اسلام آباد (خالد مصطفیٰ) ڈالر کی سطح میں زبردست اضافے سے نہ صرف ملک بھر میں مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں بجلی کے نرخوں پر بھی منفی اثر پڑنے والا ہے۔ پاور ڈویژن سے منسلک محکمہ کی تازہ ترین اسٹڈی کے مطابق ڈالر کی قیمت میں اضافے سے بجلی کے صارفین کواضافی 78ارب سے لیکر 120ارب روپے سالانہ ادا کرنے ہوں گے۔ عمران خان کی حکومت کے سات ہفتے مکمل ہوگئے لیکن وزیر خزانہ معیشت کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے کوئی حکمت عملی سامنے نہ لاسکےبلکہ آئی ایم ایف سے رابطہ کرنے کے بارے میں تذبذب کا شکار ہی رہےجس کے نتیجےمیں بے یقینی کی صورتحال پیدا ہو ئی ، اسٹاک مارکیٹ کریش کرگئی اور ڈالر کی قیمت 134.52 روپے تک جا پہنچی جو بعد ازاں 135روپے پر جا کر ٹہری۔ ان عوام کی وجہ سے عوام نے مہنگائی کی تکلیف کا مزہ چکھنا شروع کردیا ہے۔ ڈالر کی قیمت جو ایک دن میں 9.45روپے اضافے کے ساتھ 135روپے تک جاپہنچی، بجلی کے صارفین پر بڑا بوجھ ڈالنے کیلئے تیار ہے کیونکہ زیادہ تر بجلی درآمدی ایندھن جیسے ایل این جی، کوئلہ اور فرنس آئل سے پیدا کی جاتی ہے۔ اس حساب سے صارف کو اضافی 1.10روپے فی یونٹ ادا کرنے ہونگے۔ ان 1.10روپے میں سے صارف کو 0.50فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں ، 0.10نقصان کی مد میں اور 0.50استعداد کار اخراجات کی مد میں ادا کرنے ہوں گے۔ تحریک انصاف کی حکومت کے ترجمان برائے معیشت اور توانائی ڈاکٹر فرخ سلیم نے اعتراف کیا کہ حکومت کے آئی ایم ایف سے رابطہ کرنے کے بارے میں تذبذب نے بے یقینی کی کیفیت پیدا کی جس کے نتیجے میں ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوا ، تاہم انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشی صورتحال گذشتہ دس سالوں کی ان پالیسیوں کا نتیجہ ہے جو پی پی اور ن لیگ نے اختیار کیں۔ انہوں نے کہا کہ فروری 2017میں ملک میں 18ارب ڈالر کے ذخائر تھے لیکن اس وقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ڈالر کی قیمت نیچے رکھی جس کے لئے انہوں نے مارکیٹ میں 9سے 10ارب ڈالر ڈالےاور جس کے نتیجے میں انہی کے دور میں ڈالر کے ذخائر میں کم ہو کر 8ارب ڈالر کی سطح پر آگئے۔ انہوں نے کہا کہ جو کچھ پاکستانی روپے اور اسٹاک مارکیٹ کے ساتھ ہوا ہے وہ سابقہ حکومت کی بےترتیب معاشی پالیسی کا نتیجہ ہے۔ تاہم سینٹرل پاور پرچیز ایجنسی (سی پی پی اے) کی جانب سے کی گئی اسٹڈی کے مطابق صارفین کو فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں ادائیگیاں کرنا ہوں گی اور اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ادائیگی ہر ماہ کرنا ہوگی۔ جہاں تک 0.10روپے فی یونٹ کا تعلق ہے، صارف کو یہ ادائیگی نقصان کی مد میں کرنا ہوگی اور 0.50روپے فی یونٹ استعداد کار چارجز کی مد میں جن کی سالانہ بنیاد پر کٹوتی کی جائیگی۔ سی پی پی اے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ بجلی کے ریگولیٹر نے ڈالر کی قیمت 115روپے کے حساب سے نرخ طے کئے تھے لیکن اب موجودہ صورتحال میں ڈالر کی قیمت 135روپے کی سطح تک جا پہنچی ہے اور اگر پاکستان کے آئی ایم ایف سے رابطہ کرنے پر ڈالر 140سے 150روپے کی سطح پر پہنچ جاتا ہے تو بجلی کے نرخ خودبخود بڑھ جائیں گے۔ واضح رہے کہ بجلی پیدا کرنے کیلئے آر ایل این جی قیمت جو ڈالر کی 115روپے کے حساب سے طے کی گئی تھی وہ 8.15روپے فی یونٹ ہے جو اب بڑھ کر 9.57روپے فی یونٹ تک پہنچ جائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بہت زیادہ امکان ہے کہ فرنس آئل سے چلنے والی بجلی گھر نومبر اور دسمبر میں کام نہیں کریں گےجس کی وجہ سے ڈالر میں اضافے کا اثر ممکنہ نرخ میں شامل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کوئلہ جسے بجلی پیدا کرنے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے، بھی ایک درآمدی پروڈکٹ ہے لیکن اس کی قیمت دسمبر میں واضح ہوگی جو 6روپے فی یونٹ ہوگی جبکہ اس سے قبل اس کی قیمت5.1روپے فی یونٹ تھی۔ دسمبر کے مہینے میں پانی کے ذریعے بجلی کی پیداوار تقریبا نہ ہونے کے برابر ہوگی، فرنس آئل سے چلنے والے بجلی گھر مطلوبہ مقدار میں بجلی پیدا نہ کرسکیں کیونکہ طلب میں کئی گنا کمی واقع ہوگی لہذا ایل این جی، گیس ، نیوکلیئر اور کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں پر انحصار بڑھ جائیگا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈیزل اور فرنس آئل کا سستا متبادل آر ایل این جی ہے اور ایل این جی کی بنیاد پر پیدا کی جانیوالی بجلی کی مقدار 7ہزار سے 8ہزار میگاواٹ ہے جس کی قیمت 3سے 4روپے فی یونٹ ہے جو بلاشبہ فرنس آئل سے پیدا ہونیوالی بجلی کے مقابلے میں سستی ہے۔