آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کرۂ ارض پر بڑھتی ہوئی گلوبل وارمنگ کی وجہ سے ذخائر تیزی سے پگھل رہے ہیں ۔اس پر تحقیق کے لیے ناسااپنا نیا سیٹلائٹ ’’آئس کلائوڈ لینڈ ایلی ویشن سیٹلائٹ ٹو ‘‘ رواںماہ خلا میں بھیج رہا ہے ۔یہ سیٹلائٹ ہر موسم میں برف کی کمی بیشی کو نوٹ کرے گا اور زمین پر بر فیلے ذخائر میں کسی کمی یا اضافے کو ایک انچ کے پانچویں حصے تک محسوس کر سکے گا ۔ماہرین کے مطابق اس سیٹلائٹ میں جدید ترین لیزر ٹیکنالوجی اور دیگر آلات بھی نصب ہیں ۔یہ سیارچہ تین برس تک زمین کی بر فیلی سطحوں اور چادروں میں تبدیلی پر گہری نظر رکھے گا ۔یہ سیٹلائٹ امریکا سے بھی بڑے رقبے پر نظر رکھے گا اور وہاں پر موجود برف کا مطالعہ بھی کرے گا ۔علاوہ ازیں قطبین پر موجود برف کی تہوں پر بھی تحقیق کی جائے گی ۔

ناسا کے اس نئے سیٹلائٹ کی تیاری میں ایک ارب ڈالر کی لاگت آئی ہے۔اس کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں نصب لیزر سے برف کے گھٹنے اور بڑھنے کی سہ جہتی تصویر بھی بنائی جا سکے گی اور 500 کلو میٹر کی بلندی سے زمین اور سمندروں پر موجود برف کو اچھی طر ح سے جانچ کر واضح تصویر اور ڈیٹا بھی فراہم کرے گا ۔ اس میںنصب سب سے اہم سسٹم ’ ’ایڈوانسڈ ٹوپوگرافِک لیزر آلٹی میٹر سسٹم‘‘ (اٹلس) ہے جو سبز لیزر کی شعاعیں بھی خارج کرے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں