آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ4؍ربیع الثانی 1440ھ 12؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سائنس داں نظام شمسی میں دن بہ دن نت نئے سیارے دریافت کررہے ہیں ۔حال ہی میں ماہرین فلکیات نے نظام شمسی میں ایک نیا بونا سیارہ در یافت کیا ہے ۔جسے ٹی جی تھری ایٹ سیون 2015 کانام دیا گیا ہے ۔امریکا میں واقع کارنیگی انسٹی ٹیوٹ فار سائنس کے اسکاٹ شیپر ڈ ،ناردرن ایریزو نایونیورسٹی کے شاڈ ٹرو جیلو اور جامعہ ہوائی کے ڈیوڈ تھولن نے مشترکہ طور پر اس بونے سیارے کو دریافت کیا ہے ۔ماہرین کے مطابق اس سیارے کو تیکنیکی نام کے علاوہ ’’دی گلوبن ‘‘ کا نام بھی دیا گیا ہے،کیوں کہ اس کا قطر صرف 300 کلو میٹر ہے ۔ کچھ ماہرینِ فلکیات نے پیش گوئی کی تھی کہ پلینٹ ایکس نامی ایک سیارہ ہمارے نظامِ شمسی کے بعید ترین حصے میں موجود ہے۔

زمین سے سورج کا اوسط فاصلہ 9 کروڑ 30 لاکھ میل ہے جسے ایک فلکیاتی اکائی (ایسٹرو نامیکل یونٹ) کہا جاتا ہے۔ پلوٹو کا زمین سے 39.5 ایسٹرو نامیکل یونٹ (اے یو) ہے لیکن یہ سیارہ ہم سے بہت دور 80 اے یو پر موجود ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سورج یا اپنے اپنے ستارے کے گرد گھومنے والے سیارے گول دائرے کی بجائے بیضوی انداز میں چکر کاٹتے ہیں۔

اس طرح وہ کبھی اپنے سورج سے قریب اور کبھی دور ہوتے رہتے ہیں۔ اسی بنا پر نئے بونے سیارے کا مدار بہت عجیب و غریب ہے۔ یہ گھومتے ہوئے کبھی سورج کے اتنے قریب ہوجاتا ہے کہ 65 اے یو تک پہنچ جاتا ہے لیکن جب پرے ہوتا ہے تو بہت دور یعنی 2300 اے یو تک پہنچ جاتاہے۔ ہماری زمین سورج کے گرد ایک سال میں چکر مکمل کرلیتی ہے لیکن گوبلن کو سورج کے گرد ایک چکر کاٹنے میں 40 ہزار سال لگتے ہیں۔ فلکیات دانوں کے مطابق گوبلن کی کمیت زمین سے دس گنا زائد ہے۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں