آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ4؍ربیع الثانی 1440ھ 12؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بزرگوں کی مثال ایسی ہے جیسے کسی پتے اور ٹہنی کی، جس طرح ایک ٹہنی پتوں کو ہرا بھرا رکھنے کا ذریعہ ہے بالکل اسی طرح بزرگ بھی بچوں کی تربیت اور گھر بھر کے سکون کےضامن ہیں۔ بڑھاپا ایک ایسا فطری عمل، جس سے ہر کسی کو ایک نہ ایک دن گزرنا پڑتا ہے،اسی لیے آج اپنے بزرگوں کی قدر، عزت اور تکریم کریں تاکہ کل آپ کی کیجائے۔

یکم اکتوبر دنیا بھر میں’’ بزرگوں کے عالمی دن‘‘کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے، جو کہ پہلی مرتبہ 1991ء میں منایا گیا۔ اس دن کو منانے کافیصلہ ا قوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 14دسمبر1990ء کو ایک قرار داد کی منظور ی کے ذریعے کیا۔ اس میںممبر ممالک نے یہ طے کیا کہ ہر سال یکم اکتوبر کو بزرگ شہریوں کا عالمی دن منایا جائے گا۔ بنیادی طور پر اس دن کو منانے کا مقصد بزرگ افراد کی ضروریات، مسائل اور تکالیف کے بارے میں معاشرے کو آگاہی فراہم کرنا اور لوگوں کی توجہ بزرگ افراد کے حقوق کی طرف دلواناہے۔ ان مقاصد کے حصول کے لیےدنیا بھر کے ممالک میں مختلف تقریبات، سیمینارز اور ورکشاپس کا انعقاد کیا جاتا ہےتاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ معاشرے کے ضعیف افراد کی دیکھ بھال اور ان کے حقوق سےمتعلق آگاہی حاصل کرسکیں۔ اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ عزت اور تکریم کے لیے دنوں کی قید نہیں ہونی چاہیے لیکن مصروفیات اور جدید دورکے سبب جہاں بزرگوں کواولڈ ایج ہومز یا دارالامان چھوڑ آنے کا رجحان تیزی سے نمو پارہا ہو، وہاں اس قسم کےدن کا انعقاد ایک اچھا قدم ہے۔ بزرگوں کی محبت اور احترام جہاں دنوں سے مشروط نہیں، وہیں بزرگوں کا وجود بھی ہر گز اس لیے نہیں کہ انہیں ترقی کے عمل میں پیچھے رہ جانے کے باعث تنہا چھوڑ دیا جائے۔ ان کے مسائل حل کرنے کے بجائے انھیں کسی اولڈ ایج ہوم یا پھر کسی دارالامان کی زینت بنادیا جائے۔ والدین یا بزرگوں کے لیےزندگی کی گاڑی ایک خاص عمر کے بعد توجہ کی دگنی مستحق ہوجاتی ہے اورمناسب توجہ میسر نہ آئے توانھیںصحت، غذا، رہائش، تفریح اور آمدنی کے مسئلے درپیش آنے لگتے ہیں۔ اس لیے ان مسائل سے گریز کے بجائے انھیں حل کرنے کی کوشش کی جائے۔    

٭محبت وعزت: آجکل کچھ بچے والدین یا گھر کے بزرگ افراد کو بات بات پر ڈانٹنے، جھڑکنے اور بلند آواز سے بات کرنے میں ذرہ برابر بھی شرم محسوس نہیں کرتے۔ اگر کوئی بات ان کی سمجھ نہ آئےاور وہ دو سے تین مرتبہ پوچھ لیں تو بچوںکی بھنویں تن جاتی ہیں مگر اس وقت ہم یہ کیوںنہیں سوچتے کہ بچپن میں جب ہم کچھ بولنے اور سمجھنے سے عاری تھے تو یہی بزرگ والدین یا گھر کے بڑے ہمارے لفظوں کی درستگی میں پیش پیش تھے۔ جب بچہ بار بار انھیں ہکلاتے لفظوں کے ساتھ کچھ سمجھانے کی کوشش کرتا تھا تو ان کی خوشی دیکھنے کے لائق ہوتی تھی اور وہ یہ بات خوشی خوشی ہر ایک کو بتایا کرتے تھے۔ بزرگوں کی عزت کی اس سے بڑی دلیل اور کیا ہو گی کہ خود اللہ تعالیٰ، قران مجید میں حکم دیتاہے کہ جب تمہارے ماں باپ بوڑھے ہو جائیں تو انہیں اف تک نہ کہو۔

٭وقت دینا : اپنی مصروفیات کے سبب ہم اپنے بزرگوں کو وقت نہیں دے پاتے، چاہے وہ ہمارے ماں باپ ہوں،دادا دادی یا پھر نانا نانی، ہمیں چاہیے ان کو وقت دیں اور ان کو درپیش مسائل جانیں۔ یہی نہیں اولڈایج ہوم جاکران بزرگوں کے ساتھ بھی وقت گزاریں، جن کا کوئی پرسان حال نہیں۔ ان کو تحفےتحائف دیں اور ان کی مدد کریں تاکہ یہ لمحات ان کے لیے مسرت کا باعث بن سکیں۔

٭خوراک اور رہائش: عمر رسیدہ افراد کو بالعموم صحت، غذا اور تفریح وغیرہ جیسے مسائل درپیش ہوتے ہیں۔ یہ ایسے مسائل ہیں جن کو حل کیا جاسکتا ہے۔ بزرگ افراد کا وزن جلد کم ہونے لگتا ہے اس لیے ان کی غذا کا خاص خیال رکھا جائے۔ معمر لوگوں کی انفرادی اور مختلف طرح کی ضروریات و خواہشات ہوتی ہیں، انہیں بھی پورا کرنا چاہیے۔ اچھی خوراک کے علاوہ صحت مند تفریح بھی بزرگ افراد کے لیے بے حد ضروری ہے مثلاً ایسا کلب جس میں سب معمر لو گ اکٹھے ہوں یا کوئی ادارہ جہاں بوقت ضرورت ان کو علیحدہ رہائش مل سکے تاکہ وہ ایسے لوگوں سے دور رہ سکیں، جو ان کو محبت اور چاہت نہیں دے سکتے۔ اس کے علاوہ آپ خود بھی انھیں کسی پارک کی سیر کے لیے لے جاسکتے ہیں۔

٭آرام وسکون اور پسند وناپسند :بزرگوں کے آرام وسکون کا خاص خیال رکھا جائے، انھیں جو باتیں ناگوار گزریں وہ کرنے سے درگزر کریں اوران کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آئیں ۔ ان کی پسند کے مطابق ان سے گفتگو کریں، وہ بولنا چاہیں تو ان کی سنیں۔

٭ پینشن : عمر رسیدہ افراد کا ایک اہم مسئلہ پینشن حاصل کرناہے۔ آرام کرنے کی عمر میں پینشن کے لئے دھکے کھانے ہوں یا سرکاری اسپتال میں علاج کروانا ہو، ضعیف العمری میں یہ سب کسی امتحان سے کم نہیں۔ وقت کی ستم ظریفی ہے کہ زندگی بھر اولاد کے لئے خوشیاں سمیٹنے والے ماں باپ اکثر اولڈ ایج ہوم کی نذر ہوجاتے ہیں۔ اس حوالے سے بزرگ افراد کو جہاں تک آپ کی مدد درکار ہو، آپ کو ان کے کام ضرور آناچاہیے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں