آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 12؍صفر المظفّر 1440ھ 22؍اکتوبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وکلاء کے سب انسپکٹرپر تشدد کے ازخود نوٹس کی سماعت کے موقع پر چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ استعفیٰ دے دوں گا مگر نا انصافی نہیں کروں گا۔

سپریم کورٹ میں وکلاء کی جانب سے سب انسپکٹر پر تشدد کے ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی جس کے دوران چیف جسٹس نے وکلاء کے خلاف مقدمے سے انسداد دہشت گردی کی دفعات معطل کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔

چیف جسٹس نے مقدمے میں نامزد وکلاء کی گرفتاریوں سے متعلق حکم امتناع کی استدعا بھی مسترد کر دی اور وکلاء کے سب انسپکٹر پر تشدد کی ویڈیو آئندہ سماعت پر طلب کر لی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آئندہ سماعت پر ویڈیو عدالت میں دیکھ کر  ذمے داروں کا تعین کریں گے۔

لاہور بار کے صدر اور سیکریٹری سمیت وکلاء کی کثیر تعداد عدالت میں موجود تھی۔

لاہور بار کے سیکریٹری نے چیف جسٹس سے کہا کہ آپ 7 اے ٹی اے معطل نہیں کرتے تو ہم سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دیں گے۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ لوگ دھرنا دیں تو میں باہر آتا ہوں دیکھتا ہوں۔

وکلاء کی جانب سے کمرۂ عدالت کے اندر نعرے لگائے گئے۔

چیف جسٹس نے حکم دیا کہ شیم شیم کے نعرے لگانے والے آئندہ میری عدالت میں مت آئیں۔

لاہور بار کے صدر نے انہیں جواب دیا کہ یہ شیم شیم کے نعرے پولیس کے لیے ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ میں اس ادارے کا باپ ہوں، گالیاں بھی کھانی پڑیں تو کھاؤں گا۔

وکلاء نے عدالت سے باہر آکر احتجاج کیا اور پولیس کے خلاف نعرے لگائے۔

وکلا کے احتجاج کے باعث چیف جسٹس باہر آگئے،جہاں انہوں نے وکلاء کی بات سنی، چیف جسٹس نے کمرۂ عدالت سے نکل کر سائلین کی درخواستیں بھی وصول کیں۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار جی پی او چوک میں کچھ دیر قیام کرنے کے بعد واپس چلے گئے۔

وکلاء کی جانب سے پولیس کے خلاف نعرے بازی جاری رہی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں