آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات5؍ ربیع الثانی 1440ھ 13؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
فلم انڈسٹری کی ترقی کے لیے فنکار متحد ہوگئے
اداکار زاہد احمد،افشاں قریشی اور دیگر ساتھی فن کار

گزشتہ ہفتے ہم نے ایک تقریب میں ایسا دل کش منظر دیکھا کہ حیرانی کے ساتھ خوشی بھی ہوئی، وہ فن کار جو ایک دوسرے کے سخت مخالف تھے، سب متحد ہوگئے، ایک دوسرے سے خندہ پیشانی سے مل رہے تھے۔ یہ منظر ہم نے معروف ہدایت کار سہیل جاوید کی نئی فلم ’’سوری‘‘ کی تعارفی تقریب میں دیکھا، جہاں نظر پڑتی تھی، ٹیلی ویژن اور سلور اسکرین پر راج کرنے والے فن کار اور نام ور ہدایت کار نظر آرہے تھے۔ کہیں فلم ’’لوڈویڈنگ‘‘ کے ہیرو فہد مصطفیٰ جلوہ افروز تھے، تو کہیں ہمایوں سعید، عدنان صدیقی، اعجاز اسلم اور فیصل قریشی خُوب قہقہے لگار رہے تھے۔ اس موقع تمام فن کاروں کے چہرے مسرت اور خوشی سے دمک رہے تھے۔ عید الفطر پر ریلیز ہونے والی فلم ’’آزادی‘‘ کی ہیروئن سونیا حُسین، فلم ’’کیک‘‘ سے شہرت حاصل کرنے والی منجھی ہوئی اداکارہ آمنہ شیخ بھی بہت پرُعزم دکھائی دے رہی تھیں۔دوسری جانب تقریباً 50برس تک پاکستان فلم انڈسٹری پر راج کرنے والے سینئر اداکار ندیم، معروف ہدایت کار و اداکار جاوید شیخ اور ڈراموں اورفلموں کی مقبول اداکارہ ثمینہ پیر زادہ بھی جونئیر فن کاروں کی کُھلے دل سے پزیرائی کرنے کے لیے وہاں موجود تھیں۔ 

فلم انڈسٹری کی ترقی کے لیے فنکار متحد ہوگئے
آمنہ شیخ

فن کاروں کے علاوہ ڈراموں اور فلموں کے نامور پروڈیوسرز،ندیم بیگ ،نبیل قریشی اورڈراما سیریل خانی اور ’’رومیو ویڈز ہیر‘‘ کے پروڈیوسر عبداللہ کادوانی کی شرکت نے تقریب میں چار چاند لگائے تھے۔ ان گنت فلموں کے پروڈیوسر اور ایوریڈی پکچرز کے سربراہ ستیش آنند،انور مقصود کے صاحب زادے بلال مقصود بھی آپس میں فلموں کی کام یابی اور موسیقی پر گفتگو کررہے تھے۔ فلم ’’سوری‘‘ کی تقریب میں دوستی اور رشتے داری خُوب صورت انداز میں نبھائی گئی۔ فلم کی ہیروئن آمنہ شیخ کو سپورٹ کرنے کے لیے ان کے شوہر اور نامور اداکار مُحب مرزا، فلم کے ہیرو فیصل قریشی کی والدہ اور معروف اداکارہ افشاں قریشی اپنے بیٹے کو سپورٹ کرنے کے لیے خصوصی طور پر تشریف لائی تھیں۔ گزشتہ چند برسوں میں فلمی سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچ گئی ہیں، ستاروں سے جگمگاتی ان تقاریب نے فلم انڈسٹری کے احیا میں نمایاں کردار ادا کیا۔ فلم کسی بھی فلم ساز اور ہدایت کار کی ہو، اُن کے پریمیئرز یا تعارفی تقاریب میں تمام شو بزنس کی اہم شخصیات گلے شکوے دُور رکھ کر بھرپور تعداد میں شرکت کرتی ہیں۔ نئی آنے والی فلم ’’سوری‘‘ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ہدایت کار سہیل جاوید نے بتایا کہ میں نے درجنوں گلوکاروں کے گانوں کی ویڈیوز بنائی ہیں، انہیں بے حد پسند کیا گیا، کافی عرصے سے فلم بنانے کی منصوبہ بندی کررہا تھا، فیصل قریشی سے ایک ملاقات میں فلم سے متعلق تفصیلات بتائیں تو انہیں میرا آئیڈیا اچھا لگا۔ ’’سوری‘‘ ایک رومانٹک فلم ہے، جسے ہم پاکستان کی دل کش لوکیشن کے علاوہ بیرون ملک بھی شوٹ کریں گے۔ فلم کی مرکزی کاسٹ میں نئی نسل کے معروف اداکار زاہد احمد، آمنہ شیخ، سونیا حسین، فیصل قریشی و دیگر شامل ہیں۔ فلم میں کہانی اور موسیقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اس کی کہانی، اسما نبیل اور میں نے مل کر لکھی ہے۔ حال ہی میں اسما نبیل نے ڈراما ’’خانی‘‘ لکھا، جسے غیر معمولی مقبولیت ملی اور رواں برس ریلیز ہونے والی فلم ’’مان جائو نا‘‘ بھی لکھی ہے۔ فلم انڈسٹری کی کام یابی پر ہم سب خوش ہیں اور نئے لوگ سینئر کے ساتھ مل کر اچھی فلمیں پروڈیوس کررہے ہیں۔‘‘

اس موقع پر موجود فلم انڈسٹری کے شہرت یافتہ سینئر اداکار ندیم نے بتایا کہ مجھے آج کی تقریب میں فن کاروں کی اتنی بڑی تعداد دیکھ کر دلی خوشی ہو رہی ہے۔ درمیان کی چند برسوں میں فلموں کا معیار گر گیا تھا، لیکن اب بہت معیاری فلمیں بن رہی ہیں۔ ہم نے کم بجٹ میں بھی بھارتی فلموں کے مقابلے میں اچھی فلمیں پروڈیوس کی ہیں۔ فلم سازی کے عمل میں تیزی آرہی ہے اور یہ بہت ہی خوش آئند بات ہے کہ پاکستانی فلمیں باکس آفس پر بھی شان دار بزنس کررہی ہیں۔ آج فیصل قریشی کی محبت میں تقریب میں شرکت کرنے آیا ہوں۔ فیصل باصلاحیت اداکار ہیں اور مجھے امید ہے کہ وہ ڈراموں کی طرح فلموں میں بھی کام یابی حاصل کریں گے۔ مایہ ناز اداکار جاوید شیخ نے جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ہمیشہ جونیئرز کو سپورٹ کیا ہے۔ 

فلم انڈسٹری کی ترقی کے لیے فنکار متحد ہوگئے
اداکارندیم، فیصل قریشی اور ثمینہ پیرزادہ

میری سب سے دوستی ہے، سہیل جاوید میں بے شمار خوبیاں ہیں۔ وہ فلم انڈسٹری میں بھی اپنے کمالات دکھائیں گے۔ ہمارے ملک میں سینما گھروں کی کمی ہے، ملک کے چھوٹے چھوٹے شہروں میں سستی ٹکٹ والے سینما گھربنائے جائیں، تاکہ عام آدمی بھی فلم دیکھنے کا شوق پورا کرسکے۔ فلم انڈسٹری کو ترقی کرتے دیکھتا ہوں تو بہت خوشی ہوتی ہے۔‘‘ معروف اداکارہ و ہدایت کارہ ثمینہ پیرزادہ نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ کئی برس قبل میں نے فلم ’’انا‘‘ بنائی تھی، جسے شان دار کام یابی حاصل ہوئی تھی۔ اُس وقت چھوٹا سا پودا لگایا تھا، اب وہ ایک گھنا درخت بن چکا ہے۔ ہمیشہ فلم انڈسٹری ترقی کے لیے کام کیا اور آئندہ بھی کرتی رہوں گی۔ فلم ’’سوری‘‘ کے ہیرو فیصل قریشی نے بتایا کہ میں نے 18برس قبل درجنوں فلموں میں اداکاری کی تھی، وہ فلم انڈسٹری کا مشکل دور تھا۔ اب حالات بہتر ہوگئے ہیں، اس لیے فلم میں کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ مجھے ناظرین نے ٹیلی ویژن اسکرین پر بہت پیار دیا اورمداح کافی عرصے سے فلم میں کام کرنے کی فرمائش کررہے تھے، جب بھی کسی فلم کی تقریب میں شرکت کرتا تھا، تو سب مجھ سے پوچھتے تھے، آپ کب فلموں میں نظر آئیں گے۔ان کی خواہش پر فلموں میں کام کرنے کا فیصلہ کیا۔‘‘ اداکارہ آمنہ شیخ کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے کئیرئیر کی ابتدا فیصل کے ساتھ کی تھی اور اب ان کے ساتھ فلم میں کام کررہی ہوں۔ میں نے ہمیشہ اسکرپٹ دیکھ کر فلمیں سائن کی ہیں۔ مجھے سہیل جاوید کی فلم کا اسکرپٹ اچھا لگا، تو فلم میں کام کرنے کی حامی بھری۔‘‘ فلموں کی ابھرتی ہوئی اداکارہ سونیا حسین کا کہنا تھا کہ میں فلموں اور ڈراموں میں ایسے کردار کرنے کی خواہش رکھتی ہوں، جن میں کام کرنے کا مارجن زیادہ ہو۔ حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم ’’آزادی‘‘ میں میری پروفارمنس کو سراہا گیا، تو دوسری فلم سائن کی۔

فلم انڈسٹری کی ترقی کے لیے فنکار متحد ہوگئے
سونیاحسین

 سہیل جاوید میوزک انڈسٹری کا بہت بڑا نام ہے۔ اب وہ فلموں میں بھی منفرد اور اچھا کام پیش کریں گے۔ ’’سوری‘‘ میں سب فن کار مختلف روپ میں نظر آئیں گے۔‘‘ نامور فلم اسٹار فہد مصطفیٰ نے جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عید الاضحیٰ پر میری دو فلمیں ریلیز ہوئی تھیں، لیکن ان میں میرے دل کے قریب ’’لوڈویڈنگ‘‘ ہے، حالاں کہ میری دوسری فلم نے زیادہ بزنس کیا، لیکن مہوش حیات اور میں نے ’’لوڈیڈنگ‘‘ میں بہت محنت کی تھی۔‘‘ اداکار عدنان صدیقی کا کہنا ہے کہ مجھے سری دیوی کے ساتھ کی گئی فلم ’’موم‘‘ کا شان دار رسپانس ملا۔ سری دیوی کی محبتوں کو کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔ مداح مجھے جلد ایک بڑی فلم میں اہم کردار میں دیکھیں گے۔‘‘ فلم ’’سوری‘‘ کی تقریب کی خاص بات یہ تھی کہ وہ اپنے وقت پر شروع ہوکر اختتام پذیر ہوئی۔ آخر میں محفل موسیقی کا اہتمام بھی کیا گیا ۔ پاکستان فلم انڈسٹری کے اچھے دن شروع ہوگئے ہیں۔ سینئر اور جونیئر فن کار ایک دوسرے کی مدد کررہے ہیں۔ آئندہ چند برسوں میں انڈسٹری مزید ترقی کرے گی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں