• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آمریت میں معاشی اشاریے سول دورسے بہت بہتر رہے، فواد چوہدری

کراچی(جنگ نیوز)وزیراطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے جیو نیوز کے پروگرام ”جرگہ“ میں میزبان سلیم صافی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری حکومت سے لوگوں کو امیدیں ہیں، مہنگائی بڑھنے کی ذمہ داری ہماری حکومت نہیں ہے، پچھلی دو حکومتوں نے پاکستان کی معیشت کے ساتھ کھلواڑ کیا ،ن لیگ کی حکومت نواز شریف، مریم نواز اور اسحاق ڈار پر مشتمل تھی، پی ٹی آئی کی حکومت ان کی طرح دو تین لوگوں کی نہیں مشترکہ حکومت ہے،فوجی آمروں کے دور میں معاشی اشاریے سول حکومتوں سے بہت بہتر رہے ،حکمران سول ہوں یا فوجی سب نے امریکا کی تابعداری کی، امریکا کی تابعداری کی بنیاد لیاقت علی خان نے ہی رکھ دی تھی، ن لیگ کی حکومت نے روپے کی قدر نیچے رکھنے کیلئے اربوں ڈالر ضائع کیے، پاکستانی میڈیا کو ریاست کے مفادات پر احتیاط کرنی چاہئے، پاکستان سی پیک کو اقتصادی منصوبہ مغربی میڈیا اسٹریٹجک منصوبہ سمجھتا ہے، جے سی سی میں پاکستان اور چین کے ساتھ سعودی عرب نہیں بیٹھے گا،سی پیک منصوبے جاری رہیں گے ان میں توسیع کررہے ہیں، نظرثانی کا مطلب یہ نہیں کہ پچھلے منصوبے بند کررہے ہیں، اسد عمر ابھی پہلے گیئر میں آئے ہیں، پارلیمنٹ اقتصادی بحران کے ذمہ داروں کے تعین کیلئے کمیٹی بنائے، پچھلی حکومتیں چوروں اور ڈاکوؤں کی تھیں آئندہ چور اور ڈاکو کے بجائے راہزن کہہ دیا کروں گا، آئی جی پنجاب کو سانحہ ماڈل ٹاؤن کی آزاد تحقیقات کیلئے اقدامات کرنے کو کہا تھا، الیکشن کمیشن کا آئی جی پنجاب کو ہٹانے کا نوٹیفکیشن معطل کرنا غلط تھا، ڈی پی او پاکپتن کے معاملہ میں پنجاب حکومت نے اپنا کیس صحیح طرح پیش نہیں کیا۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ مہنگائی بڑھنے کی ذمہ داری ہماری حکومت نہیں ہے، ہمیں تو ابھی صرف چالیس دن ہوئے ہیں، پچھلی دو حکومتوں نے پاکستان کی معیشت کے ساتھ کھلواڑ کیا ، انہوں نے کہا کہ فوجی آمروں کے دور میں معاشی اشاریے سول حکومتوں سے بہت بہتر رہے ہیں،ایوب خان اور پرویز مشرف کی معاشی کامیابیوں سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے، پرویز مشرف کے دور میں پاکستان 6.4 فیصد ترقی کررہا تھا، حکمران سول ہوں یا فوجی سب نے امریکا کی تابعداری کی، امریکا کی تابعداری کی بنیاد لیاقت علی خان نے ہی رکھ دی تھی، امریکا کے ساتھ پاکستان کے اسٹریٹجک تعلقات ہیں، پرویز مشرف کی حکومت گئی تو قرضہ چھ ہزار ارب تھا، آصف زرداری کی حکومت گئی تو پندرہ ہزار ارب قرضہ تھا، نواز شریف کی حکومت گئی تو قرضہ تیس ہزار ارب تک پہنچ چکا تھا، ایوب خان کے دور میں تربیلا اور منگلا ڈیم کیلئے قرضہ لیا تو اتار دیاگیا۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ن لیگ کی حکومت نے روپے کی قدر نیچے رکھنے کیلئے اربوں ڈالر ضائع کیے، توقع ہے سعودی عرب تیل کے معاملات، ادائیگیوں کو موخر اور زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم رکھنے کیلئے اپنا کردار ادا کرے گا، اس بات کی تردید یا تصدیق نہیں کرسکتا کہ سعودی عرب زرمبادلہ کے ذخائر میں کچھ خاص رقم جمع کروائے گا، دوست ممالک سے وابستہ توقعات کافی حد تک پوری ہورہی ہیں مغربی میڈیا کو سی پیک سے عداوت ہے وہ اس میں ایشوز نکالتا ہے، پاکستانی میڈیا کو ریاست کے مفادات پر احتیاط کرنی چاہئے، پاکستان سی پیک کو اقتصادی منصوبہ جبکہ مغربی میڈیا اسٹریٹجک منصوبہ سمجھتا ہے، ہم اسٹریٹجک لفظ معاشی اسٹریٹجک پارٹنر کے لئے استعمال کرتے ہیں، مغربی میڈیا سمجھتا ہے کہ پاکستان چین کا فوجی پارٹنر ہے، سی پیک کو مغرب کے نہیں پاکستان کے نکتہ نظر سے دیکھیں گے، چین کی ان معاملات پر تھوڑی حساسیت ہے، چین نے کبھی نہیں کہا کہ سی پیک منصوبوں کو شفاف نہیں رکھا جائے، سی پیک سے متعلق تمام اتھارٹی پلاننگ منسٹری کے پاس ہے، حکومت اور فوج کے درمیان بہت زیادہ تعاون ہے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ ن لیگ کی حکومت نواز شریف، مریم نواز اور اسحاق ڈار پر مشتمل تھی، پی ٹی آئی کی حکومت دو تین لوگوں کی نہیں مشترکہ حکومت ہے، وزیراعظم عمران خان اپنی کابینہ کے ساتھ ارکان اسمبلی کو بھی اہمیت دیتے ہیں، سول حکومت، فوج اور عدلیہ کے ساتھ پانچ چھ اہم وزارتوں کا ایک صفحہ پر ہونا بہت ضروری ہے، سول حکومت، فوج اور عدلیہ جب تک مشترکہ جدوجہد نہیں کرتے کامیابی نہیں ہوتی ہے، وزیراعظم اور چیف جسٹس ڈیم بنانے کے مثبت کام کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں، جوڈیشری حکومت کے ساتھ نہ ہو تو عدلیہ میں اصلاحات نہیں ہوسکتی ہیں، حکومت اور عدلیہ مل کر جیوڈیشل نظام میں اصلاحات لائیں گے،حکومت کا فوکس فی الحال سول اصلاحات پر ہے۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ عمران خان نے گندگی کا ڈھیر پارلیمنٹ کو نہیں ان لوگوں کو کہا تھا، پارلیمنٹ میں جو ماحول بن رہا ہے اس سے اسپیکر اور چیئرمین خوش نہیں ہیں، وہ مجھے کہتے ہیں اس طرح نہیں کرنا چاہئے، پارلیمنٹ میں اگر ٹانگیں کھینچی جاتی رہیں گی تو عزت نہیں ہوسکتی۔

تازہ ترین