آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اسلام آباد (نمائندہ جنگ ) تمباکو اور سگریٹ پر ٹیکسوں میں کمی کی وجوہات جاننےکیلئے قائم سینٹ خصوصی کمیٹی نےایف بی آر سے سگریٹ اور تمباکو شعبہ پر ٹیکسوں کا میکنزم اور تیسرے سلیب سےمتعلق 15روز میں رپورٹ طلب کرلی ، بتایا گیا کہ ملک میں سگریٹ کا 40 فیصد کاروبارغیر قانونی ہے،،چیئرمین نے کہاکہ ایف بی آر نے تھرڈ ٹیئر متعارف کرایا ٹیکس وصولی میں کمی انکی نا اہلی ہے ، ملک کو اربوں روپے نقصان میں ملوث عناصر سامنے لائینگے،کمیٹی نے پاکستان تمباکو بورڈ میں وزارت صحت کے نمائندہ کو شامل کرنیکی سفارش کی جبکہ آزاد کشمیر سے آنیوالے راستوں پر کسٹم چیکنگ سخت کرنیکی بھی ہدایت کی ، کمیٹی کا اجلاس کنوینر کمیٹی سینیٹر کلثوم پروین کی زیر صدارت ہوا جس میں ایف بی آر ، پاکستان ٹوبیکو بورڈ اور ملٹی نیشنل کمپنیوں سے ٹیکس میں کمی کی تفصیلی بریفنگ لی گئی، ایف بی آر حکام نے کہا 2016-17میں تمباکو شعبہ سے ٹیکس 111 سے کم ہو کر 74 ارب روپے وصول ہوئے جس کی بنیادی وجہ نان کسٹم پیڈ سگریٹ کی بھر مار ہے ، آزاد کشمیر، فاٹا اور دیگر علاقوں میں نان کسٹم پیڈ سگریٹس تیار ہورہے ہیں ،روک تھام کیلئے اقدامات شروع کر دیئے گئے ہیں، 2 ملٹی نیشنل کمپنیوں کا مارکیٹ شیئر65 فیصد ہے جن سے حاصل ہونیوالے ٹیکس کا98 فیصدحصہ ہے، بقیہ چھوٹے برانڈ کی کمپنیوں کا

مارکیٹ شیئر 35 فیصد اور کل ٹیکس میں2 فیصد حصہ ہے، اجلاس میں انکشاف کیا گیا ملک میں40 فیصد سگریٹ کی غیر قانونی تجارت ہے جس کی وجہ سے ٹیکس میں کمی ہوئی جس پر کنوینر نے کہا آمدن کسی بھی ملک میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے یک دم اربوں روپے ٹیکس کم ہوجائے تو ملک کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، یہ سب ایف بی آر حکام کی ملی بھگت سے ہوا ہے ملک کو اربوں روپے نقصان میں ملوث عناصر کو سامنے لایا جائیگا ، ایف بی آر نے تھرڈ ٹیئر متعارف کرایا پھر بھی ٹیکس وصولی میں کمی انکی نا اہلی ہے ،سینیٹر اعظم سواتی نے کہا تھرڈ ٹیئرسے سمگلنگ کو فروغ ملا ، حکومتی آمدن میں کمی ہوئی،تھرڈ ٹیئر کے حوالے سے نیت اچھی تھی مگر نتائج منفی حاصل ہوئے،کمیٹی کو بتایا گیا پاکستان میں تمباکو نوشی کی وجہ سے روزانہ 300 افراد ہلاک اور 5 ہزار ہسپتال میں داخل ہوتے ہیں ، کمیٹی کو پاکستان ٹوبیکو بورڈ بارے تفصیلی آگاہ کیا گیا اور بتایا گیاکل منظور شدہ آسامیوں کی تعداد 305 ہیں جن میں سے 33 خالی ہیں،سائنسدانوں کی منظور آسامیوں کی تعداد 56 جن میں 19 خالی ہیں، ٹوبیکو بورڈ کا ایک بورڈ آف ڈائریکٹر اور16 ممبران ہیں جن کی نامزدگی2 سال کیلئے ہوتی ہے ، کمیٹی کو بتایا گیا ملک میں 26 سگریٹ ساز کمپنیاں ہیں جن میں آزاد کشمیر کی کمپنیاں بھی شامل ہیں اور گرین لیف تھریشنگ یونٹس کی10 کمپنیاں ہیں،گرین لیف تھریشنگ یونٹس کی صحیح مانیٹرنگ کی جائے تو غیر قانونی سمگلنگ کو کنڑول کیا جا سکتا ہے،کمیٹی کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے نمائندوں نے ٹیکس وصولی میں کمی اور درپیش مسائل بارے تفصیلی آگاہ کیا کمیٹی نے بہتری کیلئے ان سے تجاویز طلب کر لیں ، کمیٹی کو این جی اوز حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ملک میں سگریٹ سستا ہونے کی وجہ سے 5 سے15سال کی عمر کے1200 بچے روزانہ تمباکو نوشی کا شکار ہو رہے ہیں، 2017-18 میں83 ارب سگریٹ تیار کئے گئے، سٹیٹ بنک کی رپورٹ کے مطابق 2016 میں غیر قانونی سگریٹ کی سمگلنگ صرف40 فیصدتھی جبکہ آزاد سروے کے مطابق9 فیصد ہے،کمیٹی اجلاس میں سابق خاتون اول بیگم کلثوم نواز کے انتقال پر دعائے مغفرت کی گئی ،کمیٹی نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ غیر قانونی سمگلنگ کی روک تھام کیلئے چیک پوسٹ قائم کی جائے،کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز محمد اعظم خان سواتی ، دلاور خان اور ڈاکٹر اشوک کمار کے علاوہ سیکرٹری صحت ، چیئرمین ٹوبیکو بورڈ ، چیئرمین ایف بی آر، سیکرٹری بجٹ ایف بی آر، کمشنر پشاور ایف بی آراور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں