آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ7؍ ربیع الاوّل 1440ھ 16؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اسلام آباد(فخر درانی)کلثوم نواز کو بدنام کرنے والے ان کی وفات کے بعد غلط ثابت ہوئے ہیں،کچھ سیاستدانوں ،میڈیا اینکرز نے سابق خاتون اول کی بیماری پر شک بھی کیا اور بیانات دیے،پی پی رہنما اعتزاز احسن نے سابق خاتون اول کی وفات پر شریف خاندان سے نواز شریف کی اہلیہ کی بیماری سے متعلق اپنے ماضی کے بیان پر معذرت کی۔تفصیلات کے مطابق جب کلثوم نواز بیمار ہوئیں تو ان کی صحت سے متعلق ہر طرف سے تنقید کی گئی ،اعتزاز احسن جنہوں نے اس وقت تنقید میں حصہ لیا لیکن کلثوم نواز کی وفات کے بعد شریف خاندان سے ماضی کے بیان پر معذرت کرلی جبکہ دیگر جیسا کہ حمزہ علی عباسی یا اپنے غیر ذمہ دارانہ رویہ رکھنےوالوں نے اظہار تعزیت کے پیغامات دیے ۔سیاستدانوں سے لے کر میڈیا اینکرز میں بڑے نام شامل ہیں جنہو ں نے کلثوم نواز کی بیماری پر اپنے شبہات کا اظہار کیا ۔سیاستدان جیسے کہ وزیر اعظم عمران خان ،اعتزاز احسن ،شیخ رشید احمد ،نعیم الحق ،قمر زمان کائرہ ،اور کئی ایسے تھے جنہو ںنے بیگم کلثوم نواز کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے پاکستانی عوام سے ہمدردی لینے کیلئے ایک سیاسی ڈھونگ کہا ۔کچھ میڈیا اینکرز بھی ایسے تھے جو ان کی صحت سے متعلق سازش بتارہے تھے ۔وزیرا عظم عمران خان نے عام انتخابات 2018 سے پہلے الزام لگایاتھا کہ نواز شریف عوام کو

جذباتی طور پر بلیک میل کرنے کیلئے اپنے اہلیہ بیگم کلثوم نواز کی بیماری کو پیش کررہے ہیں ۔تحریک انصاف کے سربراہ نے یہ بیان 5 جولائی 2018 کو دیاتھا کہ جب تحریک انصاف میں ظفر علی شاہ کو خوش آمدید کہا ،عمران خان نے اسی موقع پر کہا تھا کہ ہماری تمام تر ہمدردیاں کلثوم نواز کے ساتھ ہیں ،میری والدہ کو بھی کینسر تھا اور میں انہیں علاج کیلئے بیرون ملک لے گیا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسے عوام کو بلیک میل کرنے کیلئے استعمال کرلیا جائے ۔آپ کو یاد نہیں کہ کلثوم نواز جب لندن میں زیر علاج ہیں اور آپ (نوازشریف )ملک بھر میں ریلیاں نکال رہے ہیں ۔نوازشریف تم یہ (ایون فیلڈ ریفرنس )کا فیصلہ اخبار میں پڑھو گے او ر اڈیالہ جیل تمہارا انتظار کرے گی ۔پی پی کے سینئر رہنما اعتزاز احسن بھی ان سیاستدانوں میں شامل تھے کہ جنہوں نے بیگم کلثوم نواز کی بیماری پر شک کیا،بعدازاں پی پی نے انہیں صدارتی امیدوار کیلئے نامزد کردیا انہیں بیگم کلثوم نوازسے متعلق اپنے بیان پر شریف خاندان سے معذرت کا موقع ملا لیکن انہوں نے انکار کردیاتاہم جب سابق خاتون اول انتقال کرگئیں تو اس کے بعد انہو ں نے شریف خاندان سے معذرت کرلی ۔کئی مقامات پر اعتزاز احسن نے کہا کہ ’’ہارلے کلینک جہاں بیگم کلثوم نوازاپنے کینسر کے علاج کیلئے داخل ہیں وہ دراصل شریف خاندان کی ملکیت ہے ۔ہارلے اسٹریٹ کلینک ایک اسپتال نہیں بلیک ایک کلینک ہی ہے جہاں مریضوں کا علاج ہوتا ہے ۔انہوں نے یہ تک بھی کہہ دیا کہ نوازشریف اپنی اہلیہ کے ساتھ کلینک میں اس لیے رکے ہیں تاکہ قید سے دور رہیں ۔کلثوم نواز کے انتقال سے ایک ہفتہ پہلے سینئر پی پی رہنما سے ایک ٹی وی پروگرام میں پوچھا گیا کہ کیا وہ شریف خاندان سے بیگم کلثوم نوازکی بیماری سے دیے گئے بیان پر معذرت کریں گے ،اعتزاز احسن نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کام کررہی ہے صبر کرو اور دیکھو۔وزیر ریلوے شیخ رشید نے عام انتخابات 2018 سے پہلے بیان میں کہا کہ بیگم کلثوم نواز کی بیماری شریف خاندان کا سیاسی ڈھونگ ہے ۔شیخ رشید نے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا تھا کہ پچھلے دو سال سے میں یہ سن رہا ہوں کہ کلثوم نواز وینٹی لیٹر پر ہیں ہمیں کچھ پتہ نہیں کہ کسی اسپتال میں نوازشریف کی بائی پاس سرجری ہوئی ،میں نواز شریف سے کہوں گا کہ بیگم کلثوم کی بیماری پر سیاست نہ کریں ۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور نعیم الحق نے میڈیا پرسنز کو بیگم کلثوم کی بیماری سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے اسے ایک فسانہ قرار دیا ،انہوں نے کہا کہ ان کے بھی لندن میں ذرائع ہیں اور جانتے ہیں کہ بیگم کلثوم نواز کی بیماری ایک ڈرامہ ہے ۔پیپلز پارٹی کے ایک اور سینئر رہنما قمر زمان کائرہ نے بیگم کلثوم نواز سے متعلق اعتزاز احسن کے بیان کا دفاع کرتے ہوئے اسے ایک سیاسی بیان کہا ،انہوں نے کہا کہ اعتزاز احسن کو شریف خاندان سے اپنے بیان پر معذرت کرنے کی ضرورت نہیں ہے ،انہوں نے کہا کہ کیا کبھی ہم نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو سے متعلق جو انہوں نے کیا اس پر (ن)لیگ سے معذرت کا کہا ہے ۔تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی سے دیگر سیاستدانوں نے بھی بیگم کلثوم نوازکی بیماری کو عوام سے ہمدردی لینا قرار دیاان میں فیصل واوڈا،نفیسہ شاہ ،عامر لیاقت ،شوکت بسرا ،علی زیدی ،یاسمین راشد اور کئی دیگر شامل ہیں ۔وہ صحافی جنہوں نے بیگم کلثوم نواز کی بیماری کو سیاسی ڈھونگ کہا اور اس پر شک کیا ان میں ڈاکٹر شاہد مسعود ،مبشر لقمان ،حمزہ علی عباسی ،عامر لیاقت حسین ،معید پیرزادہ ،ہارون رشید ،ایاز خان ،نادر مرزا چودھری غلام حسین ،صابر شاکر ،عارف حمید بھٹی اور کئی دیگر شامل ہیں ۔بیگم کلثوم نواز کے انتقال پر کچھ میڈیا پرسنز اپنے جذبات کو نہ روک سکے ،وزیر اعظم کے قریبی ساتھی حمزہ علی عباسی نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کلثوم نواز کا نام لے تعزیت کی اور ان کے بلند درجات کیلئے دعا کی اور کہا کہ نواز اور مریم کو کلثوم صاحبہ کے انتقال پر رہا کرنا چاہیے۔حمزہ علی عباسی نے دوبارہ ٹوئٹ کیا اور کہا کہ کیسے کچھ لوگوں نے کلثوم بی بی کے انتقال نوازاور مریم کیلئے ہمدردی لے رہے ہیں ،میری اللہ سے دعا ہے کہ کلثوم بی بی کے دراجات بلند ہوں ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں