آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 9؍صفر المظفّر 1440ھ 19؍اکتوبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی محکمہ خارجہ پاکستانی طالب علموں کے لیے کئی طرح کے ایکسچینج پروگرام کو اسپانسر کرتا ہے، جن کے تحت ہر سال تقریباً ایک ہزار طالب علم امریکا کا سفر کرتے ہیں۔ ان پروگرامز کے ذریعے ہائی اسکول کے طلباء سے لے کر ڈاکٹورل سطح تک کے طلباء کو شامل کیا جاتا ہے۔

یوتھ ایکسچینج اینڈ اسٹڈی پروگرام

امریکا میں 11ستمبر 2001ء کے حملوں کے بعد امریکی محکمہ خارجہ نے امریکا اور ان ملکوں کے لوگوں کے درمیان، جہاں مسلمانوں کی نمایاں تعداد موجود ہے، افہام وتفہیم کی راہ ہموار کرنے کے لیے مختلف پروگرام شروع کیے، جن میں سے ایک یوتھ ایکسچینج اینڈ اسٹڈی پروگرام (YES)ہے۔ اس پروگرام کے تحت ان ملکوں سے 15 سے17 سال کی عمروں کے طالب علموں کو امریکی ہائی اسکولوں میں ایک سال کی تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے، جن کی میز بانی امریکی گھرانے کرتے ہیں ا ور وہ انہیں اپنے گھر کے ایک فرد کی طرح پورے سال اپنے گھر اور اپنے دل میں جگہ دیتے ہیں۔ 

اس دوران وہ امریکی لوگوں، امریکی ثقافت اور امریکی زندگی کا قریب سے مشاہدہ کرتے ہیں اور اپنی ثقافت کے بارے میں اپنے ارد گرد کے لوگوں کو براہ راست معلومات فراہم کرتے ہیں۔ پھر ایک سال کے بعد پاکستان واپس آ کر وہ امریکی زندگی کے مختلف پہلوؤں کے متعلق پاکستان کے لوگوں کو آگاہ کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے بارے میں امریکا میں پھیلے مختلف منفی تاثرات کو دور کرنے اور پاکستان کی ایک مثبت تصویر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے وہ گویا ایک ثقافتی سفیر کا کردار ادا کرتے ہیں۔

اس پروگرام میں شامل ہونے کے لیےملک بھر کے ہائی اسکولوں کے ہزاروں طالب علم تحریری ٹیسٹ اور انٹر ویو کے مرحلے سے گزرتے ہیں، جس کے بعد ان میں سے ایک بہترین نمائندہ گروپ کا انتخاب کر کے اسے امریکی ہائی اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ یوتھ ایکسچینج پروگرام کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ دنیا کو قریب لانے کا ایک ذریعہ بن رہا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو اس قسم کے پروگراموں میں شرکت کرنے کی اجازت دیں، جوان کی زندگی میں بہت سی کامیابیوں کی وجہ بن سکتے ہیں۔

امریکا سے واپسی کے بعد یہ طالب علم بڑھتے ہوئے YESالمنائے نیٹ ورک میں شمولیت اختیار کرکے اس کی مختلف سرگرمیوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔ اس پروگرام کا انتظام امریکی محکمہ خارجہ اور بیورو آف ایجوکیشن اینڈ کلچرل افیئرز (ECA)کے زیرِ اہتمام کیا جاتا ہے۔

گلوبل انڈر گریجویٹ ایکسچینج پروگرام

گزشتہ کئی برسوں سے امریکی محکمہ خارجہ کے زیر اہتمام ہر سال دنیا بھر کی یونیورسٹیوں کے طالب علموں کو گلوبل انڈر گریجویٹ ایکسچینج پروگرام کے تحت امریکی یونیورسٹیوں میں ایک سیمسٹر کے لیے اپنی مرضی کے کسی مضمون میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ اس دوران انہیں امریکی ثقافت کا براہ راست مشاہدہ کرنے اور اپنے ملک کی ثقافت کو امریکا میں متعارف کرانے کا موقع بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ پروگرام (Global UGRAD - Pakistan)سال 2010میں امریکی محکمہ خارجہ کے بیورو آف ایجوکیشنل اینڈ کلچرل افیئرز (ECA) کے تحت شروع کیا گیا تھا۔ پاکستان میں اس پروگرام کا انتظام یونائیٹڈ اسٹیٹس ایجوکیشنل فاؤنڈیشن اِن پاکستان (USEFP)جبکہ امریکا میں انٹرنیشنل ریسرچ اینڈ ایکسچینج بورڈ (IREX) دیکھتا ہے۔

اس پروگرام کے لیے ہر سال ملک بھر سے لگ بھگ40سے50ہزار طالب علم درخواستیں دیتے ہیں اور ان میں سے تقریباً 120 سے140 کے لگ بھگ طلبہ و طالبات منتخب کیے جاتے ہیں، جو امریکا جاکر کسی بھی یونیورسٹی میں ایک سیمسٹر کے لیے اپنی پسند کا مضمون پڑھتے ہیں۔

اس پروگرام کے لیے منتخب ہونے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کسی یونیورسٹی میں اپنے چوتھے یا چھٹے سیمسٹر میں زیر تعلیم ہوں، آپ کے تعلیمی گریڈز اچھے ہو ں، آپ زائد از نصابی سرگرمیوں میں نمایاں ہوں، آپ میں قائدانہ صلاحیتیں موجود ہوں اور ان صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے آپ کو مواقع درکار ہوں، جو اس پروگرام کے تحت انہیں فراہم کیے جاتے ہیں۔

طالب علموں کے لیے لازمی ہوتا ہے کہ وہ امریکا میں ایک سیمسٹر کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد پاکستان واپس آئیں اور جس شعبے میں انہوں نے امریکا میں تعلیم حاصل کی ہے، اس میں دو سال تک اپنی خدمات انجام دیں۔

اس پروگرام کے لیے اہل طالب علموں کے لیے عمرکی حد 25سال ہے۔ اس پروگرام کے لیے دو سالہ اور چار سالہ، دونوں طرح کے بیچلرز پروگرام میں زیرتعلیم طالب علم درخواستیں دینے کے اہل ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں