آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل6؍ صفر المظفّر 1440ھ16؍اکتوبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزارت خزانہ کو اہم ٹاسک مل گیا۔

وزیراعظم نے کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزارت خزانہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ پتہ لگائے کہ 10سال میں ملکی قرضہ 6 ہزار ارب سے 30 ہزار ارب روپے تک کیسے پہنچ گیا، یہ پیسہ کہاں گیا، کن پروجیکٹس میں استعمال ہوا ۔

عمران خان نے کہاکہ ہمیں پتہ تو ہو کہ اس ملک پر جو قرضہ چڑھایا گیا ہے وہ گیا کدھر ہے ،ان قرضوں کی قسطیں دینے کے لیے ہمیں قرضہ لینا پڑ رہا ہے، ان قرضوں سے کون سے ڈیم بنے، کون سے بڑے پروجیکٹ بنے ۔

انہوںں نے یہ بھی کہا کہ اورنج لائن ٹرین کو مزید قرضے کی ضرورت ہے، ضروری ہے کہ اس بات کا تجزیہ کیا جائے کہ سارا قرضہ کہاں استعمال ہوا ۔

ذرائع کے مطابق آج کے کابینہ کے اجلاس کے ایجنڈے میں ای سی ایل میں نام شامل کرنے یا نکالنے کی پالیسی پر وزارت داخلہ کی بریفنگ بھی شامل ہے جبکہ ای سی ایل میں نام شامل کرنے اور نکالنے کی لسٹ پر بھی غور ہوگا۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ چیئرمین پرائیوٹائزیشن،چیئرمین پاکستان بیت المال اور چیئرمین پی آئی اے کے تقرر کی منظوری دے گی، جبکہ چیئرمین متروکہ املاک بورڈ کی تقرری کے رولز میں ترامیم منظوری کے لیےپیش کی جائیں گی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں