت تاریخی شعور موجود ہو گا، وہ بہ آسانی سمجھ جائے گا کہ میں کیا کہنا چاہتا ہوں۔ مختصراً یہ کہ کے پی کے کی پولیس تو پہلے سے ہی ’’اپنی حدود‘‘ میں رہنے کی عادی تھی جس پر عمدگی کے ساتھ مزید توجہ دی گئی تو وہ اچھی سے بہت اچھی اور خوب سے خوب تر ہو گئی لیکن میرا خیال ہے ہماری پیاری پنجاب پولیس کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔پنجاب پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک کرنے کا خیال ہے تو بہت پیارا اور پاکیزہ لیکن شاید اتنا ہی پیچیدہ بھی ہے اور تضادات سے بھرپور بھی کیونکہ کسی نے ابھی تک پنجاب پولیس کو ڈی پولیٹیسائز کرنے کی وضاحت نہیں کی۔ پہلی بات تو یہ کہ عام طور پر تو پہلے بھی ہمارے اکثر نام نہاد عوامی نمائندے یعنی ایم این اے، ایم پی اے حضرات ان کے باسز نہیں تقریباً محکوم بلکہ کچھ تو ٹائوٹ ٹائپ ہی ہوتے ہیں جو مل جل کر ایک خاص قسم کی ’’انڈر سٹینڈنگ‘‘ کے ساتھ ہی ’’کاروبار

حیات‘‘ چلاتے ہیں۔ بہت ہی کم ایم این اے، ایم پی اے وغیرہ اتنے بااثر ہوتے ہیں کہ پولیس افسران کو ڈکٹیٹ کرا سکیں، باقی بیچارے تو بمشکل اپنے اپنے بھرم بچاتے پھرتے ہیں۔دراصل یہ سارا مسئلہ ’’پہلے مرغی یا انڈا‘‘ وغیرہ جیسا مسئلہ ہے کہ اصولاً تو منتخب نمائندوں کو ہی حاکم اور پولیس ملازموں کو ہی ملازم ہونا چاہئے لیکن یہاں تو کرپشن اور ناکردگی دونوں حوالوں سے ہی ___’’دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی‘‘ ان کا آپس میں تعلق کتنا اور کیسا ہوگا؟ یا ہو سکتا ہے؟پہلے تو کوئی غریب لاوارث بے آسرا صحیح غلط پولیس شکنجے میں پھنسنے کے بعد ایم این اے، ایم پی اے کی منت ترلے کر کے کچھ ریلیف لے لیتا تھا، اور نہیں تو تھانے میں چھتروں گالیوں میں ہی کوئی ریلیکسیشن مل جاتی تھی، اب اگر بغیر کسی ’’چیک‘‘ کے یہ سہارا بھی جاتا رہا تو عام آدمی کا بنے گا کیا؟ اگر چیک اینڈ بیلنس اندر خانے ہی ہو گا تو اس محاورے کا کیا بنے گا کہ ’’بھینسیں بھینسوں کی بہنیں ہوتی ہیں‘‘ اور اکثریت ایک دوسرے کو پوری طرح پروٹیکٹ کرے گی۔ امکان یہ تو نہیں کہ پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک کرنے کے بعد معاملات مزید پلید ہو جائیں کیونکہ جن کے مونہوں کو مدتوں سے بے لگام طاقت کے استعمال کا خون لگا ہے، وہ اوور نائٹ نارمل ہو کر عوام کے ہمدرد بن جائیں گے___ کم از کم میری سمجھ سے تو بالکل ہی باہر ہے۔ابھی گزشتہ کل کے کالم میں میں نے اس خبر کا حوالہ دیا ہے جس کے مطابق اہم اداروں نے پنجاب کے 45ارب پتی موجودہ اور سابق پولیس افسروں کے خلاف انکوائری شروع کر دی ہے تو وہ کون سی ریفارمز ہوں گی جو پنجاب پولیس کے اس کلچر کو تبدیل کر دیں گی جن میں نواز شریف نے مجرموں تک کو بھرتی کرنے سے گریز نہ کیا تھا۔ میں ماضی کے ایک نیک نام آئی جی پولیس عباس خان کی اس مشہور زمانہ رپورٹ کا حوالہ دے رہا ہوں جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ ’’وزیر اعلیٰ‘‘ نواز شریف نے اپنا ووٹ بینک بنانے کے لئے کس طرح پولیس کا چہرہ اور کردار بگاڑا۔ایک اور اہم بات یہ کہ ’’لامحدود‘‘ قسم کے اختیارات دے کر جب آپ کسی کو ’’انتہائی محدود‘‘ معاوضہ، اجرت یا تنخواہ دیں گے تو کس قسم کے نتائج کی توقع رکھنی چاہئے؟ RAT RACEکی لپیٹ میں آئے ہوئے اس معاشرہ میں کوئی ولی اللہ ہی ہو گا جو خود اپنے اور اہل خانہ کے پیٹوں پر پتھر باندھ کر دیانتداری سے اپنے فرائض سرانجام دے گا۔آپ ایک سینئر پولیس افسر کی تنخواہ کا سوچیں، پھر اس کے ڈیوٹی آورز دھیان میں لائیں۔ نہ کوئی ماں نہ باپ، نہ بہن نہ بھائی، نہ خوشی نہ غمی، صرف 2میاں بیوی اور تین بچے جو کسی مناسب پرائیویٹ سکول میں پڑھ رہے ہوں۔ شام کو قاری صاحب اور ایک آدھ ٹیوٹر بھی آتا ہو تو کوئی مجھے سمجھا دے کہ ایس ایس پی صاحب کی ’’خالص‘‘ تنخواہ میں یہ ممکن ہے؟ایک طرف قانون شکن قانون سازدوسری طرف اوور ورکڈ اور انڈر پیڈ قانون نافذ کرنے والےدرمیان میں کسی بھی قسم کے ڈسپلن، کوالٹی ایجوکیشن اور تربیت سے محروم بگٹٹ بے سمت عوام تو میں سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہنا چاہتا کہ ’’پولیس ریفارمز‘‘ سننے میں تو بہت سریلا اور سہانا لگتا ہے لیکن اس سے بڑا چیلنج ممکن نہیں..... یہ الٹی گنگا بہانے سے مختلف نہ ہو گا کیونکہ کے پی کے اور پنجاب کی پولیس اور عوام میں اتنا ہی فرق ہے جتنا ایک ہی جسم کے مختلف اعضا میں ہوتا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں