آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر21؍ صفر المظفر 1441ھ 21؍اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

عمران خان ، اسد عمر اور فواد چوہدری مصر، سعودی لنچ فری تھا۔’’اے ایمان والو! ( ایسی بات) کہتے کیوں ہو،جو تم کرتے نہیں ‘‘ ۔’’قولاً سدیداً،مضبوط بات کا حکم اور جھوٹے پر اللہ کی لعنت ‘‘، یہ کتاب حکمت میں درج ہے۔ حدیث مبارکہ میں بہ صراحت موجود،ایک شخص آنحضرت ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوا۔ اپنے گناہوں کی لمبی فہرست بتائی۔ نصیحت کا طلبگار کہ کردار سازی کیسے کر پاؤں؟فرمان ذاتِ مبارکہ ﷺ ’’صرف جھوٹ بولناچھوڑ دو‘‘۔ یوٹرن ،ہیر پھیر، غلط بیانیاں،حیلہ سازیاں وطنی سیاست میں آج وطیرہ۔ اللہ ہمارے حکمرانوں کو سچ بولنے،مضبوط بات کرنے اور اپنی بات پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرما(آمین)۔امریکی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو ، فرانسیسی صدر کی کال نہ سننا، آئی جی اسلام آباد، DPO پاکپتن کے تبادلے وغیرہ سے لیکر IMF، سعودی عرب ،سی پیک،اسرائیلی جہاز وغیرہ غرضیکہ جس مد کو پھرولیں چالاکیاں، شعبدہ بازیاں چار سو نظر آئیں۔ زیادہ ذمہ داری ہمارے بھائی فواد چوہدی کے ناتواں کندھوں پر، ہلکان ہو چکے۔ تحریک انصاف نے ’’ جیسے تیسے‘‘اقتدار سنبھالا، تاریخ پاکستان کا انوکھااقتصادی بحران سامنے ۔ اقتدار سنبھالنے کی دیر تھی کہ قومی اقتصادیات خصوصاً مہنگائی، ڈالر، اسٹاک ایکسچینج شُتر بے مہار،ایک اَت مچادی۔ لگتا تھا حکومت بے لگام،سوار حکمرانوں کے پاؤں رکاب سے باہر۔پلک جھپکتے IMF کال کی۔امریکیوں نے سنا تو اپنے مطالبات کا حصہ ڈال دیا۔ بھاگم بھاگ سعودی عرب جانا پڑا۔واپس آئے تو متضاد بیانات کا جم غفیر سننے کو ملا۔ شروع میں دورہ سعودی عرب کامیاب بتایا ۔ چند دنوں کے اندر یکے بعد دیگرے سب عیاں۔فواد چوہدری صاحب بالآخر گویا ہوئے، ’’ فری لنچ موجود تھا اور نہ ہی امارات سعودی شرائط قابل قبول ہیں۔ ہر ملک اپنی تزویراتی اور اقتصادی ترجیحات کے تابع ہے‘‘۔فوراً IMF کے پاس جانا پڑگیا۔سعودی عرب سے قرض لینے والوں پر لعن طعن کرنے میں بھی فراخدل رہے۔ IMF سے مثبت جواب ضرور آیا مگر شرائط کڑاکے دار۔سعودی عرب اور IMFکی شرائط نے کیا مختلف ہونا تھا؟برادر ملک ہمیشہ سے یمن جنگ میں مدد کا طلبگار۔ 8دہائیوں سے برادر ملک چھوٹی بڑی لڑائیاں دوست ممالک کی افواج اُدھارشدھار پکڑ کر لڑنے کا عادی و متمنی رہا۔جب راحیل شریف نے ریٹائرمنٹ لی، اُدھر ایسے اتحاد کی کمان سنبھالی جس کا حصہ پاکستان بننے سے انکاری تھا۔ کیا خوش بختی؟ ترکی میں سعودی سفارت خانے میں جمال خشوقجی کا قتل ، اگلا دن پاکستان کے لیے نوید و امید صبح نو بن کر آیا ۔ہماری قیادت نے ہنر مندی دکھائی۔ ضرورت کی اس گھڑی میں برادر ملک کے ساتھ کندھے سے کندھا ملانے کی ٹھانی۔ پاکستان کے لیے صورتحال یکسربدل گئی۔شرائط مختلف ضرور، پہلے سے کڑی۔قوم کو میری زندگی میں کیے وعدے وعید معلوم نہیں ہوپائیں گے۔عمران خان مع لواحقین الفاظ چبانے،یوٹرن لینے،مؤقف بدلنے پر قادر۔دو سال پہلے جلسوں میں ہاتھ لہراتے، قوم کو بتاتے نہ تھکتے کہ ایک بار پھر پیسوں کے بدلے قوم کو دوسروں کی جنگ( یمن) میں دھکیلا جارہا ہے۔ میرے عزیز ہم وطنو! وزیر اعظم عمران خان کے افتتاحی خطاب میں پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کے دعوے کو سنجیدگی سے نہ لینا۔یہ صرف نعرہ تھا۔ تحریک انصاف میں ایک فرد دکھائیں، رتی برابر کردار ریاست مدینہ سے مطابقت رکھتا ہو،اکثر دین سے بے زار۔ بدقسمتی کہ ناگفتہ بہ قومی رہنماؤں کی جتنی تعداد تحریک انصاف میں، اس سے پہلے شایدق لیگ کو نصیب نہ رہی۔ آج کی تاریخ میں عمران خان کا مرتبہ و درجہ شوکت عزیز سے کچھ مختلف نہیں۔سارا’’ انہی کا کرم‘‘ کہ برادر ملک سے ہر قسم کا معاہدہ کرنے کی سہولت بدرجہ اُتم موجود ہے۔عمران خان ماضی میں IMF ، نیب ، عسکری قیادت کی سیاست میں دخل اندازی، جنگ افغانستان میں پیسوں کے بدلے جنگوں اور عرب تنازعوں میں حصہ لینے کے خلاف فضائل شد ومد سے بیان کرتے رہے۔ آج یوٹرن،برخلاف افادیت بتاتے نہیں تھکتے۔توجہ ہٹانے کے لیے گلا پھاڑ پھاڑ مخالفین کو برا بھلا کہتے نہیں چوکتے کہ مسائل سے توجہ ہٹی رہے۔

کس زور شور سے IMF جانے پر خود کشی کا وعدہ کر بیٹھے تھے۔یار لوگ، ازراہ تفنن IMF جانے پر خودکشی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ خاطر جمع ،مجبوری میں لیا پیسہ ،وطنی مفادات نے بھینٹ چڑھنا ہے۔ایسے پیسے کی چکا چوند چار دن کی چاندنی،پھر اندھیری رات۔ دورہ نمبر 2 کی واپسی کے بعد دھوم دھام سے جشن منانے کی بار بار تلقین جاری ہے۔ جشن کس بات کا؟ کیافاقہ کشی رنگ لے آئی ہے۔اترانا بنتا ہے؟حیف ،صد حیف ،کس منہ سے وزیر اعظم اپنی نشری تقریر میں قوم کو مبارک باد دیتے رہے۔یا اللہ !وطنی دھرتی پر اگلی دفعہ کب سچ سننے کو ملے گا؟ عمران خان نے جب قوم کوقرضہ جات کا مژدہ سنایا، ان کی باڈی لینگوئج اور الفاظ نے ساتھ نہیںدیا۔ ’’ پاکستان سعودی عرب اور یمن کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرے گا ‘‘، ثالثی کا لفظ ادا کرتے زبان لڑ کھڑا گئی۔

حسب معمول و ضرورت،اپوزیشن کے خلاف گلا پھاڑ،شاید سعودی قرضہ پیکیج کی تفصیلات سے توجہ ہٹانا مقصد تھا۔شاباش! قوم میں موجود باہمی تصادم کو ہوا دینے کا کوئی موقع نہیںگنوانا۔واردات سے توجہ بھی ہٹی رہے گی۔کس ہوشیاری سے 22کروڑ لوگوں کو بیوقوف بنانے کے چکر میں ہیں۔ 70سال سے اسی عقیدے کو پروان چڑھایا۔تصورکہ پاکستانی عوام جاہل، نابلد،اپنی قیادت منتخب کرنے کی اہل نہیں۔ نتائج سے بے پروا کہ ملک پر کیا بیت چکی ،کیا بیتنے کو۔ آج جب عوام کو اداروں پر منقسم دیکھتا ہوں ، دل دہل جاتا ہے۔ اس بار یوم دفاع پر قوم کو متحد اور یکجا کرنے کی دل جمعی سے کوشش ضرور رہی مگر بے سود۔کہ گلی کوچوں تک لڑائی پہنچ چکی، مستحکم ہے۔

دوسال پہلے اس سے آسان شرائط سامنے پاکستانی قیادت سینہ سپر تھی۔عمران خان اور ڈاکٹر شیریں مزاری کی اس وقت کی تقاریر آج بھی گونج رہی ہیں۔ آہ! بندہ بے بس ،ایسے شعبدہ باز وں سے مقابلہ کیسے ممکن؟دو سال قبل جب نواز شریف کے دورہ سعودی عرب کے وفد کا حصہ بنا۔امریکی صدر ٹرمپ کی زیر قیاد ت،شاہ سلیمان کی میزبانی میں درجنوں مسلم ممالک سعودی عرب کی حمایت اور ALLEGIANCE میںریاض تزویراتی کانفرنس کاحصہ بنے۔ اس سے بھی چند ماہ پہلے نواز شریف چین میں ایسی ہی ایک بڑی تزویراتی سربراہی کانفرنس کا حصہ تھے ۔اگرچہ صدر شی چنگ پنگ کی میزبانی میں روسی صدر پیوٹن، ترک صدر اردوان ،ایرانی صدر روحانی درجنوں دوسری عالمی شخصیات موجود تھیں مگرتوجہ کا مرکز صرف اور صرف نواز شریف بنے۔وہاں اہم ترین مقام حاصل رہا۔برادر ملک میں صورتحال بالکل برعکس۔ جن سربراہان نے ریاض سعودی کانفرنس میں تقاریر کرنی تھیں، ان میں نواز شریف کا نام بھی تھا۔دوران سفر نواز شریف کو سرتاج عزیز اور دیگر اسٹاف کے ساتھ تقریر تیار کرتے پایا۔ بدقسمت اُمت، ریاض میں نواز شریف کو موقع نہ دیاگیا۔ نواز شریف نظر اندازرہے،جنرل راحیل شریف جتنی اہمیت نہ ملی۔یہ سلوک نواز شریف کے ساتھ نہیں، پاکستان کے ساتھ تھا کہ ہم شرائط ماننے سے انکاری تھے۔ پچھلے دو سالوں میں عرب بھائیوں کا پاکستان بارے سخت گیر رویہ اور بھارت میں سرمایہ کاری، کئی بلین ڈالروں کی بوچھاڑ کی وجہ بھی پاکستان پر غصہ۔ آج دونوں خلیجی ممالک بھارت میں 100بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرر ہے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ حالیہ دورہ نمبر 2 میں ایسی تمام شکایات کا کما حقہ ازالہ کر چکا ہوگا کہ بقول فواد چوہدری’’ مفت کا لنچ ناقابل تصور‘‘۔ کیا پاکستانی قوم کبھی جان پائے گی، وزیر اعظم کو کن شرائط پر لنچ میسر آیا ہے؟

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)