آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سمت کا درست تعین ہو جائے تو نہ صرف سفرآسان ہو جاتا ہے بلکہ منزل کا حصول بھی۔ یوم دفاع پاکستان کے موقع پر جی ایچ کیو میں ہونے والی تقریب میں وزیر اعظم پاکستان اور آرمی چیف کی طرف سے منزل کےتعین کااظہار کچھ یوں سامنے آیا کہ ’’ہم سب کا ایک ہی مشترکہ مقصد ہے کہ مل کر اس ملک کو آگے لے کر جانا ہے‘‘ بلاشبہ یہی مقصد پوری قوم کا بھی ہے۔ یوم دفاع اورشہدائے وطن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ سول ملٹری تعلقات میں کوئی مسئلہ نہیں، مشترکہ مقصد ملک کو آگےلے کر جانا ہے۔ اپنے ادارے مضبوط کرنے ہیں کیونکہ سیاسی مداخلت سے ادارے تباہ ہوجاتے ہیں۔ فوج اور دوسرے اداروں کو مضبوط کریں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کسی دوسرے کی جنگ میں نہیں پڑیں گے۔ انہوں نے کہا ملک بمباری سے نہیں اداروں کی بربادی سے تباہ ہوتے ہیں۔ وزیراعظم کی تقریر حقائق کی عکاس ہے۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ سول اور ملٹری تعلقات میں بہتری صاف دکھائی دے رہی ہے البتہ اس سے بھی اہم کام ان تعلقات کوبرقرار رکھنا بلکہ ہر آن مزید مضبوط بنانا ہے۔ پاکستان کو معاشی و عسکری چیلنجز درپیش ہیں اور ان سے نبردآزمائی مل کرہی ممکن ہے چنانچہ ہر دوجانب سے ضروری ہے کہ کسی بھی غلط فہمی کا بذریعہ گفت و شنید فوری خاتمہ کریں کیونکہ ہمارے اندرونی و بیرونی

دشمنوں کویہی تعلقات ہضم نہیں ہو پارہے۔ یقیناً اداروں کی کمزوری و لاغری ہی ملکوںکی تباہی کا سبب بنتی ہے۔ پاکستان میں سیاسی، سماجی، علاقائی، معاشی اور اقتصادی سطح پر جتنی بھی کھچڑی پکی وہ محض ریاستی اداروں کی کمزوری یا منہ زوری کا شاخسانہ تھی۔ آئین کو پس پشت ڈالنے کا منطقی نتیجہ اداروں کی تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوا کرتا۔ افغان جنگ نے جسد وطن پر جس قدر کاری زخم لگائے ہیں کسی سے پوشیدہ نہیں۔ وزیر اعظم کا یہ کہنا پوری قوم کی آوازہے کہ کسی دوسرے کی جنگ نہیں لڑیں گے، آرمی چیف بھی متعدد مرتبہ اس کااعادہ کرچکے ہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس موقع پر کہا کہ آج کا دن شہدائے پاکستان سے یکجہتی کا دن ہے۔ دفاع پاکستان کے لئے ہم یکجان ہیں۔ 1965۔ 1971کی جنگوں سے بہت کچھ سیکھا، ہماری فوج اورقوم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دیں، ہمارے گھروں، اسکولوں اور سیاسی قائدین پر حملے کرکے ہمیں اندر سے کمزور کرنے کی کوشش کی گئی۔ زندہ قومیں اپنے شہداکو نہیں بھولتیں۔ شہدا کو بھولنے والی قومیں مٹ جایاکرتی ہیں۔ ہم پچھلی دو دہائیوں سے مشکل دور سے گزرے مگر کام ابھی ختم نہیں ہوا۔ ہمیں امن کی دائمی منزل تک پہنچنا ہے، ملکی تعمیرو ترقی کویقینی بنانا اور اسے اس مقام تک پہنچانا ہے جہاں دشمن دوبارہ ہمیںمیلی آنکھ سے نہ دیکھ سکے۔ سرحد پر بہنےوالے لہو کا حساب لیں گے۔ کشمیری بہن بھائیوں کو سلام پیش کرتاہوں۔ آرمی چیف کا یہ خطاب کسی بھی محب وطن پاکستانی کےدل کی آواز ہے اوریہ یقین بھی کہ ہماری شجاع افواج کے ہوتے ہوئے دشمن پاکستان کےبارے میں کسی جارحیت سے قبل ہزار بارسوچےگا۔ رہی بات شہدا کو بھولنے کی تو یہ ممکن ہی نہیں۔ ہمارے شہدا قوم کے دلوں میں بستے ہیں کہ قوم خوب آشنا ہے کہ جوشعلے اس کی طرف بڑھ رہے تھے ہمارے شیردل جوانوں اور افسروںنے اپنے لہو سے بجھائے۔ وزیر اعظم اور آرمی چیف کے خطبات کے علاوہ تقریب کاحسن یہ رہا کہ اس میں اپوزیش سمیت تمام سیاسی اورسماجی شخصیات نے اول تاآخرشرکت کی۔ جن میں میاںشہبازشریف اور بلاول بھٹو بھی شامل تھے۔ یہ ایک ایساامید افزا منظر ہے جس پرقوم نہال ہے۔ اس لئے کہ ہمیں وطن عزیزکوبحرانوں سے نکال کر خودکفیل بنانے اوردنیا میں باوقارمقام دلوانے کے لئے متحد ہونا ہی پڑے گا۔ سب کوملک کا سوچنا ہوگا کہ آج اگر کسی کی حکومت ہے تو کل کسی اورکی ہوگی۔ قوم امید کرتی ہے کہ تمام تر سیاسی جماعتیں ’’اتفاق میں برکت‘‘ کی حقیقت پرعمل کرتے ہوئے حکومت کے ہر اچھے کام میں شریک عمل ہوں گی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں