آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 12؍صفر المظفّر 1440ھ 22؍اکتوبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ضمنی انتخابات کےلئے پولنگ کا عمل بس چند گھنٹے کی دوری پر ہے ،اتوار 14اکتوبر کو ملک کے 35 قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں الیکشن ہورہے ہیں ، جن میں کراچی کے این اے 243 اور پی ایس 87 بھی شامل ہیں ۔

ضمنی الیکشن کے روزپولنگ کا عمل صبح 8 بجے سے شام 5 بجے بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گا ، پولنگ اسٹیشنز کے اندر اور باہر فوج تعینات ہوگی جب کہ حساس پولنگ اسٹیشنز کی سی سی ٹی وی کیمروں سے نگرانی کی جائے گا۔

25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد کراچی میں 3 نشستیں  خالی ہوئیں ،جن میں سے ایک وزیراعظم عمران خان کی چھوڑی ہوئی این اے 243 ہے ،دوسری قومی اسمبلی کی نشست این اے 247 ہے ،جو ڈاکٹر عارف علوی کے صدر مملکت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد خالی ہوئی ۔

عام انتخابات میں پی ایس 111 سے کامیاب ہونے والے عمران اسماعیل گورنر سندھ بن چکے ہیں جبکہ پی ایس 87 پر پولنگ کا عمل تحریک لبیک کے امیدوار شریف احمد کے انتقال کے بعد ملتوی کردیا گیا تھا ۔

تاہم 14 اکتوبر کو ہونے والے ضمنی الیکشن میں این اے 243 اور پی ایس 87 پر ووٹ ڈالے جائیں گے جبکہ این اے 247 اور پی ایس 111 کے ضمنی الیکشن کےلئے 21اکتوبر کی تاریخ مقرر کی گئی ہے ۔

این اے 243 کے ضمنی الیکشن میں 22 امیدوار میدان میں ہیں ،لیکن اصل مقابلہ ایم کیو ایم کے عامر ولی الدین چشتی اور تحریک انصاف کے عالمگیر خان کے درمیان متوقع ہے ۔

این اے 243 کے لیے 216 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں جبکہ یہاں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 4 لاکھ 2 ہزار 731 ہے، یہاں مرد ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 11 ہزار 510 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 91 ہزار 221 ہے۔

پی ایس 87 میں ٹی ایل پی کے امیدوار شریف احمد خان کے ٹریفک حادثے میں انتقال کرجانے کے باعث حلقے میں انتخاب ملتوی ہوگیا تھا۔

ملیر کے علاقوں پر مشتمل اس حلقے سے پی ٹی آئی کے قادر بخش خان گبول، مسلم لیگ نون کے عبدالخلیل بروہی، ٹی ایل پی کے قربان علی، پیپلز پارٹی کے محمد ساجد، پی ایس پی کے محمد سلیم، ایم کیو ایم پاکستان کی خالدہ اطیب، عوامی نیشنل پارٹی کی صائقہ نور اور ایم ایم اے کے حمد اللہ سمیت 26امیدوار میدان میں اترے ہیں۔

یہاں 124 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں، حلقے میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 46 ہزار 852 ہے، جن میں سے مرد ووٹرز کی تعداد 83 ہزار 992 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 62 ہزار 860 ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں