آپ آف لائن ہیں
بدھ15؍ محرم الحرام1440ھ 26؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کوہاٹ میں درہ آدم خیل کے علاقے اخوروال میں کوئلے کی کان میں گیس بھر جانے سے اچانک زور دار دھماکا ہوگیا جس کی زد میں آکر 9کان کن جاں بحق ہوگئے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی بہت بڑی تعداد میں مقامی لوگ انتظامیہ، پاک فوج اور ریسکیو اہلکار پہنچ گئے جنہوں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مزدوروں کی لاشیں نکالیں۔ ڈپٹی کمشنر کوہاٹ خالد الیاس کے مطابق فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کان کنوں کی حفاظت کے اقدامات کرتی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر چیکنگ کی جاتی ہے۔ تاہم کان مالکان کبھی کبھی قواعد و ضوابط کا خیال نہیں رکھتے۔ کوہاٹ میں ہونے والا مذکورہ واقعہ انتہائی افسوس ناک ہے کہ جس میں اپنے اہل خانہ کیلئے رزق تلاش کرنے میں مشغول 9افراد خود رزق خاک بن گئے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ یہاں مزدور کا استحصال معمول بن چکا ہے، ٹریڈ یونینز کو ابھرنے اور فرغ پانے کا موقع نہ دیا گیا۔ مفاد یافتہ طبقے نے مزدور کے حق میں قانون سازی تک بطریق احسن نہ ہونے دی۔ کوہاٹ ایسے واقعات پاکستان کے مختلف علاقوں میں ہوتے رہتے ہیں لیکن اس حوالے سے کبھی کوئی خاطر خواہ اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے اگرچہ کان کنوں کو بین الاقوامی معیار کی سہولیات دینا لازم ہے، جن میں گیس ماسک اور اسی نوع کے دیگر آلات شامل ہیں کہ خدانخواستہ کسی حادثے کی صورت میں کان کن جو زیر زمین

ہوتے ہیں امداد پہنچنے تک زندہ رہ سکیں لیکن پاکستان میں باقاعدہ چیکنگ کی جائے تو شاید ہی کہیں ایسے آلات کان کنوں کو فراہم کئے جاتے ہوں کہ کان کے مالک کو مزدور کی زندگی سے زیادہ اپنے منافع سے غرض ہوتی ہے۔ کان کنوں کے ساتھ یہ سلوک عرصہ دراز سے جاری ہے۔ ضروری ہے کہ کوہاٹ میں ہونے والے سانحے کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں، اسباب معلوم کئے جائیں۔ بعدازاں ان حقائق کے پیش نظر ضروری اقدامات کئے جائیں، بین الاقوامی معیار ی سہولیات مزدوروں کو فراہم نہ کرنے والے کان مالکان کے لائسنس منسوخ کئے جائیں ورنہ ہمیں ایسی المناک خبریں سننے کو ملتی رہیں گی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں