آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ7؍ ربیع الاوّل 1440ھ 16؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور وزیر دفاع جم میٹس کی نئی دہلی میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج اور وزیر دفاع نرملا سیتھا رامن سے ملاقاتوں کے بعد جاری کئے گئے مشترکہ اعلامیے اور دیگر بیانات کا پاکستان کے متعلقہ محکموں میں احتیاط سے تجزیہ کیا جانا چاہئے جبکہ نئی دہلی اور واشنگٹن کے درمیان ہونے والے معاہدوں کے مضمرات پر نظر رکھنے کی بھی اتنی ہی ضرورت ہے۔مبصرین اگر بعض بیانات میں پاکستان کی طرف اشارہ یا پیغام دیکھ رہے ہیں تو بعض معاہدوں کے اسلام آباد اور خطّے پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کی نزاکت کو بھی محسوس کر رہے ہیں۔ جمعرات کو نئی دہلی میں مواصلات اور سیکورٹی سے متعلق جس معاہدے پر دستخط کئے گئے، عام تاثّر یہ ہے کہ اس کے ذریعے بھارت کو انتہائی حسّاس فوجی آلات کی فروخت کا راستہ کھل گیا ہے۔ امریکی وفد کی نئی دہلی آمد سے قبل اسلام آباد میں پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت سے ملاقاتوں کو اگرچہ دونوں ملکوں کے درمیان جاری سردمہری کے خاتمے سے تعبیر کیا گیا ہے مگر قبل ازیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹوئٹر پر دیئے گئے پیغامات اور نئی دہلی اور واشنگٹن سے آنے والے دیگر بیانات کو بھی یکسر نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ امریکہ کی طرف سے بھارت کو حسّاس ٹیکنالوجی دینے کے اعلان، نیوکلیئر سپلائی گروپ میں بھارتی شمولیت کی

حمایت کے اعادے، افغانستان میں قیام امن کے عمل میں نئی دہلی کا ’’تعاون‘‘ بڑھانے کے دعوے، سول ایٹمی توانائی پارٹنر شپ کے مکمل اطلاق پر رضامندی کے وسیع تر مفاہیم کا جائزہ لیے جانے اور پاکستان سے جو مطالبات کئے گئے ہیں ان کے سیاق و سباق پر نظر رکھے جانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اگرچہ بھارت سمیت تمام ممالک سے اچھے تعلّقات کا خواہاں ہے مگر ماضی کے بعض تجربات سے صرف نظر بھی ممکن نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی سفارت کاری کو زیادہ فعال کر کے عالمی امن کیلئے پاکستان کی قربانیوں اور مختلف امور پر اسلام آباد کے مؤقف سے دنیا کو آگاہ کریں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں