آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ4؍ربیع الثانی 1440ھ 12؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستانی نژاداور انگلش آل راونڈر معین علی نے کہا ہے کہ 2015 ء میں ایشز سیریز کے دوران ایک آسٹریلوی کھلاڑی انہیں ’اسامہ‘ کہہ کر پکارا تھا ۔

آل رائونڈر نے یہ سنسنی خیز انکشاف اپنی سوانح حیات میں کیا، جس میںانہوں نے آسٹریلوی کھلاڑیوں پر تعصبانہ رویے کا الزام عائد کیا۔

انہوں نے بتایا کہ 2015 ءمیں کارڈف ٹیسٹ کے دوران جب وہ آسٹریلیا کے خلاف کھیلنے کے لئے میدان میں اترے تو انہیں ایک کھلاڑی نے اسامہ کہہ کر پکارا تاہم انہوں نے کھلاڑی کا نام نہیں بتایا۔

کارڈف ٹیسٹ میں معین علی نے میچ وننگ پرفارمنس دی تھی ،جس میں انہوں نے77رنز اسکور کرنے کے ساتھ 5وکٹ بھی حاصل کئے تھے اور آسٹریلیا کو انگلینڈ کے ہاتھوں 169 رنز سے شکست ہوئی تھی۔

آل رائونـڈر کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا کے خلاف یہ میری پہلی میچ وننگ پرفارمنس تھی لیکن اس میچ میں ایک کھلاڑی کی جانب سے کسے جانے والے اس جملے کو جب میں نے سنا تو مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا اور سخت دھچکا لگا جبکہ وہ کھلاڑی کہہ رہا تھا کہ اس اسامہ کو قابو کرنا ہے۔

معین علی نے مزید بتایا کہ یہ سن کر میرا چہرہ لال ہوگیا کیوں کہ کرکٹ کے میدان میں پہلی بارمیں اس قدر غصے میں دکھائی دیا تھا اور یہ جملہ میری برداشت سے باہر تھا۔

دوسری جانب کرکٹ آسٹریلیا نے معین علی کے الزامات پر تحقیقات کا اعلان کردیا ہے۔

آل رائونڈر کے الزام پر آئی سی سی ترجمان کا کہنا تھا کہ ان الزامات سے کوئی تعلق نہیں اور ہر ملک کی اپنی نسلی تعصب کی پالیسی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں