آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 11؍صفر المظفّر 1440ھ 21؍اکتوبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے منرل واٹر کیس کی سماعت کےدوران ریمارکس دیے ہیں کہ منرل واٹرکمپنیوں نے لاہور اور شیخوپورہ کو سُکھا دیا،عوام سے درخواست ہے کہ بوتلوں کا پانی پینا بند کر دیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان میں منرل واٹر بیچنےکے معاملے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کا مزیدکہنا ہے کہ لاہور میں زیر زمین پانی چار سو فٹ تک پہنچ گیا، نلکوں میں پانی آنا بند ہوگیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ منرل واٹر کمپنیاں ایک روپے کا پانی لے کر 52روپے میں بیچتی ہیں، پانی بیچنے والی کوئی کمپنی پیسے نہیں دے رہی، ان کمپنیوں کی اکثریت غیرمعیاری پانی بیچ رہی ہے۔

چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ جنہوں نے ہماری زمینیں بنجر کیں اور پیسے بھی نہیں دیتے ان کے پانی کا استعمال بند کریں۔

منرل واٹر کمپنی کے وکیل اعتزاز احسن نے عدالت کو بتایا کہ زیرزمین پانی نکالنے، صاف کرنے اور اس کی مارکیٹنگ کرنے پر اخراجات ہوتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ایسا کرتے ہیں کہ منرل واٹر کمپنی کی ٹربائنیں بند کرا دیتے ہیں،یہ کمپنیاں کام کرنا چاہتی ہیں تو ایک روپیہ فی لیٹر حکومت کو دیں۔

وکیل اعتزاز احسن نے انہیں جواب دیا کہ ہم 50پیسے فی لیٹر دے سکتے ہیں ۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ عوام سے درخواست ہے کہ بوتلوں کا پانی پینا بند کر دیں، جنہوں نے ہماری زمینیں بنجر کیں اور پیسے بھی نہیں دیتے ان کے پانی کا استعمال بند کریں۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ سروس اسٹیشنز پر میٹھے پانی سے گاڑیاں دھوئی جا رہی ہیں ۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو جواب دیا کہ ایک کار پر چار سو لیٹر پانی خرچ ہوتا ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ سیمنٹ انڈسٹری کے لیے 5ہزار فی کیوسک قیمت نافذ ہو گئی ہے۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ دیہات میں لوگ آج بھی سادہ پانی پیتے ہیں، یہ نخرے شہریوں کے ہیں، میں عوام سے کہتا ہوں نلکوں کا پانی پیئیں۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں میں نخرے آ گئے ہیں آدھی بوتل پانی کی چھوڑ دیتے ہیں،بند کردیں اس انڈسٹری کو جو ملک کو بنجر بنا رہی ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ یہ لوگ اربوں روپے کما رہے ہیں کمیونٹی کو واپس کیوں نہیں کرتے؟

اعتزاز احسن نےعدالت میں پانی کی صفائی سے متعلق رپورٹ پڑھی تو چیف جسٹس پاکستان نے ان سے استفسار کیا کہ آپ انڈس ساگا تو نہیں پڑھ رہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں